پولیس چوکی


میرے دوست کا فون آیاوہ بہت گھبراہٹ میں بات کر رہا تھااس نے بتایا کہ اس کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ لاہور سے ملتان جاتے ہوئے جی ٹی روڈ پر ہوگیا ہے اس وقت وہ ایک چھوٹے سے شہر کی پولیس چوکی میں فیملی کے ہمراہ بیٹھا ہے دوسری پارٹی بھی گاڑی میں فیملی کے ساتھ تھی مگر انہوں نے فون کر کے بیک اپ گاڑی منگوا کر فیملی کو بھجوا دیا ہے جبکہ مزید تین چار گاڑیوں پر ان کے بندے تھانے میں ان کو اور ان کی فیملی کو ہراساں کررہے ہیں میں نے وہاں پر موجود اپنے والد صاحب کے انتہائی قریبی دوست بٹ صاحب کو فون کیااور انہیں مختصراً قصہ سنا کر پولیس چوکی جانے کی درخواست کی جمعہ کا وقت تھا میں بھی جمعہ پڑ ھ کر وہاں کے لیے روانہ ہوااور تقریباً ایک گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہاں پہنچا بٹ صاحب نے دوسری پارٹی کا موقف پہلے سنا جن کے ایک بزرگ جو اپنے آپ کو ریٹائرڈ کرنل ظاہر کر رہے تھے واقعہ کی تفصیلات بیان کر رہے تھے نتیجہ یہ نکلا کہ پولیس کا اسکواڈکسی حکومتی یا سرکاری شخصیات کے ہمراہ جا رہا تھا اور یہ دونوں گاڑیاں ایک دوسرے کو اوورٹیک کرتے ہوئے ایک دوسرے سے آگے نکل کر پولیس اسکواڈ کے پیچھے رہنے کی کوشش کر رہی تھیں آخر ایک وقت ایسا آیا کہ دونوں اپنی گاڑیوں سے نکل کر جھگڑ پڑے اور یوں بات تھانے(پولیس چوکی) تک پہنچ گئی میرے دوست کا موقف تھا کہ دوسری گاڑی میں موجود باپ بیٹے نے مجھے سڑک پر لٹا کر مارااور پھر اپنی گاڑی میں موجود راڈ سے میری گاڑی کے شیشے توڑ ڈالے اور یہاں پولیس والوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ شیشے میں نے غصے میں آکر توڑے ہیں اس سارے معاملے میں پولیس والے خاموش رہے جب کہ مخالف پارٹی کے تین چار نوجوان بات بات پر مشتعل ہوتے رہے اگر میرا دوست پولیس چوکی میں نہ ہوتا تو یہ بات یقینی تھی کہ وہ اسے اور اس کی فیملی کو شدید نقصان پہنچاتے میں اور بٹ صاحب جب پولیس چوکی میں داخل ہوئے تو ان مشتعل نوجوانوں کا مطالبہ تھا کہ اگر یہ ہمارے بزرگ سے معافی مانگ لے تو ہم ابھی معاملے کو ختم کردیں گے لیکن جب بٹ صاحب نے بزرگ کرنل صاحب سے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ معافی سے بات نہیں بنے گی ہمیں ہمارے نقصان کا معاوضہ بھی دیا جائے چونکہ گرمی شدید تھی دوپہر کا وقت تھا درجہ حرارت 45 ڈگری کے قریب تھا بٹ صاحب نے میرے دوست سے کہا کہ وہ بزرگ کرنل صاحب کو اپنے والد کی جگہ سمجھ کر اس سے معافی مانگ لے اور اپنی فیملی کو لے کر یہاں سے چلا جائے جو پہلے ہی بہت سہمی ہوئی تھی میرے دوست نے کہا کہ اصولاً تو ان کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیے کہ سارا قصور ان کا ہے میں چونکہ اکیلا ہوں اور یہ تعداد میں زیادہ ہیں لہذا یہ دباؤ ڈال رہے ہیں اور کرنل صاحب کے کرنل ہونے کے خوف سے پولیس اہلکار بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں بہرحال میرے دوست نے بٹ صاحب کے کہنے پر معافی مانگ لی اور معاوضہ ادا کرنے کی حامی بھرلی یوں معاملہ پولیس چوکی سے ختم ہو گیا دوسری پارٹی اپنے سفر پر روانہ ہو گئی ان کے جانے کی دیر تھی کہ پولیس چوکی کے انچارج اے ایس آئی صاحب نے اپنے اہلکاروں کو ڈانٹنا شروع کر دیا کہ دوسری پارٹی پچھلے چار گھنٹوں سے سب سے بد تمیزی کر رہی تھی جس سے میرا دوست میرے دوست کے اہلخانہ چوکی انچارج اور تھانے کے تمام اہلکار بھی متاثر ہوئے تھے دوسری پارٹی کے نوجوانوں نے پولیس والوں کو بہت گندی گندی گالیوں اور برے برے القاب سے نوازاتھا بلکہ ان کو مارنے تک بھی گئے تھے بٹ صاحب نے استفسارکیا کہ جب دوسری پارٹی اپنا موقف سنا رہی تھی تو آپ سب میرے دوست کے خلاف محسوس ہو رہے تھے اور بار بار اسی کا قصور بتا رہے تھے چوکی انچارج کے اہلکاروں نے بتایا کہ وہ کرنل صاحب کے عہدے اور ان کے ساتھ موجود حامیوں کی تعداد کی وجہ سے خاصے دباؤ میں تھے اور کسی قسم کی لڑائی مول نہیں لینا چاہتے تھے اور چوکی انچارج نے یہ بھی بتایا کہ قصور کرنل صاحب والی پارٹی کا ہی تھا انہوں نے خود ہی اپنی گاڑی کے شیشے توڑے تھے جس کا واضح ثبوت یہ تھا کہ وہ جاتے ہوئے وہ راڈ بھی ساتھ لے گئے ورنہ وہ راڈ ان کو واپس کر کے جاتے وہ راڈ دراصل گاڑی کے سٹیرنگ کا حفاظتی لاک تھا اور وہ کرنل صاحب ایک طرف تو بار بار اپنے بزرگ ہونے کا اشارہ کر رہے تھے جبکہ دوسری طرف یہ بھی بتا رہے تھے کہ میں نے اپنے بیٹے اور اپنے لڑکوں کو بڑی مشکل سے روک کر رکھا کہ کہیں کسی کا جانی نقصان ہی نہ کر بیٹھیں اگر میں نہ ہوتا تو شاید یہاں پر بہت نقصان ہو جاتا معاملے کے آخر پر بٹ صاحب نے انہیں کھانے کی آفر کی اور بتایا کہ میں یہاں کا مقامی ہوں کیا آپ آرائیں فیملی سے تعلق رکھتے ہیں کرنل (ر) صاحب فوراً بولے کہ جناب ہمیں گالی مت دیں ہم جٹ ہیں جس پر کرنل صاحب نے انہیں بتایا کہ ویسے تو میں بٹ صاحب کے نام سے مشہور ہوں مگر میں آرائیں ہوں کرنل صاحب نے رسمی سی معذرت کی پولیس والے معاملے کو تھانے تک لے جانا چاہتے تھے ان کا خیال تھا کہ جن لڑکوں نے ان کو گالیاں دی ہیں ان سے وہاں جا کر بدلہ لیا جائے جب کہ بٹ صاحب نے دونوں پارٹیوں کو گرمی کی شدت فیملی کی ہمراہی اور تھانے کچہری کے چکر سے آزادی کے لیے معاملے کو وہیں ختم کروا دیا اگرچہ اس طرح کے ایکسیڈنٹ تو روزانہ کا معمول ہوں گے لیکن اس واقعہ سے ہمیں کئی سبق ملتے ہیں سب سے بڑی ہمارے نظام کی جو خرابی ہے کہ پولیس عہدے پیسے اور طاقت کے دباؤ میں فوراً آجاتی ہے اگر یہ چوکیاں عوام کی حفاظت نہیں کر سکتیں یا انہیں انصاف نہیں فراہم کر سکتیں تو پھر انہیں ختم کر دینا چاہیے پولیس والے پہلے تو یہی سمجھ رہے تھے کہ وہیں یہ معاملہ لے دے کر طے ہو جائے گا جبکہ وہ دوسری پارٹی کو صرف اس لیے تھانے لے جانا چاہتے تھے کہ وہ اپنا ذاتی بدلہ لے سکیں اسی طرح کرنل صاحب پہلے واقعہ بیان کرتے ہوئے تو اپنے آپ کو بے قصور اور معزز شہری ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر بات بات میں سب کو یہ بھی بتا رہے تھے کہ ان کے بیٹے بڑے سر پھرے ہیں اور آپے سے باہر ہو جاتے ہیں پھر ان کے بیٹے کے دوست اور عزیز و اقارب جو ساتھ دینے کے لیے وہاں پہنچے تھے انہوں نے تھانے والوں کی بہت بے عزتی کی اور انہیں ہراساں بھی کیا تھا فوج کے کسی بھی افسر کو ہمارے معاشرے میں اصول پسند کے طور پر جانا جاتا ہے بٹ صاحب نے بھی کرنل صاحب کو گلہ کیا کہ انہیں اپنی موجودگی میں ان بچوں کو قانون کا مذاق نہیں اڑانے دینا چاہیے تھا جو حرکت ان بچوں نے تھانے والوں یا میرے دوست کی فیملی کے ساتھ کی ہے وہ نہ آپ کو زیب دیتا ہے اور نہ آپ کی زیر سرپرستی کسی اور کو زیب دیتا ہے مجھے جو اس سارے معاملے میں دھچکا لگا تھا وہ یہ تھا کہ فوج ایک ایسا ادارہ ہے جہاں پر سب ایک ہی سانچے میں ڈھالے جاتے ہیں انہیں سب سے پہلا سبق یہی دیا جاتا ہے کہ وہ انسان ہیں اور وہ واحد ادارہ ہے جہاں ذات پات، فرقہ پرستی، امیر غریب کا فرق ختم ہو جاتا ہے ایسے ادارے میں ساری عمر صرف کرنے کے بعد بھی اگر کرنل صاحب قانونی اور غیر قانونی کے فرق کو نہیں سمجھے یا پھر اب بھی لوگوں کو ان کی ذات پات اور رعب دبدبے سے جج کرتے ہیں تو ایساکرنے سے نہ صرف وہ اپنے عہدے بلکہ اپنے ادارے کی بھی توہین کرتے ہیں خاص طورپر اس وقت جب ہمارے ملک کو قومی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے ہمیں ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے ہماری نفرتوں میں اضافہ ہو اور ایک دوسرے سے محبت میں کمی ہو کرنل(ر) صاحب کو اس سارے معاملے میں اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بیٹے اور میرے دوست جو ان کے بیٹے جیسا ہی تھا معاملہ سڑک پر ہی طے کر لینا چاہیے تھا ایک دوسرے کو فیملیوں سمیت پولیس کے چکروں میں نہیں پڑنا چاہیے تھا ایسا کر کے وہ اپنے عہدے اور ادارے کے ساتھ ساتھ اپنے مذہب کی بھی لاج رکھ سکتے تھے جو نہ صرف بزرگوں کو بچوں کی رہنمائی کاحکم دیتا ہے بلکہ انہیں معاشرے کی بھلائی کے لیے ایک مثال بننے کا بھی سبق دیتا ہے۔