ذمہ داری


جمہوری نظام کے اندرعوام کوریاست کی طاقت سمجھاجاتا ہیں۔عوام متحد ہوجائیں توان کے راستے کی ہررکاوٹ خودبخوددورہوتی چلی جاتی ہے۔عوام کے منتخب حکمران ملکی آئین بناتے اورپھرعملدآمدکرواتے ہیں۔بدقسمتی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام آج تک ایسے اہل نمائندے منتخب کرنے میں بری طرح ناکام نظرآتے ہیں جوملک وقوم کی بھلائی کیلئے ایمانداری سے کام کرتے اورملک کوخوشحالی وترقی کے راستے پرڈالتے۔آئین ،دستورایسے اصولوں پرمبنی ضابطے کوکہتے ہیں جس پرعمل درآمد کرکے ریاست کے اندرونی وبیرونی مفادات کاتحفظ یقینی بنایاجاتاہے۔ جوکوئی ان اصولوں کی حدودکوتوڑے اسے مجرم قرارد ے کرسزادی جاتی ہے تاکہ کوئی اندورنی یابیرونی دشمن اپنی ساز ش میں کامیاب نہ ہوسکے۔ مخلص اورمحب وطن قیادت کافرض ہے کہ ریاست کے روشن مستقبل اورعوام کی خوشحالی کومدنظررکھتے ہوئے عدل وانصاف ،وسائل کی منصفا نہ تقسیم ،جان ومال ،عزت وآبروکے تحفظ،صحت وتعلیم اورباعزت روزگار جیسی بنیادی ضروریات کی نچلے طبقے تک آسان ترین فراہمی کیلئے دورحاضرکے تقاضوں کی روشنی میں دستورسازی کریں۔پاکستان اسلامی ریا ست ہے اس لئے ہمارے ملک میں ہونے والی کوئی بھی قانون سازی دین اسلام کی مخالف نہیں ہوسکتی۔ ایسی باکردار قیادت جواسلام ،ریاست اورعوام کے ساتھ وفاداررہے پرجوشرائط 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 62,63 میں درج ہیں وہ انتہائی مناسب اورضروری ہیں ۔1973ء کے آئین میں جہاں عوام کوبنیادی حقوق 
کی فراہمی،اسلامی احکامات کے مطابق منصفانہ نظام معاشرت کی ضمانت فراہم کرتا ہے وہاں قیادت کے انتخاب کیلئے بھی خاص معیار مقرر کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 62,63کا جائزہ لیا جائے تو اس بات میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ 1973ء کے آئین سازوں کامقصد ملک کو چور وں، ڈاکووں،لٹیروں اورکرپٹ ٹولے کے ناپاک عزائم سے محفوظ اور صاف ستھری قیادت کے ذریعے منصفانہ نظام پر مبنی کرپشن سے پاک فلاحی ریاست بنانا تھا۔ بدقسمتی سے حکمران طبقے اورمفاد پرست سیاستدانوں نے ذاتی لالچ اور مفادات کے حصول کی خاطر آئینی ترامیم کی آڑ میں آئین کی سمت تبدیل کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔پارلیمنٹ کا کام آئین کی روح کے مطابق قانون سازی کرنا ہے۔جہاں تک آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمنٹ کے اختیار کا تعلق ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پارلیمنٹ ایسا کر سکتی ہے پر پارلیمنٹ کا یہ اختیار لامحدود نہیں۔ پارلیمنٹ کسی صورت میں دوتہائی اکثریت کے باوجود کوئی ایسی ترمیم منظور نہیں کرسکتی جو آئین کے بنیادی ڈھانچے یا اس کی روح سے متصادم ہو۔آئین میں بنیادی تبدیلیاں کرنا دستورساز اسمبلی کے دائرہ کار میں ہے۔ جبکہ پارلیمان کے پاس آئین کی پابندی اور اسکے تحفظ کا مینڈیٹ ہوتا ہے۔جہاں پارلیمنٹ اس عوامی مینڈیٹ سے انحراف کرے عدلیہ درستگی کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔آئین کی ایک ایک شق محترم سمجھی جاتی ہے۔ آرٹیکل 62,63 سے روح گردانی آئین سے غداری کے زمرے میں آتی ہے۔الیکشن ایکٹ بل 2017ء میں جس طرح آئین کے بنیادی اصولوں کی خلاف وزری کی گئی وہ ہمارے سامنے ہے۔ 1973ء کے آئین کے اندریہ بات طے ہوچکی ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں،انتخابی فہرست کے اندر قادیانیوں کے ناموں کااندارج اقلیت کے ساتھ شمارہوگااوروہ الیکشن لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔آئین پاکستان سے روح گردانی کرتے ہوئے الیکشن ایکٹ 2017ء میں جس وقت ختم نبوت ﷺ کے قانون کوتبدیل کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اسی وقت آرٹیکل 62,63 کے بنیادی ڈانچے کوبھی توڑ پھوڑکرایک نااہل شخص کوپارٹی صدر بنانے کی کامیاب کوشش ہوچکی ہے جوانتہائی تشویش ناک ہے۔ ختم نبوت ﷺ کے قانون کے ساتھ کی جانے والی چھیڑچھاڑ کی کوشش توعاشقان رسول اللہ ﷺ نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے ناکام بنادی پرافسوس کہ جئے بھٹو کانعرہ لگانے والے بھٹوکے وارثوں نے اپنے ہی قائد کے بنائے آئین کے ساتھ وفانہ کی اورایک نااہل شخص کوپارٹی صدربننے دیا۔انتہائی دکھ کی بات ہے کہ ماضی سے حال تک کبھی بھی صحیح معنوں میں
ان آئینی شقوں کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا گیا۔ہمارے حکمران طبقے نے آرٹیکل 62,63 کی پاسداری کی ہوتی توآج پاکستان ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں کھڑاہوتااورہماری قیادت مبارک باد کی مستحق ہوتی ۔ جب قوموں کی سمت درست ہو تو ترقی اورخوشحالی کی عظیم منزلیں قدم چومتی ہیں۔سترسالہ مسائل سے جان چھڑوانے کیلئے اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہوگی اور ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانک کر ایمانداری پرمبنی فیصلے کرنا ہوں گے۔ اب ہمیں سمجھ لیناچاہیے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے ہم خوشحالی اورترقی کی منزلوں سے دورہیں۔ ذاتی مفادات ،تعصب، لالچ اور خوف سے بالا تر ہو کر قومی مفادات وملکی سلامتی ،خوشحالی اورترقی کومدنظررکھتے ہوئے آئین کے بہتر اصولوں پرعمل اورجہاں کمزوری محسوس ہووہاں مزید بہتراورمضبوط اقدامات اٹھانے چاہئے۔الیکشن 2018 ء کی آمد آمد ہے ۔عوام کے پاس اپنے ووٹ کے ذریعے نااہل اورایسے کرپٹ امیدواروں جوآئین کے آرٹیکل 63.62 پرپورانہیں اترتے کوحکومتی ایوانوں سے باہررکھنے کاایک اورموقع آنے والاہے۔ووٹراپنے حلقے سے الیکشن میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں میں سے بہترین امیدوار کا انتخاب کریں تونظام بہترہوسکتا ہے،قبضہ مافیا،منشیات فروش،سود خوروں اوربھتہ مافیا کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کومسترد کرنااورایماندار، نیک سیرت اورپڑھے لکھی قیادت کومنتخب کرناعوام کی ذمہ داری ہے!