Post With Image

حدیث نبوی ﷺ کی روشنی میں بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار


کسی انسان کے کردار سے مراد اس کے مجموعی افعال و عادات ہیں۔کسی انسان کی زندگی کے تمام معاشی، معاشرتی اور اخلاقی معاملات اس کے کردار کو متعین کرتے ہیں۔ انسان جو کچھ معاشرے میں کرتا یا سوچتا ہے، وہ اس کے کردار میں شامل ہے۔ تربیت و کردار کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ اس میں انسان کے تمام افکار و خیالات اور حرکات و سکنات شامل ہیں۔

 

 

انسان جو بھی فعل کرتا ہے وہ اس کے کردار سے منسلک ہوتا ہے چاہے وہ فعل ایک مرتبہ سرزد ہو یا عادت بن چکا ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر معاشرہ اپنے افراد سے ایک ایسے کردار کی توقع کرتا ہے جو اس معاشرے کے مقاصد کے حصول کے لیے مفید ہو۔ اسلام نے تربیت کردار پر بہت زور دیا ہے۔قرآن کریم میں نبی کریم ﷺ کی بعث کا مقصد یوں بیان کیا گیا ہے۔مفہوم : ’’ بے شک اﷲ تعالٰی نے مومنین پر ان میں سے ایک رسول بھیج کر ان پر احسان کیا ہے۔ یہ نبی ان پر اﷲ کی آیات پڑھتا ہے اور ان کا تزکیہ (نفس) کرتا ہے اور انہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور حکمت (دانائی) کی بھی۔ (آل عمران )آپ ﷺ نے جن تعلیمات کی تبلیغ کی آپؐ نے ان کو عملی طور پر کرکے دکھایا۔ اس طرح اسلام زبانی تعلیم اور عملی نمونے کے ذریعے کردار کی تربیت کرتا ہے۔انسان کے کردار کا ایک پہلو اس کی اپنی ذات کے گرد گھومنے والے افعال اور سرگرمیوں سے متعلق ہے۔ وہ جو کام کر تا ہے، وہ اس کی دل چسپیوں اور مقاصد کے گرد گھومتے ہیں اور اس کا اثر بلاواسطہ دوسرے افراد پر نہیں پڑتا،

 

 

مثال کے طور پر ایک فرد کے رہنے سہنے کا طریقہ، پڑھائی، مشاغل، آرام اور کام کے طریقے اور دوسری نجی مصروفیات، جن سے دوسرے لوگ متاثر نہیں ہو تے۔انسان کے کردار کا دوسرا پہلو اجتماعی یا معاشرتی افعال و حرکات سے تشکیل پاتا ہے جن کا اثر معاشرے کے دوسرے افراد پر بھی پڑتا ہے، جیسے کسی جرم کا مرتکب ہونا۔ یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ کسی انسان کے ارتکاب جرم سے دوسرے انسان متاثر ہو تے ہیں، مثال کے طور پر ایک شخص کے چوری کرنے سے وہ لوگ متاثر ہوتے ہیں جن کے ہاں چوری ہوئی ہے۔نیز معاشرے میں اگر چوری کے جرائم نہ روکے جائیں تو دوسرے افراد بھی چوری کے ذریعے اپنی آمدنی بڑھانا شروع کر دیں گے اور معاشرے میں کمانے کے ناجائز ذرائع پھلیں پھولیں گے۔ انسان کے ایسے معاشرتی کردار کو جن کا معاشرے کے دوسرے افراد پر منفی اثر مرتب ہو ریاست کا فرض ہے وہ بالجبر روکے۔ معاشرتی کردار کا دوسرا تناظر مثبت بھی ہے، یعنی کسی انسان کا ایسا کردار جس سے دوسرے افراد کو نفع پہنچے اور ان کی بھلائی و بہبود ہو، مثال کے طور پر رفاعی کام، خیراتی ادارے، سماجی برائیوں کے خلاف جہاد، تعلیم و تربیت کرنا وغیرہ۔

 

 

چوں کہ کسی انسان کا معاشرتی کردار معاشرے کے دوسرے افراد کو متاثر کرتا ہے۔اس لیے ہر انسان اپنے معاشرتی کردار کے سلسلے میں خدا کے علاوہ ریاست اور معاشرے کے سامنے بھی جواب دہ ہے۔اسلام میں انسان کے معاشرتی کردار پر کنٹرول رکھنے کی سخت تاکید کی گئی ہے اور منفی اثرات کے حامل معاشرتی افعال پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر حدود ایسی سزائیں ہیں جو کہ سخت قسم کے گھناؤنے جرائم پر دی جاتی ہیں۔اس لیے ان سزاؤں کا تعین اﷲ تعالیٰ نے ریاست کی صوابدید پر چھوڑنے کے بہ جائے خود ہی کر دیا ہے۔ یہ جرائم چوری ، بدکاری، نشہ بازی اور بغاوت ہیں۔ سزاؤں کے تعین کے علاوہ اسلام معاشرے کی یہ ذمے داری قرار دیتا ہے کہ وہ افراد کے معاشرتی کردار پر نظر رکھیں۔قرآن میں ارشاد ہوا ہے۔ مفہوم : ’’ اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کے کاموں کے طرف لوگوں کو بلائے، اچھے کاموں کا حکم دے اور بُرے کاموں سے روکے۔‘‘ (آل عمران ) کردار میں انسان کے اچھے بُرے افعال و عادات دونوں شامل ہوتے ہیں۔ جب کہ اخلاق میں عام طور پر حوالہ اچھی عادات و افعال کو ہو تا ہے۔

 

 

قرآن و حدیث کے مطابق آپ ﷺ لوگو ں کو اچھی عادات (اخلاق) و اطوار سکھانے کے لیے اس دنیا میں مبعوث کیے گئے تاکہ وہ لوگو ں کو برائیوں سے پاک کر کے ایک پاکیزہ اور خوش حال معاشرہ تشکیل دیں۔ایک دینی معاشرے کے افراد کا مطلوبہ کردار مذہبی روایات کا آئینہ دار ہوتا ہے، جب کہ لادینی معاشرے کا ہدف مادی کردار ہوتا ہے۔ قرآن میں آپ ﷺ کے متعلق ارشاد ہوا۔مفہوم؛ ’’بے شک رسول اﷲ کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔‘‘ (الاحزاب) حدیث شریف میں آیا ہے۔مفہوم: ’’ میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے (اس دنیا میں) بھیجا گیا ہوں۔‘‘کردار سازی کے لیے اسلام اپنے اندر ایک جامع و کامل نظام رکھتا ہے اور انسان کی تربیت کے مختلف طریقے استعمال کر تا ہے۔ کیوں کہ انسان کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں جو صرف نصیحت سے مان جاتے ہیں۔ ایسے افراد کی نصیحت اور وعظ کے ذریعے کردار سازی کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ دوسروں کو جیسا کرتے دیکھتے، ویسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔خاص طور پر بچوں کو حکایات (کہانیوں) اور سابقہ اقوام کے قصے سنا کر اچھی عادات کی طرف مائل کیا جاتا ہے اور بعض افراد ڈھیٹ اور بے شرم ہو تے ہیں،

 

 

وہ پیار سے نہیں مانتے بل کہ معاشرے میں فساد پر تلے ہوتے ہیں۔ انہیں اسلام سزا کے ذریعے بھی بری عادات سے دور رہنے پر مجبور کرتا ہے۔انبیائے کرامؑ کو اس دنیا میں میں بھیجنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ وہ تعلیمات الہی کو عملی طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں نیز جو نبی جس قوم کی طرف مبعوث کیا گیا، وہ اسی قوم اور ان کی زبان کا بھیجا گیا۔ وہ انسان ہی بھیجا گیا تاکہ وہ مسائل کو سمجھتا ہو اور ا نہیں تعلیمات الہی کی روشنی میں حل کرے۔حضرت محمدؐ کی دنیائے فانی سے رخصتی کے بعد آپؐ کی زوجۂ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ آپؓ ہمیں آپ ﷺ کی عادات اور اطوار کے بارے میں بتائیے تو آپؓ نے نہایت مختصر اور جامع جواب د یا : ’’ آپؐ کی عادات قرآن کی آئینہ دار تھیں۔‘‘بچے کے لیے کنبہ اولین پرورش گاہ اور تربیت گاہ ہوتی ہے۔ بچہ جو کچھ اپنے ماں باپ اور بڑے بہن بھائیوں کو کر تا دیکھتا ہے، وہی سیکھتا ہے اور ویسی ہی عادات اپناتا ہے۔ اگر وہ ماں باپ کو جھوٹ بولتا یا رشوت لیتا دیکھتا ہے تو وہ جھوٹ بولنے اور ناجائز ذرائع کے استعمال کی عادات اپنا لیتا ہے۔ اگر گھر میں اہل خانہ لڑائی جھگڑا اور گالی گلوچ کر تے ہیں تو بچہ بھی جھگڑالو ہوجاتا ہے اور گالی گلوچ کی عادت سیکھ جاتا ہے۔ مزاج اور برتاؤ کا انداز بھی بچے میں بنیادی طور پر اپنے ماں باپ سے بہ ذریعہ تقلید منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے ماں باپ اور دوسرے بزرگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال یا افعال سرانجام دیتے ہوئے یہ بات مدنظر رکھیں کہ بچے ان کی تقلید کریں گے۔