Post With Image

کس کس کو نا اہل کرو گے ؟ہر گھر میں نواز شریف بستا ہے،مریم نواز


گوجرانوالہ:پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنماء سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہاہے کہ انتقامی عدالت کو نواز شریف کیخلاف گواہ نہیں مل رہے اب توہین عدالت کے نوٹسز جاری کرنے شروع کردیئے گئے ہیں،کسی عدالت میں اتنی ہمت ہے کہ چیف جسٹس کے بالوں کو کھینچنے والے اور ججوں کے بچوں کو گھروں میں نظر بند کرنے والے مشرف کو بلائے، عمران نے عدلیہ کیخلاف شرمناک جیسے الفاظ ادا کئے ، کسی عدالت میں اتنی ہمت ہے جو اسے پانچ سال کی نا اہلی کی سزا سنائے۔کس کس کو نا اہل کرو گے ؟ہر گھر میں نواز شریف بستا ہے،جیلیں بھر جائینگی مگر نواز شریف سے محبت کم نہیں ہوگی ،جب انصاف کا ترازو لاڈلے کی طرف جھکا ہوگا تو سوال تو پوچھیں گے ۔توہین عدالت کی سزا ہے ، کیا کروڑوں ووٹ لیکر منتخب ہونیوالے وزیراعظم کی توہین کی کوئی سزا نہیں؟۔ گوجرانوالہ نے 2014ء میں دھرنے والوں کو بھگایا تھا آج تک بھاگتے پھر رہے ہیں، نواز شریف نے چار سال میں دس ہزار میگا واٹ بجلی بنا لی ،مخالفین پانچ سال بعد ایم او یو پر دستخط کررہے ہیں ، مخالفین کو پتا ہے انتخابات آنے والے ہیں کیا منہ لیکر ان کے پاس جائینگے۔گوجرانوالہ میں سوشل میڈیا ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ لاہور لاہور ہے میں کہتی ہوں گوجرانوالہ گوجرانوالہ ہے۔ 2014ء میں دھرنے والے جب گوجرانوالہ آئے تھے تو گوجرانوالہ نے انہیں کیسے بھگایا یاد ہے؟۔ دھرنے والے آج تک بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ گوجرانوالہ وہ تاریخی شہر ہے جہاں نواز شریف عدلیہ بحالی کی تحریک لیکر پہنچے تو عدلیہ بحال ہوگئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے سینیٹ انتخابات اور عام انتخابات قریب آرہے ہیں رونے والوں کی آوازیں تیز ہوتی جارہی ہیں۔ اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ یہ سارے سوشل میڈیا کے نئے ممبران ہیں تو پرانے کدھر گئے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں کہ نواز شریف نا اہل ہوگیا ہے یہ کیسی نا اہلی ہے کہ نواز شریف جہاں جہاں جاتا ہے پورا کا پورا شہر امڈ آتا ہے۔ پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں۔ ایبٹ آباد سے کوئٹہ، ہری پور سے کوٹ مومن ، جڑانوالہ سے گوجرانوالہ تک نواز شریف ہی نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتقامی عدالت کو نواز شریف کیخلاف گواہ نہیں مل رہے مگر عوامی عدالت میں نواز شریف کے حق میں گواہی دینے والوں کیلئے میدان چھوٹے پڑجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے شیر نواز شریف کا مقدمہ لیکر آگے بڑھ رہے ہیں۔ نواز شریف کے شیروں نے مخالفین کو دھول چٹا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ سازوں نے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔ آپ نے ان کے سارے منصوبے فیل کردیئے ہیں۔ وہ امید لگا کر بیٹھے تھے کہ نواز شریف چھپ کر بیٹھ جائے گا ۔ مسلم لیگ (ن) ٹوٹ جائیگی۔ شریف فیملی بکھر جائیگی۔ نواز حکومت ختم ہو جائیگی ۔ ٹیکنو کریٹ حکومت آ جائے گی ، سینیٹ اور عام انتخابات نہیں ہونگے مگر پورا پاکستان جاگ گیا ہے الحمد اللہ نواز شریف جیت چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پانچ سال حکومت کرنے کے بعد مخالفین کے پاس خدمت کا ایک ایشو بھی نہیں بچا ۔ نواز شریف نے جو وعدے کئے تھے وہ سارے کے سارے وعدے پورے کردیئے ۔ مریم نواز نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوئی؟۔ کیا دہشت گردی ختم نہیں ہوئی؟۔ موٹر وے بنے کہ نہیں بنے؟، سی پیک بھی بن گیا۔ تمام کی تمام سازشوں کے باوجود نواز شریف نے دس ہزار میگا واٹ بجلی بنا لی۔ مخالفین پانچ سال بعد ایم او یو سائن کرتے نظر آرہے ہیں ۔ ہم نے چار سال میں 10 ہزار میگا واٹ بجلی بنا دی ، مخالفین آج ایم او یو سائن کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین کو پتا ہے کہ ایم او یو سائن نہ کئے تو الیکشن میں کیا منہ لیکر عوام کے پاس جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین سازشوں پر سازشیں کرتے رہے ، پانچ سال گزر گئے اب عوام کو حساب دینا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے لوڈشیڈنگ ختم کردی، دہشت گردی ختم کردی، سی پیک بنا دیا ۔ موٹروے بنا دیئے، اب نواز شریف اگلے پانچ سال کے منصوبے بنا رہے ہیں کہ عوام کی خدمت کیسے کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مشرف دور میں نواز شریف کو عمر قید کی سزا ہوئی ، ہتھکڑیاں لگیں، جلا وطن ہوئے، اٹک قلعہ میں قید کاٹی تو مشرف کہتا تھا اب نواز شریف کبھی واپس نہیں آئے گا ۔ نواز شریف تاریخ کا حصہ بن گیا۔ میں پوچھتی ہوں آج مشرف کہاں ہے ؟۔ انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ نواز شریف کو کچھ نہیں ہونے والا۔ نواز شریف کے ساتھ اللہ کی مدد اور اس کی ماں کی دعا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے پاس ان سے بے لوث محبت کرنیوالے عوام ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ سازشوں کے ذریعے نواز شریف کے ساتھیوں کو توڑا نہ جاسکا۔ اقامہ بہانا تھا ۔ پانامہ کے فیصلے کے بعد ہر ضمنی الیکشن نواز شریف نے جیتا اور پہلے سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ اب ایک اور بہانہ ڈھونڈا ہے۔ توہین عدالت کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ نواز شریف ایک اکیلا شخص نہیں ہے ہر گھر میں نواز شریف بستا ہے کس کس کو نا اہل کروگے؟۔ کس کس کو توہین عدالت کے نوٹس بھیجو گے؟ کس کس کو قید کرو گے؟ جیلیں بھر جائینگی نواز شریف کے وفادار ساتھی ختم نہیں ہونگے۔ مریم نواز نے کہا کہ توہین عدالت کی سزا ہے ۔ کیا کروڑوں ووٹ لیکر منتخب ہونیوالے وزیراعظم کی توہین کی کوئی سزا نہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ منتخب وزیراعظم کو آپ نے گالیاں دیں، سسیلین مافیا کہا، ڈان اور گارڈ فادر کہا، اس کی توہین کی کوئی سزا نہیں؟۔ مریم نواز نے کہاکہ توہین عدالت کی سزا ہے ۔ توہین دستور کی کوئی سزا نہیں۔ توہین آئین کی کوئی سزا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کی سزا تو ہے پارلیمنٹ کی توہین کی کوئی سزا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے ووٹ کی توہین کی جائے اس کی کوئی سزا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب نہال ہاشمی نے بیان دیا تھا مجھے بھی دکھ ہوا ۔ مجھے بہت غصہ آیا کیونکہ اس وقت میرا کیس عدالت میں تھا میں سمجھی کہ میرا کیس خراب ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نہال ہاشمی کو ایک ماہ کی قید اور پانچ سال کیلئے نا اہلی کی سزا ہوئی ہے ۔ نہال ہاشمی کو سزا دیتے ہیں وہ مشرف جس نے چیف جسٹس کے بالوں کو پکڑ کر کھینچا ۔ 60 ججوں کے بچوں کو گھروں میں نظر بند کیا ۔ کیا کسی عدالت میں ہمت ہے اسے بلائے ؟ کیا کسی عدالت میں اتنی ہمت ہے کہ عمران خان جو چار سال عدلیہ اور پارلیمنٹ کو کو گالیاں دیتا رہا ،شرمناک جیسا لفظ عدلیہ کیلئے ادا کرتا رہا ایک ماہ کیلئے جیل جائے گا؟ ، پانچ سال کیلئے نا اہل ہوگا؟۔ انہوں نے کہا کہ جب انصاف کا ترازو ایک طرف جھکا ہوگا جبکہ انصاف کا ترازو لاڈلے کی طرف جھکا ہوگا تو سوال تو پوچھیں گے اور جب سوال پوچھتے ہیں تو توہین عدالت لگ جاتی ہے پھر نوٹسز آنا شروع ہو جاتے ہیں لیکن سوال کا جواب نہیں آتا جو دینا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے انصاف کا ترازو ایک طرف جھکا کر رکھنا ہے ، ناانصافی ہونی ہے تو اللہ کا اپنا نظام ہے وہ ترازو سیدھا کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے نا اہلی پہلے بھی دیکھی ہے ۔ نواز شریف کوعمر قید کی سزا سنائی گئی آج وہ ججز کہاں ہیں؟۔ آج کہاں ہے وہ مشرف جو کہتا تھا نواز شریف اس ملک میں واپس نہیں آسکتا آج خود ملک سے باہر ہے واپس نہیں آسکتا۔ نواز شریف سے سوال ہوگا عوام کے منتخب نمائندوں سے سوال ہوگا تو سب سے سوال ہوگا۔ مریم نواز نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نا انصافی قبول کروگے؟ اس نظام کو بدلو گے جس میں آئین توڑنے والے کو عدالت نہ بلا سکے ؟ وہ بیماری کا بہانہ بنا کر بھاگ جائے لیکن منتخب وزیراعظم کو اقامہ پر نکال دیا جائے جس پر کارکنوں نے نا منظور نا منظور کے نعرے لگائے۔ مریم نواز نے کہا کہ وعدہ کریں آپ نا انصافی کیخلاف آواز اٹھائینگے۔ وعدہ کریں منتخب وزیراعظم کی توہین کا بدلہ 2018ء میں ووٹ کے ذریعے دینگے۔ نواز شریف کا بازو بنیں وہ عدل کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گا۔آخر میں مریم نواز نے سوشل میڈیا ، مسلم لیگ(ن) اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔


آپ کی رائے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا