حارث حسن (مرحوم)


امریکہ آئے ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ نانی اماں اللہ تعالیٰ کو پیاری ہوگئیں بڑی خوش نصیبی تھی کہ مجھے ان کی خدمت کا موقع ملا اور میں ایک ہفتہ ان کے ساتھ بھی رہا ساری رحمتیں برکتیں اور دعائیں ملتی رہیں ان کی وفات یکم جنوری کو ہوئی تھی یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ سال کا پہلا دن ہی اس قدر کٹھن ہوگا اگلا دن سارا ان کی میت وصول کرتے غسل کرواتے نماز جنازہ کا انتظام کرواتے اور ان کو دفناتے ہوئے گزرگیا تیسرے دن ان کی قرآن خوانی تھی سب عزیز و اقارب دور دور سے آئے ہوئے تھے سارا دن انتظامات اور خدمت میں مصروف رہے رات ایک بج گیا سوتے سوتے ابھی ایک گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ میرے بیٹے کی کال آگئی پاکستان سے وہ رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا حارث ماموں کو سر میں شدید چوٹ لگی ہے ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے میں بیگم صاحبہ کے ساتھ امریکہ میں آیا تھا اور اپنے دونوں بیٹوں کو حارث کے پاس چھوڑ کر آیا تھا میں نے بیٹے کو کہا آپ وضو کرو اور اللہ پاک سے دعا کرو تھوڑی دیر بعد دوبارہ کال آئی انہوں نے بتایا کہ گھر 1122 کی ایمبولینس آئی ہوئی ہے میں نے پوچھا کیا وہ حارث کو ہسپتال لے جا رہے ہیں بیٹے نے کہا وہ کافی دیر سے یہیں کھڑے ہیں گھر اور پھر ساتھ ہی اطلا ع آئی کہ ایمبولینس چلی گئی ہے اورحارث اللہ کو پیارا ہوگیا ہے بیگم صاحبہ کا تو بھائی تھا اس نے تو اپ سیٹ ہونا ہی تھا لیکن مجھے بیگم صاحبہ سے بھی شدید صدمہ تھا حارث کوئی معمولی انسان نہیں تھا ابھی 4 دن بعد اس کی سالگرہ تھی اور اس نے چونتیس سال کا ہونا تھا ایک بیٹی تھی چار سال کی اتنی جلدی اس نے اس دنیا فانی سے کوچ کر جانا تھا یہ کسی نے بھی نہیں سوچا تھا میں نے فلائٹ کا پتہ کیا تو خوش قسمتی سے شام 6 بجے کی فلائٹ مل گئی لیکن پھر بھی میں جنازہ پر نہیں پہنچ سکا کیونکہ سفر کم از کم 24 گھنٹے کا تھا اور حارث کا جنازہ بعد از جمعتہ المبارک تھا جسے لیٹ بھی نہیں کیا جا سکتا تھا میں ایئر پورٹ سے سیدھا مسجد پہنچا جہاں اس کی قرآن خوانی 9 بجے سٹارٹ ہو چکی تھی پچھلے بیس سالوں سے جہازوں میں سفر کرتا آ رہا ہوں لیکن یہ میری زندگی کی سخت ترین فلائٹس میں سے ایک فلائیٹ تھی نہ نیند آ رہی تھی نہ ہوش آ رہا تھا نا کھانے پینے کو دل کر رہا تھا میں ایک سیٹ پر بیٹھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے زبر دستی قید کر دیا ہوسان فرانسسکو سے استنبول ( ترکی ) کی بارہ گھنٹے کی فلائیٹ تھی اور پھر استنبول سے لاہور کی چھ گھنٹے کی فلائیٹ تھی یہ پا کستان کے لیے سب سے کم سفر تھا بیگم صاحبہ کو نیند کی گولیاں دے دی تھیں تاکہ ا ن کی طبیعت مزید خراب نہ ہو اور وہ فلائیٹ میں ہی سوچنے کی بجائے کچھ آرام کر لیں کیونکہ مجھے آگے کے حالات نظر آرہے تھے وہ سب بہن بھائیوں اوروالدہ سے بہت زیادہ اٹیچ تھیں ایسے میں سفر کی تھکاوٹ اور جگرا تا انہیں مزید نقصان پہنچاسکتے تھے سارے راستے بار بار انہیں یہی سمجھایا کہا کہ اللہ تعالیٰ کا سسٹم کوئی نہیں سمجھ سکتا آپ نے خود بھی حوصلہ کرنا ہے اور اپنے بہن بھائیوں اور والدہ صاحبہ کو بھی حوصلہ دینا ہے اب ہم دعا اور صبر کے سوا کچھ نہیں کر سکتے سن 2017 ء حارث کے عروج کا سال تھا کاروباری معاشی و مالی معاملات میں جہاں اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی رحمت فرمائی تھی وہاں سیاسی اور سماجی حوالے سے بھی وہ شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا تھا ابھی تین ماہ قبل ہی اس نے تاجروں کے پلیٹ فارم سے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ساہیوال کے ایگز یکٹیو ممبر کا انتخاب لڑا تھا اور بارہ امیدواروں میں وہ پہلے نمبر پر آیا تھا شہر کے تاجروں نے کھل کر اس سے محبت اور یکجہتی کا اظہار کیا تھا وہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ساہیوال کا سب سے کم عمر منتخب ممبر تھا جیتنے کے بعد اس نے سارے تاجروں کا فرداً فرداً شکریہ بھی ادا کیا تھا اس پلیٹ فارم سے حارث کو بہت سے نئے دوست ملے تھے جو بھی حارث کو ایک دفعہ ملتا وہ حارث کا دوست بن جاتا تھا پھر نہ وہ حارث کو بھولتا اور نہ حارث اسے بھولتا تھا حارث کی بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ سب سے ملاقات میں خود پہل کرتا تھا سب سے رابطہ رکھتا تھا جس کے پاس سے بھی گزرا اس سے سلام دعا ضرور کی کبھی منہ موڑ کر نہیں گزرا یا یہ نہیں سوچا کہ میں اگلی دفعہ اس کو مل لوں گا اس کی وفات سے ایک دن قبل فرید ٹاؤن مسجد شہدا میں اس نے ایک جنازے میں شرکت کی جہاں لوگوں کی بڑی تعدادسے اُس کی ملاقات ہوئی تھی اور اس سے بھی ایک روز قبل اس نے شہر کی مشہور شخصیات کی دو شادیاں ایک ہی دن میں اٹینڈ کیں مجھے جو بھی شخص ملا اس نے یہی بتایا کہ اس کی ابھی حال ہی میں حارث سے ملاقات ہوئی تھی وہ تو بالکل ٹھیک ٹھاک تھا مذاق وغیرہ کرتا تھا کسی کو بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ حارث اب اس دنیا میں نہیں ہے ساہیوال شہر ایک نہایت ٹیلنٹڈ مخلص اور اچھے نوجوا ن سے محروم ہوگیا اس کی وفات لوگوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑ گئی خاندان میں بھی حارث سب کا مرکز تھا چاہے اس کے عزیز شہر میں تھے بیرون شہر تھے یا پھر بیرون ملک وہ سب سے ایسے اٹیچ تھا جیسے اس کے علاوہ کوئی ان کے اتنا قریب نہیں تھا اس کے دو چھوٹے بھائی تھے جو اپنے بڑے بھائی کے نہایت فرما نبردار تھے کوئی خوشی یا غمی کا موقع ہوتا سارے خاندان میں حارث حارث ہوتی تھی حارث کی وفات کے بعد اس کو اپنے والد کے پہلو میں دفنا یا گیا یہ وہ جگہ تھی جو اس کی والدہ نے اپنے لیے مختص کی ہوئی تھی لیکن کسی کو کیا خبر تھی کہ بیٹے نے پہلے اللہ کے پاس پہنچ جانا ہے دنیا میں آنے کی تو باری ہوتی ہے لیکن جانے کی کسی کی باری نہیں کسی کو نہیں پتا کس کی پہلے باری آ جائے اللہ تعالیٰ حارث حسن پر اپنی رحمت فرمائے ۔ آمین