کیا تما شہ ہے کب سے جاری ہے


اماں کی بیٹیا بابا کی رانی بہنوں کی سہیلی بھائیوں کی لاڈلی منوں مٹی تلے دفن کر دی گئی ۔ زینب گم ہو گئی تھی گھر والے ڈھونڈتے رہے اور وہ جب ملی تو کوڑے کے ڈھیرے سے یہ درندگی کی انتہاء کون کر رہا ہے ۔ یہ واقعات تسلسل سے ہو رہے ہیں ۔ابتک 12واقعات ایسے ہی ہو چکے ہیں لیکن کوئی ملزم گرفتار نہ ہو سکا۔ وزیر قانون رانا ثناء اللہ بیان دیتے ہیں کہ اس سے قبل ہونے والے واقعات کے ملزمان اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں گذشتہ روز ہونے والے زیادتی کے واقعہ کے بارے میں بھی بتا یا گیا کہ ملزم پویس مقابلے میں مارا گیا ہے ۔ واہ ری حکومت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بسنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کررہی ہے ۔ حکومت جھوٹ پر جھوٹ بولتی ہے ۔اور اپنی جان چھڑانے کیلئے کیا کیا جائے ملزمان پولیس مقابلے میں مارے گئے تاکہ عوام کے غصب اور غصہ سے بچا جائے اور پھر ایک دوسرا ہربہ بھی استعمال کیا جا تا ہے ۔ کسی کو بھی گرفتار کر کے واقعہ کے ملزمان بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے تا کہ اپنی کارکردگی رکھ سکیں ۔ خد ا کیلئے رانا ثنا ء اللہ ،وزیر اعلیٰ لوگوں کے جذبات سے نہ کھیلیں یہ بھی سب کو پتہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب پولیس مقابلے میں لوگوں کو مروا دیتے ہیں اس سلسلے میں بہت کچھ لکھا اور بتا یا گیا اور اب بھی عین ممکن ہے کہ زینب کیس کا بھی جعلی ملزم پکڑ لیا جائے یا پولیس مقابلے میں مارا جائے گا لیکن عوام کو کیسے یقین دلا ئیں گے کہ یہی وہ ہی ملزم ہے کاش یہ زینب رانا ثنا ء اللہ یا وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی بیٹی ہوتی تو انھیں عوام کا درد محسوس ہوتا اب بھی ملزم نہیں پکڑا گیا تو کسی کو بھی پولیس مقا بلہ میں مروا کر زینب کا مجرم بنا دیا جائے گا ۔
حکومت اس کو سیاست کہتی لیکن یہ وحشت ہے بچیوں کو درندگی کا نشا نہ بنا کر قتل کر دیا جائے حکومت ایسے گھناونے جرائم کی روک تھام کیلئے کچھ نہیں کر رہی ۔ چند دن لوگوں احتجاج کر یں اور پھر لو گ تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے اور قصہ ختم ، ہماری عادت بن گئی ہے کوئی واقعہ ہوتا ہے شور مچا یا جاتا ہے سیاسی اور مذہبی رہنما گر ما گرم بیانات دیں گے اور تما شہ جاری رہے گا ۔ لیکن زینب کے واقعہ نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ قصور بابا بلے شاہ کی دھر تی پر مسلسل زیادتی کے واقعات نے ملک میں آگ لگا دی ہے ۔ سارے ملک میں احتجاج ہو رہا ہے قصور کے عوام سڑکوں پر آگئے ۔ احتجاج کرنے گئے تو رانا ثنا ء اللہ نے ایک بار پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن کو دہرانے میں دیر نہ کی اور ایک بار پھر 2شہریوں کو قتل کر دیا گیا اور درجنوں لوگوں کو زخمی کر دیا گیا یہ سب زینب کیلئے احتجاج کر رہے ہیں عوام مز ید مشتعل ہوگئے ۔پورا شہر سر اپا احتجاج بن گیا ۔ ٹا ئر نذر آتش کیے گئے 2افراد پولیس نے ماردیئے کئی زخمی کر دیئے ۔ وکلاء نے عد التوں کا با ئیکاٹ کر دیا ۔ عوام نے تھانے اور DCOآفس کا گھیرا ؤ کر دیا ۔ تاجروں نے دکانیں بند کر دیں ۔ اور پولیس اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے خواتین بھی گھروں سے باہر آگئیں۔ لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا ئے سڑکوں پر آگئے ۔ قصور بائی پاس اور پورا شہر بند کر دیا گیا ۔ مظاہرین نے ڈسڑکٹ ہسپتال پر دھا وا بول دیا ۔ امن وامان کی صورتحال خطر ناک حدتک خراب ہو گئی ۔ افسوس کے پھر بھی زینب کے نماز جنازہ میں وزیر اعلیٰ‘ وزیر قانون علاقے کے ایم این اے‘ ایم پی اے‘ کو نسلرز اور کسی سرکاری عہد ے دار نے شرکت نہیں کی ۔ کوئی مظا ہرین کوتسلی تک دینے نہیں آیا ۔ چیف جسٹس اور آرمی چیف نے ٹوٹس لیا ہے ۔وہ اراکین اسمبلی یہاں سیاست کرتے ہیں اور اپنے ووٹوں سے اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں وہ مظاہرین کوپوچھنے تک نہ آئے ۔ لوگ مسلسل احتجاج کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انھیں حکومت پر اعتماد نہیں آرمی چیف مد د کریں ۔رانا ثناء اللہ نے تو میڈ یاکو ہی ہنگاموں کا ذمہ دار قرار دے دیا جبکہ مائز ہ حمید ایم این اے اور عظمیٰ بخاری ایم پی اے مختلف چینلزپر بیٹھ کر رانا ثنا ء اللہ ، وزیر اعلیٰ اور حکومت کودفاع کرتی رہی لعنت ہے ایسے اراکین اسمبلی پر جو اتنے در د ناک المناک واقعہ پر بھی سپورٹ کرتی ہیں حالانکہ انھیں اس واقعہ پر مستعفی ہو جانا چاہیے تھا ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب رات کے اندھیرے میں زینب کے گھر تقریب کیلئے آئے ۔ کیونکہ انھیں علم ہے کہ وہ عوام کے غصہ سے نہیں بچ سکتے ۔عوام پوچھتے ہیں وزیر اعلیٰ صاحب کیا عوام کے کوئی حقو ق نہیں انھیں جینے کا کوئی حق نہیں ان کے بچوں کو تمہا رے بچوں کی طرح پرو ٹیکشن نہیں مل سکتی ۔ مذہب معاشروں میں پولیس کاکردار ایسا نہیں ہے ۔ ان پر یہ الزام نہیں لگ سکتا کہ وہ مظاہرین پر گولی چلا دے گی اور حکومت آکر پولیس کادفاع کرے گی ۔ بد قسمتی کہ اب عوام حکومت سے نہیں آرمی چیف سے انصاف مانگ رہے ہیں یہ عوام کا حکومت پر عدم اعتماد ہے ۔رانا ثناء اللہ اور وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ تو پہلے ہی مانگا جا رہا ہے ۔نا اہل حکمرانوں کو فوراً مستعفی ہو جا نا چاہیے ۔