جنگل کا بادشاہ پریشان


نواز حکومت اپنے دور حکومت کے آخری دور سے گزررہی ہے۔اور اسکی مشکلات اور پریشانیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔مقدمات،دھرنا ختم نبوت،جلد نئے انتخابات کا مطالبہ،پیپلز پارٹی سے دوریاں،اتحادیوں کا چھوڑ جا نے کا خطرہ،پارٹی میں دراڑیں ،قومی حکومت کی سر گوشیاں ،سینیٹ الیکشن ،پارٹی پر گرفت کمزورہونا سب نے ملکر نواز شریف کو پریشان کر رکھا ہے۔27رکنی مرکزی مجلس عاملہ پہلے ہی موجود تھی اب انہوں نے پارٹی پر کنٹرول رکھنے کے لئے 109رکنی سی ای سی بنا ڈالی ہے دونوں کمیٹیوں کے سر براہ بھی خود نواز شریف ہیں،دونوں کمیٹیوں میں وہ افراد شامل ہیں جو بادشاہ سلامت کی خوشامد میں زمیں آسماں کی قلابے ملاتے ہیں اور نوازشریف کی پالیسیوں سے اختلاف کی جرات نہیں کر سکتے ان میں ایک دو ایسے افراد کو بھی شامل کیا جاتا ہے جن کے بارے یہ تاثر ہوتا ہے کہ یہ نواز شریف کی پارٹی پالیسی سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن انہی کو قابو کرنے کیلئے باقی لوگ موجود ہوتے ہیں۔یوں تو تمام سیاسی جماعتوں میں مشاورتی اجلاس ہوتے ہیں۔لیکن نہ مشاورت ہوتی ہے نہ مشاورت مانگی جاتی ہے ۔اجلاس میں پارٹی سربراہ اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے کسی کو بولنے کا موقع نہیں دیا جا تا ہے ۔پہلے سے طے کر لیا جاتا ہے کہ فلاں نے بو لنا ہے اور با قیوں کو سمجھا دیا جاتا ہے کہ پارٹی سر براہوں کے فیصلوں کی تائید کرنی ہے۔اور اسکے بعد مشاورتی اجلاس ختم ہو جاتا ہے اور اعلامیہ جاری کر دیا جاتا ہے ۔البتہ عمران خان کے اجلا سوں میں لوگ بولتے ہیں لیکن فیصلہ وہی ہوتا ہے جو عمران خان نے کہا ۔بس جی اجلا سوں میں خو شامدی پارٹی سربراہ کی صرف تعریفیں ہی کرتے ہیں اور انہیں باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ سے ذیادہ کوئی ماہان ہستی نہیں۔ن لیگ کے بارے میں یہی ہے کہ یہ پارٹی نواز شریف کی ملکیت ہے وہی ہو گا جو وہ چا ہیں گے البتہ موجودہ صورتحال میں پارٹی کے لوگ کنفیوژ ہیں پا رٹی مفا ہمتی پالیسی پر چلے گی یا مزاحمتی پالیسی پر ۔لیکن نواز شریف کے بیانات سے یہی ظاہر ہورہا ہے کہ ان کے پاس اب کو ئی آپشن نہیں ا سلئے انہیں مزاحمتی پالیسی ہی سوٹ کرتی ہے ۔نواز حکومت کی کچھ سمجھ نہیں آرہا حکومت کون چلا رہا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ اس وقت تین افراد حکومت چلا رہے ہیں نواز شریف ،شہباز شریف اور مریم نواز جبکہ پنجاب کی صورتحا ل یہ ہے کہ شہباز شریف اور ان کے دونوں صاحبزادے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز بھی حکومت کا حصہ ہیں ۔سیاسی طور پر ابھی دونوں بھا ئیوں کے خاندان آپسی اختلافات کا شکار ہیںیہ جو قربت نظر آرہی اسکی وجہ حدیبیہ کیس ہے ۔جسکی وجہ سے سارے خاندان کو پکڑے جا نے کا خطرہ ہے نا اہلی کی تلوار لٹک رہی ہے سو حا لات کو دیکھتے ہوئے صلاح مشورے ہو رہے ہیں۔پنجاب حکومت میں مریم نواز بھی کود پڑتی ہیں تب انتظا میہ پریشان ہوتی ہے کس کا حکم مانیں؟مریم نواز پر نواز شریف کو بہت بھروسہ ہے وہ سیاسی طور پر انہیں مظبوط کرنا چاہتے ہیں،پہلی بار انہیں اور حمزہ شہبا ز کوCEC میں شامل کیا گیا ہے۔حمزہ شہباز کو تو مجبوری کے طور پر بیلنس برقرار رکھنے کے لئے لیا گیا ہے جہاں مسلم لیگ کی مشکلات ہیں وہاں رانا ثنا ء اللہ بھی ان کے لئے وبال جان بنے ہوئے ہیں کہا جا تا ہے کہ ایک بھائی ان سے جان چھڑانا چا ہتا ہے جبکہ دوسرا رکھنا چاہتا ہے ۔ختم نبوت والے ان کا استعفے ما نگ رہے ہیں ۔شہباز شریف اب خود اس معاملے کو ہیندل کر رہے ہیں اور انہوں نے پیر حمید الدین سیا لوی سے دو چا ر روز مانگے ہیں وقتی طور پر مسئلہ مو خر ہو گیا ہے ۔دیکھیں شہباز ،پیر حمید الدین سیالوی کو منا لیتے ہیں یا نہیں ۔پہلے ہی حالات بہت خراب ہیں،فیض آباد دھرنے نے حکومت کے گراف کو بہت گر ادیا ہے حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آئی ۔مشکل یہ ہے کہ ہماری سیا سی و مذہبی جماعتوں کے قول وفعل میں تضا د ہے ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن کا ایجنڈاحا وی ہوتا جا رہا ہے قوم حیران ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ انتہائی حساس تھا پار لیمنٹرین نے اسکی اہمیت کا احساس ہی نہیں کیا ۔یہ ہر گز کلیر یکل غلطی نہیں ہو سکتی ن لیگ حکو مت کی سوچی سمجھی سازش تھی جس کا خمیازہ اب یہ بھگت رہے ہیں ۔سب سے زیادہ اب بادشاہ سلامت کو اسی نے پریشان کر رکھا ہے جو بھی حا لات ہو تے ہیں نواز شریف اسکا ذمہ دار عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اب تو یہ حا ل ہے کہ جو بھی نواز شریف کے موقف کی تا ئید نہیں کر تا وہ غیر جمہوری ہے اور اس سے جمہوریت کو خطرہ ہے جمہوری ہونے کیلئے ن لیگ کا سر ٹیفیکٹ لینا ضروری ہو گیا ہے ۔نواز شریف کی مشکل یہ ہے کہ وہ حالا ت کی نزاکت کو نہیں سمجھ رہے یا جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں وہ خود کو اب بھی وزیراعظم سمجھتے ہیں۔دھرنے کے دنوں میں کسی نے بھی موجودہ وزیرا عظم شاہد خاقا ن عبا سی کواسلام آباد میں نہیں دیکھا نہ ہی انہوں نے کوئی بیان دیا اس نازک صورتحال میں بھی وہ جا تی امرا میں نواز شریف کے چرنوں میں بیٹھے تھے عملا وزیراعظم صرف دستخط کر نے کے لئے رکھا گیا ہے اس سے ذیا دہ ان کا کوئی کردار نہیں ہے ،تما م فیصلے نواز شریف کرتے ہیں ۔نواز شریف کو پریشانیاں کم کر نے کیلئے اب آرام سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا عدالتوں اور فوج کو برا بھلا کہنا چھوڑیں اور سنجیدگی سے اپنے مقدمات کا سامنا کریں۔پرکیا کریں اب وہ نظریاتی بھی ہو گئے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ہمار ے پاس کچھ ہے تو تمہیں کیا ؟بظا ہر ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ چاہتی ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں لیکن ایسا ہے نہیں کیونکہ اگر ابھی الیکشن ہوئے تو اسکا فائدہ عمران خان کو ہوگا جو ان دونوں جماعتوں کو قبول نہیں ۔سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری جاری رکھیں ہو ئے ہیں۔سنجیدگی ،رواداری،تہذیب اصول سب کو با لا ئے طاق رکھ دیا گیا ہے۔