پیاری زینب ۔۔۔میں حرف حرف شرمندہ ہیں


گذشتہ سال اپنے والدین کے ہمراہ عمرہ ادائیگی کے دوران میں نے اپنے ماں باپ سمیت لاتعداد ماں باپ کو اللہ رب العزت اور بارگاہ سرور کونین ؐ میں اپنے بچوں کیلئے آنسوؤں سے لپٹی آنکھوں سے گڑگڑا کردعائیں مانگتے میں نے اپنی آنکھوں سے خود دیکھا ہے ۔اور یقیناًہر ماں باپ کیلئے ان کی اولاد ہی سب قریب ترین اور بہت بڑا سرمایہ ہوتی ہے اور پھر بیٹیاں تو بیٹیاں ہی ہوتی ہیں۔عمرہ ادائیگی کیلئے جاتے وقت مہوین اور نور العین کی فرمائش تھی کہ ان کے لئے پیاری پیاری ’’گڑیا‘‘اور علی کیف و علی حسن کیلئے ایروپلین اور گاڑیاں لانی ہیں وہ بھی اللہ کے گھر سے معصوم بچوں کی معصومیت سے لبریز زبان میں خواہشیں ۔۔۔وہاں پہنچ کر بھی بچوں کے مجھے گھر سے بھی کئی بار فون کرکے بچے دیمانڈز کرتے رہے اور ان کے ساتھ کیئے جانیوالے وعدوں کی یاد دہانی کرواتے رہے ۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ یقیناًعین اسی طرح پنجاب کی عظیم ترین صوفی بزرگ حضرت بابابلھے شاہ سرکار ؒ ؒ کی نگری میں ایک معصوم ’’گڑیا‘‘نے اپنے والد جو عمرہ ادائیگی کیلئے سعود ی عرب گئے ہوئے تھے ڈیمانڈز کی ہونگی ،پیارے بابا آپ عمرے سے واپسی پر میرے لئے بہت ہی پیاری سی بڑی سی اور نیلی نیلی آنکھوں والی گڑیا لے کر آئیں گے نا۔۔۔آپ نے کبھی بھی میری بات نہیں ٹالی ، مجھے یقین ہے کہ آپ میری جیسی گڑیا ضرور لیکر آئیں گے، ساتھ میں مجھے بہت سارے چوکلیٹ اورکھلونے بھی لینے ہیں ، بابابتائیں نا لیکر آئیں گے نا۔۔۔بابا میں نے اپنی سہلیوں کو چھوٹے چھوٹے ’’جائے نماز ‘‘بھی تحفے میں دینے ہیں ، بتائیں آپ لیکر آئیں گے نا۔۔۔ادھر دوسری جانب اس معصوم گڑیا کے والدین اللہ رب العزت اور حضور کی بارگاہ اقدس میں اس کے روشن مستقبل کیلئے بہت سی دعائیں مانگے رہے تھے ۔تو ادھر معصوم’’ زینب ‘‘عظیم صوفی 
بزرگ حضرت بابابلھے شاہ سرکار ؒ ؒ کی’’ روشن نگری‘‘ میں ابھی اس انتظار میں تھی کہ اس کے بابا عمرے سے واپسی پر اس کے لئے بہت سے کھلونے لیکر آئیں گے، وہاں سے آب زم زم اور کھجوریں بھی آئیں گی جن کو وہ اپنی سہلیوں میں بخوشی اور فخر سے ان کے گھروں میں جاکر دیگی۔ تو کبھی ان سہلیوں کو اپنے گھر بلا کر ’’گڑیا ‘‘دکھائے گی تو کبھی کھلونے لیکر ان سے کھیلے گی۔ابھی اس کی ننھی ننھی خواہشیں پروان چڑھ ہی رہی تھیں ۔ابھی وہ یہ سب سوچتے حصول علم کیلئے جارہی تھی کہ کسی درندے کی نظر لگ گئی۔اُدھر اس معصوم زینب کے والدین ابھی اپنی ’’گڑیا‘‘ کیلئے دعائیں مانگنے اور اس کیلئے پیاری سی نیلی نیلی آنکھوں والی گڑیا خریدنے میں

مصروف تھے کہ ان تک ان کی اپنی ’’گڑیا‘‘کی خبر پہنچ گئی ۔ننھی زینب کے والدین کو کیا معلوم کہ عمرے سے واپسی پر وہ اپنی بیٹی کیلئے انصاف کی اپیلیں کرتے پھریں گے ۔ ۔۔ایس پی، ڈی ایس پی اور ڈی پی تک ’’سب اچھا‘‘کی رپورٹس اور وائرلیس چلانے والی پولیس کے مطابق درندگی کا نشانہ بننے والی ’’زینب‘‘4جنوری کو ٹیوشن جاتے ہوئے اغواء ہو گئی اور 4دن بعددرندگی ، حوانیت کا شکار ہوکر یہ معصوم اور ننھی کلی کشمیر چوک کے قریب ایک کچرے کے ڈھیر پر مرجھائی ہوئی ملی ۔اس حوانیت پر حضرت بابابلھے شاہ سرکار ؒ کی نگری میں نہ تو کوئی زلزلہ آیا اور نہ ہی کوئی بجلی گری۔گرتی بھی کیسے جب قانون کے محافظ بند کمروں میں بیٹھے ’’ہیٹر‘‘کی گرمی سے لطف اندوز ہوتے اور قانون کو اپنی ’’رکھیل ‘‘بناتے ہوئے ہمارے وزراء اور مشیروں کے ’’پرٹوکول ‘‘کی فراہمی پر مطمئن ہوجائیں کہ باقی ہرطرف بھی ’’سب اچھا‘‘ہے تو پھر ہماری ان معصوم بیٹیوں کا بھی اللہ ہی’’ وارث‘‘ ہے ۔انہی قانون کے رکھوالوں کی ابتدائی رپورٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ا س معصوم کو حوانیت کا نشانہ بنانے کے بعد گلہ دبا کر ہمیشہ کیلئے خاموش تو کردیا گیا مگر اس کی معصومیت بھری نگاہیں چیخ چیخ کر ایوان اقتدار سے پوچھ رہی ہے کہ میر ے قاتلوں کو سرعام پھانسی کون دے گے۔۔۔؟میری ننھی ننھی خواہشوں اور خوابوں کو بکھیرنے والوں کے گلے میں رسی ڈال کر ’’نشان عبرت ‘‘کو ن بنائے گا ۔ میرے بابا کے عمرے سے واپسی پر ان کے گلے میں ہار میں کون ڈالے گا۔۔۔؟ اب کو ن میری سہلیوں کو آب زم زم اور کھجوریں دینے جائے گا۔۔۔؟ اب کون میری ’’گڑیا‘‘سے کھیلے گا ۔۔۔؟اور پھر سب سے بڑھ کر کون میرے بابا کو 4کلمے اور درود شریف سنائے گا۔۔۔؟اس ساری صورتحال کے بعدپورا شہر سراپا احتجاج بن گیا ۔قانون کے رکھوالوں کی دیدہ دلیری کہ معصوم کو انصاف دلوانے کی جرات کرنیوالوں پر بھی سیدھے فائر کھول دیئے جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے اور انہی میں دو افراد جاں بحق ہوگئے ۔۔۔سیدھے فائر کھولنے کی وجہ یہی بتائی جاتی رہی کہ قصور کے شہری معصوم زینب کیلئے انصاف کا ’’علم ‘‘ لئے جگہ جگہ احتجاج کررہے تھے اور بعد ازاں ڈسی آفس کا گیٹ توڑ کر اندر گھس گئے ، یقیناًوہاں بھاری رقوم کی ’’بوریاں ‘‘پڑی ہونگی ، خزانے سے بھرے بیگ اور اے ٹی ایم مشینوں کے لُٹ جانے کے خوف سے پولیس اہلکاروں نے ہاتھ میں ڈنڈے اور پتھر اٹھائے شہریوں پر سیدھے فائر کھول دیئے جس کے نتیجے میں معصوم زینب کے ساتھ ساتھ دو اور شہری بھی جان کی بازی ہار گئے ۔انہیں عوامی خدمت گاروں کی رپورٹ کے مطابق یہ پہلا واقع نہیں بلکہ صدرتھانے کی حدود میں تقریباً 12واں واقعہ ہے ۔افسوس صد افسوس ۔۔۔کہ اتنے فخر سے رپورٹ دی گئی ۔کاش اے کاش کسی ایک بھی درندے کو پکڑ کر چوک کے چوراہے میں لٹکایا ہوتا تو شاید’’ معصوم زینب‘‘ ان درندوں سے بچ جاتی ۔محترم قارئین ! اس سانحہ پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثارنے میڈیا پر چلنے والی خبروں کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے 24گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی ہے ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قصور میں مبینہ طور پرزیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی زینب کے واقعے کی سخت مذمت کی ، ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفورکی جانب سے جاری بیان میں کہاگیاہے کہ آرمی چیف نے مقتولہ بچی کے والدین کی جانب سے انصاف کی فراہمی کی اپیل پر ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور انہیں عبرتناک سزا دلوانے کیلئے فوج کو سول انتظامیہ سے ہر ممکن تعاون کی ہدایت کی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے فوری طور نوٹس لیتے ہوئے کمیٹی قائم کردی ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھاکہ قاتل قانون کے مطابق قرار واقعی سزا سے بچ نہیں سکیں گے اور وہ اس کیس میں پیش رفت کیلئے خود نگرانی کریں گے ۔جبکہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سیشن جج قصور اور پولیس سے فوری طور پر رپورٹ طلب کرلی۔۔۔ترجمان حکومت پنجاب کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے ایڈیشنل آئی جی ابوکر خدابخش کی سربراہی میں ’’جے آئی ٹی ‘‘تشکیل دے دی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ’’جے آئی ٹی ‘‘ میں ’’آئی ایس آئی‘‘اور ’’آئی بی ‘‘ کے افسران شامل ہونگے ۔ اسی صورتحال پر وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد کو ہٹا دیا۔تادم تحریر صورتحال یہاں تک ہی تھی مگر لمحہ فکریہ ہے کہ اب تک ہمارے وزرا ء اور بڑے بڑے قلمدان رکھنے والوں میں سے کتنے ایسے ہیں جو اچانک سے تھانوں میں چھاپے مارتے ہونگے ، کہاں کیا ظلم ہورہاہے اور کہا ں کون کس کی سرپرستی کررہاہے ۔کس تھانے کی حدود میں کونسے کاروبار پروان چڑھ رہے ہیں اور کون کس کی اشیر باد پر ’’ڈان ‘‘بنا بیٹھا ہے ۔کس علاقے میں قانون کی گرفت مضبوط نظر آئی ہے ۔کہاں انصاف کی فراہمی غریب عوام سے دور ہو رہی ہے ۔کیوں انصاف نہ ملنے پر غریب شہری کیس کی پیروی چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔دن رات چاک و چوبند ڈیوٹی کے فرائض انجام دینے کے باوجود ان محافظوں پر ’’رشوت ستانی ‘‘کا الزام لگتا ہے ۔ کسی زمانے میں آئے روز تھانوں پر خفیہ چھاپے ، حاضری سمیت دیگر تمام معاملات کی چھان بین ’’ایوان اقتدار‘‘میں بیٹھنے والے کیا کرتے تھے مگر اب محض ’’فوری نوٹس‘‘اور ’’جے آئی ٹی ‘‘کی تشکیل ہی تمام مسائل کا حل کیوں ہے ۔ذاتی دلچسپی کہاں رہ گئی ہے ۔عوام کیوں چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی درخواست کررہی ہے ۔۔۔سوچنا ہوگا ہمیں کئی بار سوچنا ہوگا ۔جو کیسز میڈیا میں آنے سے کسی وجہ سے رہ جاتے ہیں انکا کون پرسان حال ہوتا ہوگا ۔اب حقیقت سے آنکھیں ’’چرانی ‘‘بند کرنا ہو نگی ہمیں اور عوام کو اس کا بنیادی حق دینا ہو گا ، اگر جمہوریت کو پروان چڑھانا ہے تو پھر کسی بھی کوتاہی کو برداشت نہیں کرنا ہو گا اور تمام تر رشتہ داریاں اور سیاسی ہمدردیاں اس وطن عزیز پاکستان اور اسکی عوام پر قربان کرکے ایک پرُامن اور مستحکم پاکستان بنانے میں عملی کردار ادا کرنا ہوگا ۔۔۔خداکرے خداکرے (آمین ) ۔آخر میں صرف اتنا کہوں گا ۔پیاری زینب ۔۔۔میں حرف حرف شرمندہ ہوں ۔اور اس شرمندگی میں پرُامید بھی ہوں بہت جلد تمہارے قاتل تختہ دار پر لٹکتے پوری عوام کو نظرآئیں گے (انشاء اللہ )