!سب کچھ چھوڑیں ! صرف ’’تعلیمی انقلاب‘‘ لے آئیں


آج ملک جن حالات سے گزر رہا ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، ہر طرف بے یقینی کا ماحول ہے، اخلاقیات، اقتصادیات، رواداری، عملیات، عمرانیات ، معاشرتی اخلاقیات تقریباََ ہر چیز کا جنازہ نکل چکا ہے۔ اورجس معاشرہ میں اقتصادیات لوٹ مار کی لپیٹ میں آ جائے وہاں اخلاقیات کا تار تار ہو جانا بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہی کچھ ہمارے ہاں ہوا جس کا نوے فیصد کریڈٹ اس ’’کلچر‘‘ کو جاتا ہے جو سیاست میں ’’نووارد‘‘ سیاستدانوں نے متعارف کرایا اور پھر وہ سریع الاثر زہر کی طرح پورے معاشرے میں پھیلتا چلا گیا۔۔۔ کہیں ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی صدائیں ، کہیں اداروں کو گالیاں ، کہیں اسلام کے نام پر ملک بند اور کہیں کرپشن کرکے بھی اکڑ میں رہنا کہ مجھ سے حساب کیوں مانگا جا رہا ہے۔۔۔ آج ہماری یہ حالت ہے کہ اجتماعی بدن کا ایک ایک مسام ناسور میں تبدیل ہو چکا۔ کبھی کوئی اصلاح کا بیڑہ اٹھائے بھی تو اسے یہی سمجھ نہ آئے کہ شروع کہا ں سے کرے۔صرف ایک دن کی صرف چند خبروں کو آپس میں مکس کر کے دیکھیں، کیسی مکروہ ترین صورتحال سامنے آتی ہے۔ 
ہر جگہ پاکستانی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتا نظر آتا ہے، لاہور بھر میں کیمرے لگ گئے مگر ابھی بھی سگنل بریک کرنا ایک فیشن بن گیا ہے۔ تربیت کا فقدان اس قدر نظر آتا ہے کہ ’’دو نمبری‘‘ کرکے جتنی راحت نصیب ہوتی ہے شاید اتنی نیک کام کرنے میں بھی نہ ہو۔۔۔ وہی پاکستانی جو دوسرے ممالک میں لائن میں کھڑا نظر آتا ہے اورانتہائی تحمل، بردباری اور صبر کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے وہ لاہور ائیر پورٹ پر اترتے ہی بدتمیزی کرنا شروع کردیتا ہے۔ وہی پاکستانی جو غیر ملکی ائیر لائن پر ڈسپلن کے ساتھ سفر کرتا ہے، وہ پی آئی اے میں بیٹھتے ہی تھوکنا شروع کردیتا ہے۔۔۔ وہی پاکستانی بیرون ملک وقت پر ڈیوٹی پر آتا ، وقت پر اور ایمانداری سے کام کرتا اور وقت پر آرام کرتا ہے یہاں آتے ہیں ہڈ حرامی، کام چوری اور بے ایمانی اس کی نس نس میں رچ جاتی ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ کیا اس کی بڑی وجہ تعلیم کی کمی تو نہیں؟ کیا تعلیم کی کمی کا مسئلہ بھی آئی ایم ایف نے ڈالا ہے؟ کیا یہاں ڈونلڈ ٹرمپ، اوباما اور بش انتظامیہ تعلیم کا بیڑہ غرق کرکے چلی گئی ہیں؟
گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا میں تعلیم پر سب سے کم سرمایہ خرچ کرنے والا ملک ہے۔پاکستان تعلیم پرجی ڈی پی کا 2.14 فیصد خرچ کرتا ہے، جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔ مسئلہ صرف بجٹ کا ہی نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ جو پیسہ مختص کیا جاتا ہے، اس کا ایک بڑا حصہ تنخواہوں اور کرپشن میں چلا جاتا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں ترقیاتی اخراجات بہت اہم ہیں لیکن اس کے لئے خاطر خواہ پیسہ نہیں ہے۔ملک بھر میں ڈھائی کروڑ بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔ یہ پاکستان میں بچوں کی آبادی کا تقریباََ نصف حصہ ہے۔ باقی جو بچے اسکول جاتے بھی ہیں، اُن کو فراہم کی جانے والی تعلیم بھی کچھ زیادہ معیاری نہیں ہے۔ 48فیصد اسکولوں کی عمارتیں خطرناک اور خستہ حال ہیں، جن کو فرنیچر، ٹوائلٹس، چار دیواری، پینے کے صاف پانی اور بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔ 18فیصد اساتذہ عموماََ اسکولوں سے غیر حاضر رہتے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں، اُس کا بھی بیڑہ غرق کیا جا رہا ہے۔قارئین کو یاد ہوگا کہ 2003ء سے2008ء کے دور کو اعلیٰ تعلیم کا سنہری دور کہا گیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ہونے والی تیز رفتار ترقی نے بھارت میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی تھیں۔ بھارتی وزیراعظم کے سامنے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہونے والی ترقی کے حوالے سے ایک تفصیلی میٹنگ ہوئی جو کہ بھارت کے بڑے اخباروں نے نمایاں طور پر شائع کی اور ہندوستان ٹائمز کی سرخی یہ تھی ’’ہندوستان کی سائنس کو پاکستان سے خطرہ‘‘۔حالانکہ انڈیا کو اس حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ دشمن تو خود ہمارے درمیان موجود ہیں۔ دراصل ملک کو تباہ کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اُس ملک کی تعلیم کو تباہ کردیا جائے تاکہ اس کے نوجوان نہ اُبھر سکیں۔اس کے برعکس آج ذرا غور فرمائیں کہ اس ملک میں اعلیٰ تعلیم کے نام پر جعلی یونیورسٹیوں اور کیمپسز کی تعداد 155تک جا پہنچ چکی ہیں پنجاب 102، سندھ میں 36، پختونخوامیں 11، اسلام آباد میں 3اور کشمیر میں بھی 3جعلی یونیورسٹیاں ہیں۔چشم بددور جعلی کلیموں اور جعلی ذاتوں سے شروع ہو کر جعلی ڈگریوں، جعلی دوائیوں سے ہوتے ہوئے ہم جعلی یونیورسٹیوں تک آ پہنچے اور یہ ’’ہم‘‘ کون ہیں؟ جن کا آغاز اقرا (پڑھ) سے ہوا اور ہمیں بتایا گیا کہ علم تمہاری کھوئی ہوئی میراث ہے۔ ہم نے میراث کو منڈی کا حال بنا کر اس کی لوٹ سیل لگا دی اور ایسا ایسا سیاسی جوکر پیدا کیا جو کہتا تھا ’’ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے، جعلی ہو یا اصلی‘‘ یعنی قوم تو قوم ہوتی ہے جعلی ہو یا اصلی، عزت تو عزت ہوتی ہے جعلی ہو یا اصلی، غیرت تو غیرت ہوتی ہے جعلی ہو یا اصلی۔معیشت تو معیشت ہوتی ہے جعلی ہو یا اصلی، وزیراعظم تو وزیراعظم ہوتا ہے صادق ہو یا جھوٹا، امین ہو یا خائن علی ہذالقیاس۔
کیا یہ پاکستان کے خلاف سب سے بڑی سازش نہیں ہو رہی کہ یہاں کہ عوام کو ایجوکیٹ ہونے سے روکا جائے اور یہ سازش کون کر رہا ہے؟ کیا بیرونی قوتیں اس کار خیر میں حصہ دار ہیں؟ نہیں! یہ سازشیں پاکستان کے اندر سے ہو رہی ہیں،اس کام میں ہمارے اپنے لوگ ملوث ہیں جو ہر گز یہ نہیں چاہتے کہ اس ملک کے عوام پڑھ لکھ جائیں، یہاں کی بیوروکریسی، سیاستدان، سیاسی خاندان اور وڈیرے نہیں چاہتے کہ عوام میں شعور آجائے ۔۔۔ کیوں کہ انگلش سکالرمارٹن کے مطابق جب انسان میں تبدیلی کا آغاز شعور ہی لاتا ہے۔۔۔ جب شعور نہیں ہوگا تو ’’نیاپاکستان‘‘ ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔ بقول شاعر 

ابھار کر مٹائے جا بگاڑ کر بنائے جا
کہ میں ترا چراغ ہوں جلائے جا بجھائے جا

 

آج جنوبی پنجاب میں تقریباََ چالیس سال کے اندر کوئی نئی یونیورسٹی نہیں بنی جب کہ زراعت سے مالا مال اس خطے میں کوئی زرعی یونیورسٹی بھی نہیں ہیں۔سندھ میں تعلیم کی شرح سب سے زیادہ ہے لیکن صورتِ حال بہت زیادہ تسلی بخش نہیں ہے۔ سندھ میں نو سے دس ہزار کے قریب گھوسٹ اسکولز ہیں۔ حکومت نے چار ہزار سے زائد ایسے اسکولوں کی موجودگی کا خود اعتراف کیا ہے۔ مشرف کے دور میں ناظموں کے ہاتھ میں نوکر شاہی کے بھی اختیارات آ گئے تھے، جس سے وڈیرے مزید طاقتور ہوگئے اور انہوں نے تعلیم کا خوب بیڑہ غرق کیا۔
خلاصہ یہ ہے کہ جاگیردار نہیں چاہتے کہ لوگوں کو تعلیم دی جائے۔ہمارے حکمرانوں نے ایک بھی ایسی یونیورسٹی نہیں بنائی جہاں ان سیاستدانوں کے اپنے بچے تعلیم حاصل کر سکیں۔ جو چند ایک یونیورسٹیاں بنا دی گئی ہیں وہ مکمل طور پر کمرشل یونیورسٹیاں ہیں جہاں غریب آدمی کا لائق بچہ جانے سے قاصر ہے۔ اسی لیے جب ملک میں خواندگی کم ہوگی تو پھر معاشرے میں بہت سے مسائل جنم لیں گے، شخصیات پرستی کے رجحان کا آغاز ہوگا، عوام کی اپنی سوچ ختم ہوجائے گی، اور جب عوام کی اپنی سوچ ختم ہو جائے تو پھر انہیں کوئی بھی مذہب، سیاست اور دیگر سرگرمیوں کے لیے استعمال کرلیتا ہے اور پھر اُس کا ٹھکانہ یا تو ملک کے کسی چوراہے پر دھرنا دینا ہوتا ہے یا کسی گولی کا نشانہ بننا ہوتا ہے۔ حدتو یہ ہے کہ اس لیے مدرسوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، جہاں نہ کوئی نصاب ہے، نہ تربیت یافتہ اساتذہ۔۔۔ بلکہ بادی النظر میں وہاں خود ساختہ نصاب پڑھایا جا رہا ہے۔ جس سے فرقہ واریت کو فروغ مل رہا ہے۔ اگلے دس سالوں میں یہاں جو آگ لگنی ہے وہ قابو سے باہر ہوگی۔ 
ہمارے نوجوانوں کے لیے یہاں مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ اگر یہ نوجوان مذہب کی طرف جاتے ہیں تو وہاں فرقہ واریت میں پھنس جاتے ہیں، اور چند ایسے لوگوں میں پھنس جاتے ہیں جنہیں بات کرنے کی تمیز نہیں ہوتی۔ جنہوں نے اسلام میں گالیوں کے نئے تصور کا آغاز کیا ہے، جنہیں دیکھ کر ہماری نوجوان نسل پروان چڑھ رہی ہے۔ اس کے برخلاف دنیا کہاں پر پہنچ چکی ہے۔ مریخ پر جانے کی بکنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ قومیں تعلیم سے ایک دوسرے کو شکست دے رہی ہیں، مہذب ملکوں کی سرحدیں ختم ہو رہی ہیں ، جبکہ پاکستانیوں کو ویزے نہیں ملتی ، ہمارے سینئر سٹیزن تک کو ویزے نہیں مل رہے ہوتے، ہمیں سچ اور جھوٹ کا فرق بھی نہیں بتایا جاتا۔ ہماری تربیت میں ہی یہ چیز شامل نہیں ہے کہ خدمت انسانیت اور خدمت وطن کیا ہوتی ہے۔۔۔ اللہ کی قسم یہاں قومی’’ قَسم‘‘ بن چکی ہے۔ نوجوان پولیس کے ہتھے چڑھ کر زندگیاں خراب کر رہے ہیں، معمولی کرائم میں ملوث نوجوانوں کو پکے چور اور ڈاکو بنا دیا گیا ہے۔ ایک واقعہ آپ سے شیئر کرنا چاہوں گا کہ گزشتہ دنوں نئے سال کے موقع پر ایک روڈ سے رات کے وقت گزرا تو وہاں پولیس نے چند نوجوانوں کو مرغا بنا یا ہوا، تو میں نے گاڑی روک کر اُن سے پوچھا کہ پاکستان کے ’’مستقبل کے معماروں‘‘ کا قصور کیا ہے؟ پولیس والے گویا ہوئے کہ یہ’’ منچلے‘‘ ہیں نیو ائیر نائٹ منانے نکلے ہیں۔ اب یہ بتایا جائے کہ اگر آپ نوجوانوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے آگے روڑے اٹکائیں گے تو کیا یہ گرم خون نوجوان چوریاں ، ڈکیتیاں اور قتل و غارت کر کے اپنے آپ کو اس معاشرے کا بدترین رکن نہیں بنالیں گے؟ 
جب آپ ان نوجوانوں کو اچھی تعلیم مہیا نہیں کرسکتے، اچھی تربیت کرنے کے قابل نہیں ہیں، ان کے کھیلنے کے گراؤنڈز ان سے چھینے جا رہے ہیں، ان کے پاس ہلہ گلہ کرنے کے لیے کوئی تفریح کا سامان نہیں ہے تو انہیں بدظن کیوں کیا جا رہا ہے؟ کیا دنیا بھر میں نوجوانوں سے خوشیاں چھین کر انہیں چور ڈاکو بنایا جا رہا ہے؟ پھر جب کوئی ہمارا نوجوان پڑھ لکھ جاتا ہے تو وہ یہاں سے فوراََ باہر جانے کو ترجیح کیوں دیتا ہے؟ لہٰذاان سازشوں سے بچنے کے لیے ہمیں سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں چودھریوں، وڈیروں، لٹیروں، خانوں، اربابوں اور نوابوں کی غلط فکری سے چھٹکارہ پانے کے لیے کسی دوسرے انقلاب کی ضرورت نہیں بلکہ محض تعلیمی انقلاب لے آئیں اخلاقیات سمیت ملک کے 90فیصد مسائل خود حل ہو جائیں گے۔