Post With Image

نواز شریف کے خلاف قرض اتارو ملک سنوارو مہم کے حسابات سے متعلق درخواست مسترد


سندھ ہائیکورٹ نے نواز شریف کے خلاف قرض اتارو ملک سنوارو مہم کے حسابات سے متعلق درخواست مسترد کردی۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، آئینی درخواست قرض اتارو ملک سنوارو مہم کے حسابات متعلق دائر کی گئی ۔جسٹس منیب اخترنے کہا کہ درخواست غیر ضروری اور عدالتی وقت کا ضائع ہے، درخواست گزار درخواست میں بیان کردہ حقائق پیش نہ کر سکی، عدالت نے درخواست مسترد کردی۔درخواست گزار نے کہا کہ قرض اتارو ملک سنوارو مہم کی بائیس ہزار آٹھ سو کھرب کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔درخواست کے مطابق یہ رقم چترال کے تاجرعبداللہ کی نشاندہی پر ہیروں کی نیلامی کے ذریعے حاصل کی گئی ،ہیروں کی نیلامی سے حاصل شدہ بائیس ہزار آٹھ سو کھرب قومی خزانے میں جمع نہیں کرائے گئے۔دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے یلوکیب اسکیم میں کرپشن کے ذریعے اربوں روپے کی خرد برد کی،1998 میں قرض اتارو ملک سنوارو مہم میں لوگوں نے اپنے اثاثے اور زیورات حکومت کو دیئے،چترال کے تاجر نے نواز شریف کو چترال میں بائیس ہزارآٹھ سو کھرب مالیت کے ہیروں کی نشاندہی کی، اس ضمن میں نواز شریف کے گھر پر اجلاس ہوا۔درخواست گزارنے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم نے اپنے داماد کیپٹن صفدر کو مقامی تاجر کے ہمراہ چترال بھیجا،چترال سے ہیروں کے چھ صندوق لاہورلائے گئے، ہیروں کی نیلامی کی کارروائی نواز شریف کے گھر لاہور ماڈل ٹاوٴن میں ہوئی۔دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہیروں کی نیلامی میں 35 ممالک کے نمائندوں نے حصہ لیا، سعودی عرب کے بادشاہ شاہ عبداللہ نے بائیس ہزار آٹھ سو کھرب کی نیلامی پر ہیرے حاصل کئے، ہیروں کی نشاندہی کرنے پر نواز شریف نے مقامی تاجر 33فیصد حصہ دینے کا وعدہ کیاتھا ، نواز شریف نے ہیروں سے حاصل رقم سے اندرون و بیرون ملک رشتے داروں کے نام پر جائیدادیں بنائیں، کھربوں روپے کے ہیرے دینے والا تاجر آج بھی کسمپرسی اور مفلسی کی زندگی گزار رہا ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ چترال سے ہیرے لانے والوں میں پی اے ایف کا فوجی افسر کرمانی ودیگر شامل تھے، بعد میں فوجی افسر سمیت دیگر جہاز حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔درخواست میں سیکریٹری داخلہ، ڈائریکٹر انٹر پول،ڈی جی ایف آئی اے،سابق وزیر اعظم نواز شریف فریق نامزدہیں جبکہ سابق صدر پرویز مشرف ،سابق صدر آصف علی زرداری ،ڈی جی پی اے ایف اور نیب حکام کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔خیال رہے کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سٹیٹ بنک کو ہدایت کی ہے کہ 1997ء میں قرض اتارو ملک سنوارو مہم میں جمع کرانے والے تمام لوگوں کو ان کی رقوم واپس کی جائے اور میڈیا کے ذریعے لوگوں میں آگاہی کیلئے مہم چلائی جائے کہ کس طرح وہ رقم واپس لے سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ مرکزی بنک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سکیم میں رقم جمع کرانے والوں کو واپسی کیلئے کہا گیا ہے تاہم 12 ملین روپے ابھی تک واپس لینے کیلئے لوگوں کی درخواستیں موصول نہیں ہوئیں۔ قبل ازیں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے اعلان کیا کہ لیگی حکومت ’’قرض اتارو، ملک سنوارو‘‘ مہم کی رقم واپس کرے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ بنکوں کے پاس 47 کروڑ روپے کی رقم ہے۔ سٹیٹ بنک نے رقوم واپس کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔ آن لائن کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو بتایا گیا کہ متروکہ وقف املاک کے اکائونٹس میں ڈیڑھ ارب روپے کے فراڈ پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ ایف آئی اے نے فراڈ میں ملوث حبیب بینک اور نیشنل بینک کے ایک ایک افسر کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ 26 کروڑ روپے کی رقم ریکور کر لی۔ اے پی او کے ایک منیجر کو بھی 28 کروڑ روپے منتقل کیے گئے۔ حبیب بنک نے فراڈ میں ملوث چار ملازمین کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بتایا کہ یو بی ایل میں 12 ارب روپے کا فراڈ نہیں ہوا۔ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک نے بتایا کہ فاطمہ نامی خاتون کو سکیم کے تحت پیسے دے دئیے ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ آپ لوگوں کو رقم کیوں نہیں دیتے، ان کو ہمارے پاس آنا پڑتا ہے۔


آپ کی رائے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا