Post With Image

جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ (ن) میں واپسی کا فیصلہ کرلیا


سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ (ن) میں واپسی کا فیصلہ کرلیا اور اس حوالے سے معاملات طے پا گئے۔ذرائع کے مطابق جاوید ہاشمی کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا باضابطہ اعلان رواں ماہ کے آخری ہفتے میں متوقع ہے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مخدوم جاوید ہاشمی نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو ملتان دورےکی دعوت دی ہے اور نوازشریف کی مریم نواز کے ہمراہ 27 یا 28 دسمبر کو جاوید ہاشمی کے گھر آمد متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق نوازشریف کی ملتان آمد پر جاوید ہاشمی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کریں گے۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کا کہنا تھا کہ جاوید ہاشمی ان کے بھائی ہیں اور وہ ان کی واپسی کا خیر مقدم کریں گی۔خیال رہے کہ تحریک انصاف چھوڑنے کے بعد باغی کے دل میں اپنی پرانی جماعت کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو گیا تھا جس کے بعد انہوں نے مسلم لیگ نواز کے حق میں متعدد بیان دینے کے ساتھ ساتھ پاڑی میں دوبارہ شمولیت کے لیے بھی ہاتھ پاؤں مارنے شروع کردیئے تھے۔ ان کی کوششیں اب رنگ لانا شروع ہع چکی ہیں ۔اس حوالےسے کچھ دن پہلے پاکستان تحریک انصاف کے سابق صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی جس کے بعد ان کے دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کے امکانات مزید واضح ہوگئے ہیں۔باخبر ذرائع کے مطابق پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نوازشریف سے سابق رہنما مسلم لیگ (ن) جاوید ہاشمی نے ملاقات کی۔ نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے جاوید ہاشمی کا استقبال کیا اور انہیں گھر واپس آنے پر خوش آمدید کہا۔ ملاقات میں وفاقی داخلہ احسن اقبال، وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق، سینیٹر پرویزرشید اور وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی موجود تھے۔نوازشریف اور جاوید ہاشمی کی ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ جاوید ہاشمی نے بیگم کلثوم نواز کی طبیعت دریافت کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ پاکستان کے سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے دسمبر 2011 میں اپنی جماعت مسلم لیگ (ن) کو خیر باد کہہ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی تھی تاہم پی ٹی آئی میں بھی وہ زیادہ عرصہ نہ رہ سکے اور عمران خان کی جانب سے انتخابات 2013 میں دھاندلی کے خلاف دیئے گئے دھرنوں سے اختلاقات کے باعث تحریک انصاف کے ساتھ نہ چلنے کا فیصلہ کیا اور اب جاوید ہاشمی کی مسلم لیگ (ن) میں دوبارہ شمولیت کا امکان ہے۔جبکہ دوسری جانب خواجہ ن لیگ کے سینئر رہنما سعد رفیق کہتے ہیں کہ عدلیہ کی بحالی کے لئے جیلیں اس لئے نہیں کاٹیں کہ متنازع فیصلے کئے جائیں، نظریہ ضرورت کو اب دفن کرنا ہو گا، جاوید ہاشمی کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کے چھوڑ کر جانے میں ن لیگ بھی ذمہ دار تھی۔مسلم لیگ(ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ افواج کا کردار سلامتی کے لئے ہونا چاہئے سیاست میں دلچسپی نہیں لینی چاہئے۔عدلیہ کی بحالی کے لئے جیلیں اس لئے نہیں کاٹیں کہ متنازع فیصلے کئے جائیں، چیف جسٹس کی بحالی کے بعد ہم نے سوچا کہ عدلیہ آزاد ہوگئی ہے لیکن پھر ہمارے ہی خلاف فیصلے آنا شروع ہو گئے اورعوام کے منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دے دیا گیا، عوام کو اس طرح کے فیصلے قبول نہیں، 16 وزرائے اعظم کو الزام لگا کر نکالا گیا ہر بار وزیراعظم ہی غلط ہوتا ہے، کسی دوسرے ادارے کے سربراہ کو کیوں نہیں نکالا جاتا، پرویزمشرف کا احتساب کیوں نہیں ہوتا، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے سے تحقیقات کیوں نہیں کی جار ہے۔وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ چند لوگ پاکستان کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرسکتے، اسی لئے ہم نے عدالتی نااہلی کے باوجود نوازشریف کو اپنا صدر بنایا جس پر ہمیں فخر ہے۔ملک میں آج بھی جمہوریت مکمل طور پر بحال نہیں اور سیاست بھی آزادی سے نہیں کرنے دی جارہی، اگر سیاست نہیں ہوگی تو ملک کی سالمیت اور آزادی پر سمجھوتے ہوں گے، ہمیں عدل پر فیصلوں و اتحاد جب کہ نظریہ ضرورت کو دفن کرنے کی ضرورت ہے۔ بے نظیر کی شہادت کے بعد بھی مصنوعی لیڈرشپ بنانے کی کوشش کی گئی لیکن مصنوعی لیڈر شپ اور مصنوعی سیاسی جماعت زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔


آپ کی رائے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا