عوام کے حقوق کی بات کرنا ’’جرم‘‘کیوں؟


ایک مشہور کہاوت ہے کہ’’ چت بھی میری اور پٹ بھی میری‘‘۔آج ہمیں ہر طرف اس کہاوت کا عملی مظاہرہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے یعنی اقتدار بھی اپنے پاس ہی ہے اور احتجاج بھی خود ہی کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اپنی رہی سہی عزت کو سنبھالنے کی کوشش میں کیا جا رہا ہے۔ یہاں جماعت کی عزت بھی فرد واحد کی عزت سے بالواسطہ مشروط ہے اگر جناب گئے تو پھر جماعت بھی گئی۔کسی نے ’’عوام‘‘ کی بات کی تو یا اُس کا وجود نہیں یا وہ نہیں۔۔۔ وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ’’اصل‘‘ وزیر اعظم نواز شریف ہی ہیں۔اور نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ لوگو دیکھو! میرے خلاف فیصلہ آنے کے بعد حالات خراب ہو گئے ہیں، مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، بے روزگاری بڑھ گئی ہے، دہشت گردی نے سر اُٹھایا ہے، کرائم میں بے تحاضافہ ہوا ہے۔ عالمی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے اور ڈالر کی اُڑان بھی قابو میں نہیں رہی۔۔۔ حالانکہ مرکز میں حکومت ن لیگ کی، تمام وزراء ان کے اپنے، پنجاب وبلوچستان میں حکومت ان کی اپنی، تمام بیوروکریسی ان کے ماتحت، دنیا بھر میں لگائے ہوئے سفارتکار ان کے اپنے تو میرے خیال میں یہ بات کہتے ہوئے بھی شرم آنی چاہیے کہ ان کی حکومت فلاپ صرف اُن کو نکالنے کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ چلیں یہ مان بھی لیا کہ ایسا ہے تو میرے خیال میں یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ہم اپنے اداروں کو ٹھیک کرنے کے بجائے شخصیات پرستی کی طرف ملک کو لے گئے ہیں، دراصل یہی پاکستانی سیاست کا خاصہ ہے۔ 
کیوں کہ افسوس از حد افسوس جن باتوں کا اندیشہ تھا انہی کا جنم ہو رہا ہے، ہو بھی کیوں ناں، حکومت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے، ہر طرف ’’تحریکوں‘‘ کی آواز یں آرہی ہیں کسی نے 17جنوری کی ڈیڈ لائن دے دی ہے تو کسی نے13جنوری کی اور کسی نے اپنی اپنی حکومتوں کے خلاف ہی عدم اعتماد کی تحریکوں کا اعلان کر دیا ہے۔میں نے کہا تھا کہ مارچ تک ڈالر 120روپے پر چلا جائے گا جبکہ جنوری ہی میں ڈالر 114روپے تک جا چکا ہے۔اور تو اور سپریم کورٹ نے بھی 7دن کی ڈیڈ لائن دے دی ہے ، عدالت عظمیٰ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر تعلیم و صحت کے حوالے سے پنجاب میں کام ہوتا نظر نہ آیا تو اورنج ٹرین کو بند کردیا جائیگا۔ اور ویسے بھی ان سیاستدانوں نے آج کل ایک نئی اصطلاح ایجاد کرلی ہے کہ جو عوام کے حقوق کی بات کرے اُسے ’’پارٹی‘‘ بنا دیاجاتا ہے۔ جو عوامی سہولتوں پر حکومتی عدم توجہ کی بات کرے اُسے رسواء کر دیا جاتا ہے۔بقول شاعر 

یہ کیسی سیاست ہے مرے ملک پہ حاوی
انسان کو انساں سے جدا دیکھ رہا ہوں

ان سیاستدانوں نے آج کل چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کو پارٹی بنا دیاہے۔کیوں کہ آج کل حکومت کے اُن کاموں کی نشاندہی کر رہے ہیں جو عوام کے مفاد میں ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ غفلتوں کی نشاندہی کرنے پر بجائے حکومت شرمندہ ہونے اور شکرگزار ہونے کے منہ بسور رہی ہے اور طرح طرح کے بیانات سے ملکی اداروں کے خلاف مسلسل ہرزہ سرائی سے کام لے رہی ہے۔ کبھی چیف جسٹس کے دورہ میو ہسپتال کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی پانی میں موجود زہر کی نشاندہی پر اعتراض اُٹھایا جاتا ہے کہ یہ چیف جسٹس کا کام نہیں ہے۔ چند ماہ قبل صدر مملکت ممنون حسین کے بیان پر اُن کی اپنی جماعت ن لیگ تنقید کرتی نظر آئی جب انہوں نے ایک تقریب میں فرمایا کہ اگر ملک بھر میں کوئی بڑا پراجیکٹ لگایا نہیں گیا تو عوام کو یہ بتا یا جائے کہ حکومت نے اس قدر قرضے کیوں اُٹھائے؟ کیا یہ سارے قرضے ہوا میں لگا دیے گئے وغیرہ ۔۔۔ اور پھر قارئین کو آرمی چیف کے وہ بیانات بھی یاد ہوں گے جب انہوں نے ملکی معیشت کے متعلق سیمینارز میں باتیں کی تھیں اور ملکی معیشت کے کمزور ہونے کے حوالے سے اکا دکا بیانات دیے تھے تو حکومتی ایوانوں میں بھونچال کی سی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔۔۔ اور پھر پنجاب کے سابقہ گورنر چوہدری سرور نے گورنری چھوڑ دی تھی اور عوام کے حقوق کی بات کی تھی تو پوری مسلم لیگ اُن کے پیچھے پڑ گئی پھر مجبوراََ انہیں پی ٹی آئی میں جانا پڑا، پھر میر ظفراللہ خان جمالی کو دیکھ لیں جنہوں نے بھری ہوئی آنکھوں سے پارلیمنٹ کو ’’الوداع‘‘ کہا مگر حکمرانوں کی بے حسی ٹس سے مس نہ ہوئی ۔۔۔یہ سب کیا ہے؟ یعنی اگر آپ عوام کے حقوق کی بات کریں گے تو آپ کی خیر نہیں، خواہ آپ اس ملک کے صدر ہوں ، گورنر ہوں، آرمی چیف ہوں ،چیف جسٹس ہوں، چیف ایگزیکٹو ہوں ، ایم این اے ہوں یا عام ورکر آپ عوام کے حقوق کی بات کر کے حکومت کے نزدیک ’’گناہ کبیرہ‘‘ کے مرتکب ہو جائیں گے۔ حالانکہ معزز چیف جسٹس کے بقول اگر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں لازمی اقدامات نہ اُٹھانے کے بیان میں برائی کیا ہے؟ اگر انہوں نے لاہور کے اسپتالوں کی حالت زاراز خود نوٹس لیا ہے اور تعلیم و صحت کو ٹھیک کرنے کی ٹھانی ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟ اس پر بھی مریم نواز صاحبہ کا بیان آرہا ہے کہ ’’چیف جسٹس صاحب سندھ اور کے پی کے ہسپتالوں کا بھی دورہ کر لیں وہاں کی حالت بھی کچھ اچھی نہیں ہے‘‘ یعنی 

’’اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کی کل سیدھی‘‘

مسلم لیگ ن محض یہ بتا دے کہ انہیں پنجاب میں دس سال ہوگئے حکمرانی کرتے ہوئے دس سال کا عرصہ گزر گیا ، کوئی ایک مثالی ہسپتال قائم کیا ہو جس پر یہ فخر کر سکیں؟ آج بھی بارش آتی ہے تو لاہور کی سڑکیں جھیل کا منظر پیش کرتی ہیں، حکمرانوں نے ان’’ جھیلوں ‘‘ پر سیاست کرنے کے لیے لانگ بوٹ تو بنوائے لیے ہیں مگر اس کا حل نہیں نکالا جا سکا، آج بھی کئی سال گزر گئے لکشمی چوک پر کھڑے ہونے والے بارشی پانی کا کسی طرف بھی نکاس نہیں کیا جا سکا، آج بھی لاہور کے گردو نواح کے علاقوں میں چلے جائیں آپ اندازہ ہوجائے گا کہ لوگ کن حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ملک بھر میں کرائمریٹ اور بے روزگاری جس قدر بڑھ رہی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔ سرکاری سکولوں کالجوں کی حالت یہ ہے کہ ان سیاستدانوں کے اپنے بچے ان کالجز کے پاس سے بھی نہیں گزرتے۔ بڑے بڑے دعوے کرنے والے حکمران عوام کا ’’خط غربت‘‘ اور ’’خط تعلیم و صحت‘‘ ٹھیک نہ کرسکے ۔ خواندگی کا تناسب آج بھی 40فیصد سے کم ہے، خط غربت آج بھی 60فیصد سے زیادہ ہے اور صحت میں وطن عزیز کا ہر دوسرا شہری کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہے۔ 
میرے خیال میں اگر سب کچھ مثالی ہے تو ان حکمرانوں سے بندہ پوچھے کہ یہ ہلکی سی پیٹ درد کی دوا لینے امریکا و لندن کیوں جاتے ہیں؟ کیوں وہاں یہ بغیر پروٹوکول عام سے ہسپتالوں میں علاج کرتے نظر آتے ہیں، اگر انہیں وہاں کا سسٹم بہت اچھا لگتا ہے تو کیوں نہ ایسے سسٹم کو یہاں بھی متعارف کروا دیا جائے۔ان حکمرانوں کے اپنے پیاروں کے علاج جب سرکاری خرچ پر باہر سے ہو رہے ہوں ، ان کے اپنے بچے باہر تعلیم حاصل کررہے ہوں تو کیا ضرورت ہے انہیں صحت و تعلیم پر توجہ دینے کی۔ کیا ضرورت ہے انہیں عوام کے حقوق پر بات کرنے کی؟ 
حقیقت یہ ہے کہ یہاں صحت و تعلیم اور ہر محکمے کا بیڑہ غرق کرنے والے مارشل لاؤں اور ڈکٹیٹروں کی پیداوار جمہوریت کے چمپئن بنے ہوئے ہیں اور بے حیائی سے وفاداریاں تبدیل کرنے والے قوم کو سیاسیات، جمہوریت اور اخلاقیات کے لیکچر دے رہے ہیں۔یہ کبھی عوام کو تعلیم نہیں دیں گے کیوں کہ انہیں ڈر ہے کہ شعور آنے کے بعد یہ عوام ان کے خلاف نہ اُٹھ کھڑی ہو۔ میرے خیال میں یہ حکمران نہیں یہ تو سفاکوں کا جتھہ ہے، تاتاریوں سے زیادہ خونخوار اور بے رحم۔ کروڑوں پاکستانی خط غربت پر رینگ رہے ہیں، بیشمار خواتین زچگی کے دوران جان کی بازی ہار جاتی ہیں، اکثریت کو پینے کا صاف پانی نصیب نہیں۔ کروڑوں بچے تعلیم سے محروم کم خوراکی کا شکار اور یہ چالیس چالیس کروڑ کی گھڑیاں پہنتے ہیں۔یہ عوام کو غلام سمجھتے ہیں، عوام کو انہیں اپنا چاکر سمجھنا چاہئے، یہ عوام کو استعمال کرتے ہیں عوام کو انہیں استعمال کر کے پھینک دینا چاہئے لیکن افسوس صد افسوس یہ تب تک نہ ہوگا جب تک عوام کو اچھے برے کی تمیز اور پہچان نہ ہوگی اور یہ تعلیم کے بغیر ممکن نہیں جبکہ جمہوریت کے چیمپئن عوام کو میٹرو بسیں، اور نج ٹرینیں، اوورہیڈز، انڈر پاسز اور سڑکیں وغیرہ تو دیں گے مگر محض یہ ایک ڈسپلے سنٹر ہوگا اور کچھ نہیں۔۔۔ 
لہٰذااگر چیف جسٹس عوام کی بہتری کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں تو انہیں کام کرنے دینا چاہیے، وہ اپنے اختیار میں رہ کر کام کرنے کو ہمیشہ ترجیح دیتے ہیں، ہمیں مل جل کر اداروں کو ٹھیک کرنا ہے۔ یہ ہر گز نہیں ہونا چاہیے کہ ہر کام میں سیاست کا آغاز کر دیا جائے ایسا کرنے سے ہر ادارے میں بیٹھے کرپٹ عناصر کو شہ ملتی ہے کہ وہ مزید غلط کام کرے ، ہم پاکستانی ہیں ہمیں ہی پاکستان کو ٹھیک کرنا ہے ، باہر سے کسی نے آکر ٹھیک نہیں کرنا ، اوراگرعوام کے حقوق کی بات کر’’جرم‘‘ہے تو ہمیں یہ جرم کرتے رہنا چاہیے!!!