قیام پاکستان کا مقصد


اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ’’اور یاد کر جب ابراھیم نے کہا اے میرے پروردگار! مجھ کو دکھا کہ تو مردے کو کس طرح زندہ کرے گا، فرمایا کہ کیا تم یقین نہیں لاتے؟ کہا کیوں نہیں، اس واسطے چاہتا ہوں کہ میرے دل کو تسکین ہو جائے، فرمایا تو چار جانور اڑنے والے پکڑ پھر انہیں اپنے ساتھ مانوس کرلے پھر (انہیں ذبح کرنے کے بعد) ہر پہاڑ پر ان کے بدن کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دے پھر ان کو بلا تیرے پاس جلدی سے آئیں گے، اور جان لے کہ بے شک اللہ زبردست حکمت والا ہے۔(سورۃ البقرہ :آیت 260:)سورۃ النمل کے اندراللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا’’سلیمان نے فرمایا، اے درباریو!تم میں کون ہے کہ جو اس (ملکہ بلقیس)کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہوں، ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت حضور میں حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوت والا امانتدار ہوں، اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کر دوں گا ایک پل مارنے سے پہلے پھر جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا کہ یہ میرے رب کے فضل سے ہے ، تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری، اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بے پرواہ ہے سب خوبیوں والا‘‘(سورۃ النمل :آیت 38,39,40) اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت پرکامل یقین رکھتے 
ہیں ۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کیسے،کیوں،اگر،مگر،لیکن کی محتاج نہیں ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور نبوت کے ولی کی یہ شان ہے کہ وہ پل مارنے سے پہلے اتنابھاری بھرکم تخت حاضرکرسکتے ہیں توپھرحضرت محمد ﷺ کی اُمت کے ولیوں کی شانِ کرامت کیاہوگی۔قرآن مجید میں اہل عقل کیلئے نشانیاں ہیں اوراہل ایمان یعنی مومنین کیلئے انعام کی خوشخبری ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فریایا’’یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں، پرہیز گارو ں کے لیے ہدایت ہے (سورۃ البقرہ :آیت 2)اب جو کہے کہ وہ ایمان لایا،مسلمان ہوااورساتھ ہی اگر،مگر،لیکن کے 
چکرمیں رہے ،بلاشبہ اس نے ناشکری کی اور شک میں مبتلا ہوگیا۔دورحاضر ہی کو دیکھ لیں دین اسلام کے نفاذکاذکر آتے ہی کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ دور بدل چکاہے اب اسلام کیسے نافذ ہوگا؟ایسے تمام لوگوں کیلئے جواب یہ ہے کہ دوربدلاہے خالق و مالک وہی اللہ رب العزت ہے۔انسان اپنی پیدائش پرغورکرلے توکیسے،کیو ں،اگر، مگر اورلیکن جیسی گمراہی سے بچ سکتاہے۔کیوں، کیسے، اگر،مگر کاراگ الاپنے والے اللہ سبحان تعالیٰ کی کائنات کے ایک ذرے کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے ۔کیسے ،کیوں کی جہالت میں ڈوب کرانسان گمراہ کن سوالات کے جوابات تلاشنے کی کوشش میں اپنی دنیا وآخرت برباد کربیٹھتاہے۔اللہ تعالیٰ نے زمین کیسے بنائی؟زمین بنالی تھی توآسمان کیوں بنایا؟اتنے بلندوبالاپہاڑ کیسے کھڑے ہیں ؟جب پہاڑ اس قدرسخت اوراونچے ہیں توسمندراتنانر م اورگہراکیوں ہے؟ جب اللہ تعالیٰ ہدایت عطافرماتاہے توبات سمجھ آجاتی ہے۔اللہ رب العزت کے حکم سے ایک کھیت میں ایک ہی پانی لگتاہے پھربھی کریلہ سخت کڑوااور گنا انتہائی میٹھاپیداہوتاہے۔کائنات رب رحمان کی ہے اور وہ جوچاہے کرنے پرقادرہے۔سوال، جی کمزورمسلمان کیسے طاقتورکفارکیخلاف کھڑے ہوسکتے ہیں؟،جواب، جیسے میدان بدر میں ہزار سے زائد کفار جن کے پاس ایک ہزارکے قریب گھوڑے اور کثیر تعداد میں اونٹ اورجنگی سامان تھاکے مقابلے میں 313 صحابہ کرامؓ آٹھ شمشیریں ، چھ زرہیں، دو گھوڑے ، ستر اْونٹوں اور مختصرجنگی ساز و سامان 
کے ساتھ اترے اوراللہ تعالیٰ کی مدد سے فتح یاب ہوئے ۔دنیاآج بھی یاد کرتی ہے کہ غزوہ بدر میں تین سو تیرہ نفوس قدسیہ رسول اللہ ﷺ کی دعاسے شیطانی قوتوں کے مقابلہ میں فتح یاب ہوئے۔وہ کس قدر بزرگی اور عظیم شان والے مجاہدین اسلام ٹھہرے کہ جن کے حق میں رسول اللہ ﷺ نے دعائیں فرمائیں اوراللہ سبحان تعالیٰ نے فرشتوں کو نازل فرمایا۔ جیسے تین سو تیرہ صحابہ کرامؓ میدان بدر میں اترے تھے ٹھیک اسی طرح آج بھی مسلمان دنیاکی ہرطاقت سے ٹکراسکتے ہیں،سوال،جی حالات بہت خراب ہیں،اسلام دشمنوں کے پاس وسائل ہیں ،کفار کے پاس 
جاسوسی اورنگرانی کے تیزترین ذرائع ہیں وہ تومسلمانوں کے متعلق سب خبررکھے ہوئے ہیں پھرکیسے مسلمان لڑپائیں گے؟جوا ب ،کیافرعون خود کوکم طاقتورسمجھتاتھا؟ حضر ت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے قبل خبرہوئی توفرعون نے تیس ہزارکے قریب بچے قتل کروادیئے تاکہ وہ بچہ جوان ہونے سے پہلے ہی مرجائے جوفرعون کی سلطنت برباد کرنے کیلئے بھیجاجانے والاتھا۔جیسے اللہ تعالیٰ نے فرعون کوخبردینے کے بعدناصرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کوزندہ رکھابلکہ فرعون کے محل میں پالااورپھراللہ سبحان تعالیٰ نے جیسے اپنے بندے اوراُس کے ماننے والوں کوسمندرمیں راستہ عطافرمایااورخود کوطاقتورسمجھنے والے فرعونی لشکر کو غرق کردیا۔کیسے ،اگر،مگر،لیکن کی کیفیت سے نکلیں اور دیکھیں کہ اللہ سبحان تعالیٰ ہی تمام کائنات کامالک و حاکم ہے اوررسول اللہ ﷺ کی امت کی مددکیلئے اللہ تعالیٰ فرشتے نازل فرمادیتاہے۔ یہ شانیں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی پیاری امت کوعطافرمائی ہیں کہ اپنے نبی ﷺ کی ناموس وختم نبوت ﷺاورغلبہ اسلام کاکام امت سے لیاجاتاہے ورنہ اللہ تعالیٰ توپرندوں سے بھی کام لے لیتاہے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حفاظت کیلئے ننھے پرندوں کے ذریعے ہاتھی والوں کوتہس نہس کردیاتھا ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا۔کیا ان کے مکر کو بے کار نہیں کر دیا۔اور ان پر پرندوں کے جھنڈ پر جھنڈ بھیج دیئے۔جو ان کو مٹی اور پتھر کی کنکریاں 
مار رہے تھے۔پس انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا‘‘(سورۃ الفیل)اسلام نافذ ہوگیاتوپھرملک ترقی کیسے کرے گا؟پاکستان کوقائم ہوئے سترسال ہوگئے انتہاء درجہ بدعنوانی،ناانصافی،لو ٹ گھسوٹ،بے ایمانی اورظلم وستم کے باجود بہتری کی طرف جانے والے ملک میں جب دین اسلام نافذ ہوگاتوبدعنوانی ختم ہوگی،انصاف کابول بالاہوگا،لوٹ گھسوٹ کوپھانسی چڑھادیاجائے گا،ایمانداری ہی معیار(میرٹ)ہوگی ظلم وستم کی داستانیں نایاب ہوجا ئیں گی توملک ایسے ترقی کرے گاجیسے دنیاکے کسی ملک نے نہ کی ہوگی۔ چونکہ مولویوں 
اورپیروں کو سیاست نہیں آتی،چونکہ علماء ،پیروں اورمسا لک کے درمیان اتحاد واتفا ق نہیں،چونکہ مولوی صاحب گفتگو بڑی سخت کرتے ہیں ،چونکہ تحریک لبیک پاکستان کے پاس وسائل کی کمی ہے،چو نکہ علماء دین جمہوریت کے خلاف ہیں، چونکہ عاشقان رسول اللہ ﷺ گستاخان رسول اللہﷺ کیخلاف بہت سخت لہجہ رکھتے ہیں، چونکہ ان کے جلسوں میں خواتین شامل نہیں ہوتیں، چونکہ مولویوں کوتنظیم سازی نہیں آتی ،چونکہ اہل حق اپنے مواقف پرڈٹ جاتے ہیں، چونکہ حافظ خادم حسین رضوی تنہا کھڑاہوجاتاہے اوراتحاد کیلئے ترلے منتیں نہیں کرتا،چو نکہ اُس کے چہرے پہ زہریلی منافقت نظرنہیںآتی ،چونکہ انھیں حکومت کا تجربہ نہیں ،چونکہ وہ قادیانیوں کوکافرکہتے ہیں ،چونکہ دین اسلام سود کھانے کی اجازت نہیں دیتا،چو نکہ اسلام نافذ ہوگیاتوحقدار کاحق دیناپڑے گا،چونکہ ، چونکہ وغیرہ وغیرہ۔ چونکہ دین اسلام نافذ ہوگیاتوسود خور نہیں بچ سکتے توکیا ملک و قوم کا مفاد اسی میں ہے کہ نظام حکومت چوروں ڈاکوؤں کے حوالے ہی رہنے دیاجائے؟ قرآن مجید اوراحادیث کے مطابق اگر،مگر، چونکہ ،چناچہ کی گنجائش نہیں ہے اور مومن کی شان یہ ہے کہ وہ لیکن، اگر،مگر، چونکہ،چناچہ ،کاش،کیسے ۔جیسے مایوس کن الفاظ کے چکرمیں پڑے بغیرصراط مستقیم پرچلنے کی طلب کرتاہے ۔ خلوص دل سے سچائی کارستہ اپناتاہے اوراللہ تعالیٰ کی عطاکردہ تمام ترتوانائیاں پوری لگن کے ساتھ بروئے کارلاکراچھے اورکامیاب نتائج کیلئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رسول اللہ ﷺ کے وسیلے سے التجاء پیش کرتاہے اورپر امید رہتاہے ۔یہی اہل حق کاشیوہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوتی ہے توکامیابی وکامرانی حضورﷺ کے غلاموں کے قدم چومتی ہے۔یہ بات تہہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان جس عظیم مقصد کیلئے قائم ہواہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پوراہوگا۔پاکستان اسلام کامضبوط قلعہ بنے گااورافواج پاکستان ہی غزہ ہند لڑے گی۔غزہ ہند کاآغاز آستانہ عالیہ اُویسیہ قصور سے ہوگا جس میں اللہ تعالیٰ کی مدد سے فتح حاصل ہوگی۔قیام پاکستان کامقصد بھی یہی ہے کہ اس ملک میں اللہ،رسول اللہ ﷺ کادین اسلام نافذ ہواوردنیاکے سامنے اسلام کادرست موقف پیش کیاجائے۔