Post With Image

نبی پاک ﷺ کی شاندار تربیت کاایک انمول واقعہ جب حاکم وقت امیر المومنین حضرت عمر بن الخطابؓ نے حضرت بلال ؓ سے زمین پر لیٹ کر معافی مانگی،پڑھیے اسلامی تاریخ کا حیران کن قصہ


عمر ؓ ایک نام ہی نہیں ایک پہچان ہے ایک نظریہ ہے ایک دور ہے جس نے رہتی دنیا تک اسلام کے عدل اور نظام حکومت کو منظم کر دیا ہے جس نے اسلام کے سنہری اصولوں کو حکومتی سطح پر اجاگر کر کے مذہب کے سیاست اور طرز حکومت میں رول کو وضع کیا ہے ۔ایک مرتبہ سیدنا بلالؓ بیٹھے ہوئے تھے،

کوئی بات چلی تو عمرؓ نے کوئی سخت لفظ استعمال کر دیا، جب عمرؓ نے سخت لفظ استعمال کیا تو بلالؓ کا دل جیسے ایک دم بجھ جاتا ہے اس طرح سے ہو گیا اور وہ خاموش ہو کر وہاں سے اٹھ کر چلے گئے، جیسے ہی وہ اٹھ کر گئے، عمرؓ نے محسوس کر لیا کہ انہیں میری اس بات سے صدمہ پہنچا ہے، چنانچہ عمرؓ اسی وقت اٹھے، بلالؓ کو آ کر ملے، کہنے لگے: اے بھائی! میں نے ایک سخت لفظ استعمال کر لیا، آپ مجھے اس کےلیے معافکر دیں، انہوں نے کہا، جی جی مگر عمرؓ کو تسلی نہیں ہو رہی تھی اس لیے کہ وہ ذرا خاموش خاموش تھے، دل جو دکھا تھا تو جب عمرؓ نے دیکھا کہ بلال کا دل خوش نہیں ہو رہا تو بات کرنےتو بات کرنے کے بعد بلالؓ کے سامنے زمین پر لیٹ گئے اور کہا: بھائی! میرے سینے پر اپنے قدم رکھ دو! میری غلطی کو اللہ کے لیے معاف کر دو! بلالؓ کی آنکھوں سے آنسو آ گئے، امیر المومنین! میں ایسی حرکت کیسے کر سکتاہوں؟ جو بڑے حضرات تھے اپنی زندگی کے معاملے کو ایسے سمیٹا کرتے تھے۔حضرت عمر ؓ اسلام کے سچے سپاہی اور عظیم ترین انسان ہیں