Post With Image

رزق کے چاردروازے ، پہلے تین مسلمانوں کیلئے مگر چوتھا دروازہ کس کے لیے ہے؟ تفصیلات جانیے


اللہ پاک اسے غیب سے رزق عطا فرماتے ہیں کیونکہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جو کثرت سے استغفار کرتا ہے اللہ پاک اسے ہر غم سے نجات عطا فرماتے ہیں ، ہر پریشانی میں راستہ دیتے ہیں اور ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتے ہیں جہاں اس کا گمان بھی نہ ہو ۔ علماء کرام فرماتے ہیں کہ کثرت کا مطلب ہے کہ کم از کم تین سو مرتبہ ۔

  تو جو روزانہ تین سو سےزیادہ مرتبہ استغفار کرے گا ان شاءاللہ اسے بہترین رزق ملے گارزق حاصل کرنے کا تیسرا دروازہ تقویٰ ہے ۔ تقویٰ کے معنی گناہوں سے بچنا ہے ۔ یاد رہے کہ مسلمان کے ذمہ ہر نیکی کرنا نہیں ہے لیکن ہر گناہ سے بچنا ہر مسلمان کے لیے لازم ہے ۔ جو ہر گناہ سے بچتا ہے وہ اللہ کے ہاں متقی کہلاتا ہے ۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم ہر کام کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ اس کام سے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع تو نہیں فرمایا ۔ اگر منع فرمایا ہے تو ہم رک جائیں ۔ جو اللہ کا ہوجاتا ہے تو پھر اللہ اپنے بندوں کو اسکی خدمت پر مامور فرمادیتے ہیں رزق حاصل کرنے کا چوتھا دروازہ ذریعہ معاش اختیار کرنا ہے ۔ اور یہ دروازہ سب کے لیے ہے ، کوئی کافر ہو یا مسلم ، بتوں کو پوجنے والا ہو یا آتش پرست ۔ اگر وہ معاش کا کوئی ذریعہ اختیار کرے گا تو اللہ اسے رزق عطا فرمائیں گے ۔ مجھے افسوس اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نے پہلے تین دروازے بھلا دیے اور آخری دروازے کو ہی لازمی سمجھ لیا ۔ جبکہ ان تین دروازوں سے رزق حاصل کرنا بہت آسان ہے یہاں کوئی میری بات سے یہ مطلب نہ لے کہ ملازمت ، کاروبار یا معاش کا کوئی بھی دوسرا ذریعہ جو ہم نے اختیار کیا ہوا ہے اسے چھوڑ کر بیٹھ جائیں اور کام نہ کریں ۔ کام ضرور کریں لیکن اگر ہم چوتھے دروازے کے ساتھ ساتھ پہلے تین دروازوں کو بھی استعمال کریں گے تو ہم تھوڑی محنت میں ہی زیادہ رزق ملے گا ۔ ہماری مشقت کم ہوجائے گی ۔ اور ہماری کمائی غیر ضروری جگہوں پر نہیں لگے گی اور ہمارا مال ضائع نہیں ہوگا ۔