Post With Image

رضا ربانی،اعتزاز احسن کے دوبارہ سینیٹر نہ بننے کے اعلان نے پارٹی کے اندر سیاسی طوفان کھڑا کردیا


اسلام آباد(ویب ڈیسک )سینیٹ آف پاکستان میں مارچ 2018ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 19 سینیٹرز کی ریٹائرمنٹ اور چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی،اپوزیشن لیڈر چوہدری اعتزاز احسن کے دوبارہ سینیٹر نہ بننے کے اعلان نے پارٹی کے اندر سیاسی طوفان کھڑا کردیا ،جبکہ پارٹی ایوان بالان میں اکثریتی جماعت ہونے کا اعزاز کھودے گی۔ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی اور اعتزاز احسن نے پارٹی قیادت کو آگاہ کردیا ہے کہ 2018ء کے مارچ میں ہونے والے الیکشن میں دوبارہ سینیٹرز نہیں بنیں گے،ان کے اس اصولی فیصلے کے بعد پیپلزپارٹی سخت مشکلات میں مبتلا ہوگئی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن سے دوبارہ سینیٹر بننے کے لئے درخواست کریں گے اور ان سے ملاقات کا بھی امکان ہے۔مجموعی طور پر 52سینیٹر مارچ2018ء کے الیکشن میں ریٹائرڈ ہوجائیں گے،جن میںپی پی پی کی19،مسلم لیگ(ن) کی8،ایم کیو ایم ،پاکستان مسلم لیک(ق) کی4,4سینیٹرز ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت مارچ2018ء کے الیکشن میں سینیٹر کے چناؤ کے لئے سخت مشکلات سے دوچار ہے اور انہیں نئی قیادت سامنے لانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔پیپلزپارٹی سینیٹ میں اس وقت اکثریتی جماعت ہے،جس کے پاس 27 جبکہ مسلم لیگ(ن) کے پاس26سینیٹرز ہیں۔مارچ2018ء کے الیکشن میں مسلم لیگ(ن) نئی اکثریتی جماعت بن کر ابھرے گی۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری اعتزاز احسن کو دوبارہ سینیٹر بنانے کے لئے بضد ہیں،کیونکہ انہیں سینیٹ میں آئینی اور قانونی لحاظ سے ایک قدآور شخصیت کی تلاش ہے جبکہ اعتزاز احسن کا متبادل انہیں نہیں مل رہا،جس کے باعث پارٹی کے اندر ایک بحرانی کیفیت چل رہی ہے۔


آپ کی رائے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا