Post With Image

شہباز شریف نے بچوں کے تحفظ کیلئے 20 رکنی کمیٹی قائم کردی


وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بچوں کے تحفظ کیلئے 20 رکنی کمیٹی قائم کردی جو 15 جنوری تک اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے حکم پر وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ خان کی سربراہی میں بچوں کے تحفظ کیلئے 20 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ہے ۔ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں ماہرین تعلیم، علماءکرام اور وزرا شرکت کریں گے جبکہ یہ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر اجلاس بلا کر مختلف سفارشات تیار کرے گی اور 15 جنوری کو تجاویز وزیر اعلیٰ کو ارسال کرے گی۔واضح رہے کہ دوسری جانب کم سن زینب قتل کیس میں تفتیشی ٹیمیں کڑیاں ملانے میں مصروف ہیں اور واقعے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں تاہم تاحال قاتل قانون کی گرفت سے آزاد ہے ۔ذرائع کے مطابق قصور میں زیادتی کے قتل ہونے والی 7 سالہ زینب کے کیس میں تفتیشی ٹیمیں کڑیاں ملانے میں مصروف ہیں۔ والدین کے اعتراض پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی جے آئی ٹی کے سربراہ کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے جس نے زینب کے گھر اور علاقہ کا دورہ کرکے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔تحقیقاتی اداروں نے واقعے کے روز زینب کے گھر سے نکلنے کے بعد گلی سے گزرنے والے 247 افراد کو مشکوک قرار دے کر واچ لسٹ میں رکھا ہوا ہے۔ زینب کے گھر سے نکلنے کے بعد وہاں پانچ موبائل نمبر زیر استعمال تھے جن میں سے ایک مشکوک نمبر سے تین کالز کی گئیں، جب کہ سات بج کر پندرہ منٹ پر ایک نمبر سے مشکوک میسج کیا گیا۔زینب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی جاری ہوگئی ہے جس میں بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی ہے۔ زینب قتل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے دونوں نوجوانوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی جاری ہوئی ہے جس کے مطابق مقتول محمد علی کو دو گولیاں لگیں۔واضح رہے کہ قصور میں ہفتے کی شب 7 سالہ بچی زینب ٹیوشن جانے کے لیے گھر سے نکلی اور لاپتہ ہوگئی۔ چند روز بعد منگل کی شب کچرا کنڈی سے اس کی لاش ملی۔مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 5 روز قبل زینب سپارہ پڑھنے گھر سے نکلی تھی لیکن گھر کے قریب بچی کو راستے میں اغوا کرلیا گیا، بچی کی گمشدگی پر اہل خانہ نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی تاہم گزشتہ رات کچرے کے ڈھیر سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔واقعے کے بعد پولیس نے زینب کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا، ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بچی کو ایک سے زائد بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد اہل علاقہ مشتعل ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا۔ علاقے میں مکمل ہڑتال ہے اور دکانیں بھی بند کردی گئیں، کمسن بچی زینب کے قتل کے خلاف ڈسٹرکٹ بار اور انجمن تاجران نے ہڑتال کا اعلان کردیا اور بچی کے قتل میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری پر احتجاج کیا۔


آپ کی رائے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا