’’قدرت ہم سے روٹھ جاتی ہے ‘‘


زینب کا قتل معاشرتی قتل ہے ۔ پاکستان کی ہر بیٹی کا قتل ہے اس واقعہ پر شدید رنج وغم اور غصے کا ایک عالم ہے ۔ کوئی شک نہیں معصوم ننھی سی بچی کے ساتھ ہو جانے والی وارادات ایک جبر و ظلم کی داستان ہے ۔ مگر مجھ سے میری حیرانیاں پوچھتی ہیں کہ کیا ہم سب سول 
سو سائٹی ، انتظامیہ ، ریاست ، حکومتیں ذمہ دار ہیں یا صرف وہ درندہ انسان جو زینب کو لے گیا اور قتل کر کے پھینک گیا ۔ تو معز ز قارئین حضرات جہاں ایک انگلی پولیس انتظامیہ کی جانب اشارہ کرتی ہے ۔ وہا ں چار انگلیاں اپنی ہی جانب پیش رفت کرتی ہیں ۔ کیا ہم ہی وہ معا شرہ نہیں جہاں با لا خانے نا صرف قائم ہیں بلکہ پولیس اور انتظامیہ کی آشیر باد سے رواں دواں ہیں ۔ کیا ان با لا خانوں میں اُزبک ، مصری یا امریکی لڑکیاں ہیں جو کھلے عام اپنا جسم فر وخت کر تی ہیں ؟ کیا ان چکلہ نما 
با لا خانوں میں لڑکیاں اپنی خوشی سے آتی ہیں ؟کیا ان بازار حسن میں کام کرنے والی سکس ورکرز اپنے اہل خانہ کی کفا لت کی ذمہ دار نہیں ؟ کیا ان اُوبا ش خانوں میں تما ش بینی کرنے کسی دشمن ملک کے مرد جاتے ہیں ؟ اس کا روبار میں مڈل مین کا کردار کوئی تیسری مخلوق ادا کرتی ہے ؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہ اُو باش گاہیں تمام شہروں کے ہر پوش علاقے میں موجود نہیں ؟یہ میں نہیں پو چھتا یہ مجھ سے میری حیر انیاں پو چھتی ہیں ۔
معزز قارئین حصرات کہتے ہیں معا شرے کے 
سد ھار کیلئے سب سے پہلے خود احتسابی کا عمل اپنی جانب سے شروع کرنا چاہیے ۔ تو کیوں نہ مان لیں کہ ہم اُس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اس معاشرے کے مرد کے ہاتھوں اپنی ہی بیوی کی سہلیاں محفوظ نہیں ہیں ؟ کیا اس معاشرے کی عورت دفا تر میں کام کرنے کے دوران محفوظ ہے ؟ کیا وہ جنسی ہراساں کا شکار نہیں ؟ کیا اپنی گھریلو ذمہ داریاں پوری کرنے کی خاطر دفاتر کے ما لکا ن سے سمجھوتہ نہیں کرتیں ؟ معزز قارئین حضرات ! اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھا کر اس بات کی گواہی دیجیئے کہ ہمارے گھروں میں کام کرنے والی ملازمین صرف جھاڑو پوچا یا صرف صفائی ستھرائی ہی کرتی ہیں؟ کیا ان گھروں کے مرد ان ملازموں پر بد نظر نہیں رکھتے ؟ کیا یہ ملازمائیں ان مالکان کے مذموم ارادوں کو پورا کرنے کیلئے اپنی گھر یلو مجبو ریوں کے پیش نظر اپنے جسم کے ساتھ اپنی روح کو بھی فروخت نہیں کر تیں ؟ کیا ان گھروں میں رہنے والے مرد اور کام کرنے والی ملازمائیں اس ملک کے شہری نہیں ؟ آج مجھے کہہ لینے دیجئیے کہ کیا ہمارے بچے بچیاں ویڈیو تھرڈ پارٹی سوفٹ ویئر کی مدد سے اپنی بر ہنہ تصاویر اور ویڈ یو ز شیئر نہیں کرتے؟ کیا اس معاشرے کے کسی خاندان کی بہو اپنے سسر ، اپنے جیٹھ اور اپنے دیور کے ہاتھ سے مکمل طور پر محفوظ ہے؟معزز قارئین حضرات !کیا اِسی معاشرے میں پیر مر ید نی کے ساتھ اپنے جسمانی تعلقات پید ا نہیں کرتا ؟کیا اِسی معاشرے میں استاد شاگرد کے ساتھ غلط حرکات کرتا پکڑا نہیں جاتا ؟ کیا اس معاشرے میں بیوہ بغیر کسی سمجھو تے کے اپنا گز ر بسر کرسکتی ہے ؟ کیا اس معاشرے میں حلا لہ کے نام پر سینکڑوں خواتین کے ساتھ ریپ نہیں ہوتا ؟میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اسی معاشرے کا امیر رشتہ دار کسی غریب رشتہ دار کی بیوی اور بچیوں کو ظلم کا نشانہ نہیں بناتا ؟میرا مشاہدہ ہے خطر ناک سے خطر ناک جھوٹ کو سچ اور بے گنا ہی میں بد لنے والے وکیل موجود ہیں۔بد معاشو ں ، غنڈوں ، راہ زنوں ، نقب زنوں ، موالیوں ، فراڈیوں کی صورت میں بیمار معاشرے کو ٹھیک کر نے والے شریفوں کی شکل میں حکیم طیب موجود ہیں ۔ معزز قارئین حضرات ! کیا اِسی معاشرے میں جائید اد کی وجہ سے لڑکے اپنے والدین اور سگے بہن بھائیوں کا قتل عام نہیں کرتے ؟کیا اِسی نام نہاد معاشرے کے بازاروں میں ادویات کی جگہ زہر نہیں بکتا ؟خوراک کی جگہ گندگی بکتی ہے ۔ اولاد کی خوشیاں پوری کرنے کیلئے ضمیر بکتا ہے ۔ اداؤں کی شکل میں تہذیب بکتی ہے ۔ شفاء کے حصول کیلئے تعویز بکتا ہے ۔ کیا خو شیوں کی سوداگر ی نہیں ہوتی ؟ شرافت کے روپے میں سا نجھے د اری نہیں ہوئی ؟ فرقوں کی شکل میں ایمان بکتا ہے ۔ کیا یہ قوم اپنی پہچان اپنی انسا نیت کی بجائے ڈھکو سلہ نماشکل پر محیط سیال ، وڑائچ ، کھوکھر، آرائیں ، ملک ، فریدی ، پٹھان بن کے خاندان کی شکل میں نہیں بکتی ؟ معزز قارئین حضرات ! اس معاشرے میں بد معاش کے نام سے پہلوان بکتا ہے ۔ اسی معا شرے میں جوئے میں بیو یاں ہاری جاتی ہیں ۔ اسی معاشرے میں خون بہاکر مقتول بکتا ہے ۔ جہالت ، غربت کے نام لیکر این جی اوز کے ذرلیعے زکو ۃ کی شکل میں مظلوم بکتا ہے ۔ معز ز قارئین حضرات !ادب کے مید ان میں عشق کی زمین میں غز ل لکھنے والا شاعر بکتا ہے ۔ معا شرے کی مظلومیت کو ظاہر کرنے والی تحریر بکتی ہے ۔ خبر کی شکل میں صحافی بکتا ہے ۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ کسی صوفی کے مزار پر پڑا ہوا گلا بھی ہر سال بکتا ہے ے۔یہاں ہر طرح کی حق تلفی کے واقعات عام نظر آتے ہیں ۔ جہاں گردے بکتے ہیں ۔وہاں دل بکتا ہے یہاں مردوں کے ساتھ کی جانے والی بد کاریوں کے فیچر لکھے جاتے ہیں ، ملزم گرفت میں لے کر مجرم ہونے سے پہلے چھو ڑ دیئے جاتے ہیں ، معزز قارئین حضرات یہ ایک ہولناک خلا صہ خود احتسابی تھی ، جس کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ اس ملک کے اداروں اور حکومتوں میں اِسی غیر مہذ ب معاشرے کے لوگ اور اِسی ملک کے شہری کام کرتے ہیں ۔ تو کیوں نہ مان لیا جائے ، ہر تیسرے گھر ، دوسرے محلے اور ہر چوتھے شہر میں ہر روز ایک بڑی تعداد میں ایک زینب زیادتی کا شکار ہونے کے بعد قتل ہوتی ہے ۔ خبر گرم ہوتی ہے ۔ قبر کی مٹی سوکھ جاتی ہے ۔ قدرت ہم سے روٹھ جاتی ہے ۔