Post With Image

وضو کے دوران منہ دھونے اور کلی کرنے کے فوائد تو حیران کن تھے ہی مگر اللہ پاک کے محبو ب ﷺ کی وہ سنت جسے دنیا بھر کے سائنسدانوں نے حیران کر دیا


وضو کے دوران منہ کو دھویا جاتا ہے، پاک کیا جاتا ہے، مسواک کا اتنا اہتمام بتلایا گیا کہ مسواک کے ساتھ پڑھی گئی نماز بغیر مسواک کے پڑھی گئی نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ آج اگر سائنس کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو انسان کا منہ اس کے لئے غذا کے اندر لے جانے کا ایک راستہ ہوتا ہے،

 

 

اس کا Crushing Unit ہے۔ جب انسان کھانا کھاتا ہے، اگر منہ کو صاف نہ کرے اور اس میں کچھ (ذرّات) Residues بچ جائیں تو ان (ذرّات) میں کچھ عرصہ کے بعد بدبو پیدا ہوجاتی ہے۔ گوشت اور غذا کے کچھ باریک ٹکڑے پھنس جائیں تو ان میں Fermentation پیدا ہوجاتی ہے۔ اب یہ دانتوں کے لئے نقصان دہ ہے اور ویسے بھی منہ کے اندر بدبو مچائیں گے اور منہ کے اندر جراثیم پیدا کریں گے اور پھر اسی گندادہنی کے ساتھ اگر وہ بندہ اگلا کھانا کھائے گا تو یہ منہ کی گندگی بھی Food (خوراک) کے ساتھ اس کے معدہ میں چلی جائے گی۔ انسان کے دانتوں کے اندر جو جگہیں ہوتی ہیں، وہاں جراثیم نے اپنی کالونیز بنائی ہیں۔ لاکھوں کے حساب سے جراثیموہاں پرورش پارہے ہوتے ہیں۔ اب جو آدمی اپنے منہ کو صاف نہیں کرتا، وہ اپنی Food (غذا) کے ساتھ بیماریوں کے جراثیم خود اندر لے جارہا ہوتا ہے اور اپنے آپ کو بیمار کرنے کا ذریعہ بنارہا ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم دن میں پانچ مرتبہ وضو کرنے کی تلقین فرماتے ہیں اور ہر مرتبہ مسواک کے ساتھ وضو کرنے کی تلقین فرماتے ہیں۔آپ مجھے کوئی بندہ دُنیا میں بتادیں، جو دن میں پانچ مرتبہ برش کرکے اپنے دانتوں کو پانچ مرتبہ صاف کرتا ہو؟ دُنیا میں سب سے زیادہ صاف رہنے والا غیر مسلم بھی دن میں دو یا تین مرتبہ اپنے منہ کو صاف کرے گا۔

 

 

دن میں پانچ مرتبہ اپنے منہ کو صاف کرنے اور اپنے دانتوں کو برش کرنے کی سعادت کس کو نصیب ہے، یہ فقط مسلمان کو نصیب ہے۔ اس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ ایک وقت تھا کہ جب باہر کے ملک کا سفر کیا جاتا تھا تو لوگ اُس وقت کہتے تھے کہ صبح جانے سے پہلے برش کیا جانا چاہئے۔ دُنیا کے ذہن میں صبح برش کرنے کی عادت چھائی ہوئی تھی،مگر اب جب سائنس کی تحقیقات اور زیادہ ہوئی تو سائنس نے تھوڑا پینترا بدلا کہ صبح کے وقت برش کرنا Important (اہم) تو ہے، مگر اتنا Important نہیں ہے،جتنا کہ رات کو سونے سے پہلے برش کرنا۔ میں نے ایک ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ وہ کیوں؟ کہنے لگے کہ دن میں تو انسان بولتا رہتا ہے اور منہ کو حرکت دیتا رہتا ہے جس کی وجہ سے جراثیم کو Destruction (ہلاک) کرنے کا موقع ملتا ہے، مگر رات کو جب آدمی منہ بند کرکے سوجاتا ہے تو سارا منہ ساکن ہوتا ہےجس کی وجہ سے جراثیم کو پھلنے پھولنے کا Maximum (زیادہ سے زیادہ) وقت ملتا ہے دانتوں کو خراب کرنے کا۔ لہٰذا ڈینٹل ڈاکٹر اس بات کی تصدیق کریں گے کہ رات کو جتنے دانت خراب ہوسکتے ہیں، اتنے دانت دن کو خراب نہیں ہوسکتے۔ اب ویسٹ میں کہتے ہیں کہ رات کو دانت برش کرکے سونا چاہئے۔ میں نے کہا، میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب بھی سوتے تھے، باوضو ہوکر سوتے تھے اور ہر وضو میں چونکہ دانت بھی صاف کرتے تھے،لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنا منہ صاف کرکے آرام فرماتے تھے۔ دُنیا نے تو آج کہنا شروع کیا ہے اور اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے اس بات کی ہمیں تعلیم دے دی۔