!زینب :تم بھی جلد بھلا دی جاؤ گی


درندگی اور بربریت جیسے لفظ بالکل بے معنی محسوس ہو رہے ہیں۔ قصور جیسے پرامن شہر میں زینب کے ساتھ جو ہوا اس کا تصور ہی روح فرسا ہے۔ اس کی تو تصویریں دیکھنے کے لئے بھی کسی چنگیز کا دل چاہئے۔ حیران ہوں کہ یہ سب کچھ کر کون رہا ہے ۔حالانکہ قصور میرا آبائی شہر ہے وہاں کے لوگ پرامن اور شریف لوگ ہیں۔ وہ کسی تحریک میں شامل نہیں ہوتے، وہ جلدی کسی احتجاج میں بھی شریک نہیں ہوتے۔ 1977ء کی تحریک میں بھی سب سے پرامن شہر قصور ہی تھا۔ لیکن آج کوڑا کنڈی میں پڑی زینب کی لاش دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ کیا واقعی کبھی کوئی محمد بن قاسم بھی تھا؟ یا یہ سب افسانے ہیں۔ درست کہ زمانے اور پیمانے تبدیل ہو چکے۔ دشت، دریا اور بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانا ممکن نہیں۔لیکن ہم بطور انسان خواہشات کی دلدل میں اس قدر پھنستے جا رہے ہیں کہ ہم سے درندگی بھی شرما گئی ہوگی۔
یقین مانیں زینب جیسے واقعہ کو دیکھ کر ہر بار یہی سوچتا ہوں کہ انتہا ہو گئی ، حد ہوگئی۔ اب اس سے آگے کچھ نہیں ہوسکتا لیکن پھر کوئی نہ کوئی خبر اس طرح ہلا کر رکھ دیتی ہے کہ پچھلی واردات ’’معصومانہ‘‘ سی لگنے لگتی ہے۔ حقیقت میں ان حکمرانو ں، سیاستدانوں، لٹیروں، وڈیروں اور گھس بیٹھیوں نے ہمارا معاشرہ بڑا عجیب و غریب بنا دیا ہے جو نہ اسلامی نہ سیکولر نہ زرعی نہ جاگیرداری، نہ صنعتی نہ غیر صنعتی، نہ پسماندہ نہ ترقی یافتہ، نہ جدید نہ قدیم، نہ تعلیم یافتہ نہ جاہل، نہ مغربی نہ مشرقی، نہ توہم پرست نہ توہم شکن، نہ بھوکا نہ رجا ہوا، کوئی تو ہو جو اسے کوئی چہرہ دے، بے سمت ہجوم کو کوئی سمت دے، بلاعنوان داستان کو کوئی عنوان دے، دکھاوے کی نہیں حقیقی شناخت دے۔انتہائے ستم کہ سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں ہے کبھی کبھی سوچتا ہوں زرداری یا نواز ٹائپ عظیم لیڈرز جن کے پیچھے ہمارے جیسی عوام آج بھی جلسوں میں اکٹھی ہو جاتی ہے۔ اس میں اُن کا نہیں ہمارا اپنا قصور نہیں ہے بلکہ ہماری تربیت بطور قوم جس طرح کی کردی گئی ہے کہ ہم درندگی، مذہبی منافرت اور انتشار میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ کچھ سجھائی نہیں دیتا ۔ 
آج زینب جیسی بیٹیاں وزیر اعلیٰ شہباز شریف ، آئی جی پنجاب اور علاقے کے دیگر پولیس افسران سے التجا کر رہی ہے کہ کہاں ہیں مضبوط اور خود مختار پولیس کے دعوے ، آج اس وطن عزیر کی بیٹی ان بڑے بڑے دعوے داروں اور بڑی بڑی باتیں کرنے والوں سے پوچھ رہی ہے کہ اُن کا اس ملک میں مستقبل کیا ہے؟ ایک سال میں اس جیسے 12واقعات رونما ہوئے ، کیا حکومتی مشینری عوام کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہی تھی؟ پچھلے واقعات سے ہم نے کیا سبق سیکھا ہے؟ سوال تویہ ہے کہ ہماری پولیس کہاں مصروف ہے کیا وہ وی وی آئی پیز کی حفاظت پر معمور ہے۔ جب پولیس کے پاس یہ عظیم کام کرنے کو ہے تو پھر کون ڈھونڈتا زینب کو؟ کون اس کے لواحقین کو تسلی دیتا کہ اُن کی بیٹی کہاں ہے؟ اور ہمارے خادم اعلیٰ بھی تو ’’روایتی‘‘ ہوگئے ہیں۔ کمیٹی بنائی، متاثرہ گھر میں ایک چکر لگایا، چیک تھمایا اور یوں چلتے بنے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں!اور ہاں متاثرہ علاقے میں اکا دکا افسر کو فارغ کیا اور اپنا رعب دکھایا پھر اللہ اللہ خیر سلا۔۔۔ اب قصور واقعہ میں جس ڈی پی او کو فارغ کیا گیا اُس کا ریکارڈ چیک کر لیں وہ تو نہایت شریف النفس افسرکے طور پر مشہور ہے۔ اس میں اُس اکیلے کا کیا قصور ہے۔ اسے قربانی کا بکرا بنانے سے کیا ہوگا؟ کیا اس طرح کے واقعات رک جائیں گے؟ حقیقت میں ضروری یہ ہے کہ ہمیں اجتماعی تربیت کی ضرورت ہے جو تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اور حقیقت تو یہ بھی ہے کہ قانون عملََا اشرافیہ کی رکھیل بن چکا ہے اور عام آدمی کے لیے اس کے پاس سوائے سفاکی، دھکوں اور نفرت کے کچھ نہیں؟ ہمارے حکمران کوئی بھی ہوں، ان کی پہلی ترجیح عوام کا مفاد اور قانون کا نفاذ نہیں بلکہ حکمرانی کی کاٹھی ڈال کر عوام اور قانون پر شاہی سواری کرنا ہے۔ضیاء الحق کے دور میں ایک ایسا ہی واقعہ ہوا تھا تو اُس وقت مجرموں کو چوراہے میں پھانسی دی گئی تھی، چلیں آپ لوگ مجرموں کو اس طرح پھانسی تو نہ دیں مگر اس حوالے سے قانون سازی ہی کر لیں۔ کہیں یہ بھی تو نظر آنا چاہیے کہ اس حوالے سے ہم کس قدر سنجیدہ ہیں۔ 
خیر حالیہ واقعے نے اس وقت پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہم دنیا کے سامنے ایک مجسمہ بنے بیٹھے ہیں، یہاں کوئی بھی سانحہ ہو جانے پر ہم میڈیا اور سوشل میڈیا کو دیوارِ گریہ بنا کے ماتم تو بہت کرتے کراتے ہیں۔ لیکن اس سے سبق سیکھ کر آئندہ کے لیے کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب نہیں کرتے کہ جس سے دوبارہ ایسے سانحات دیکھنے نہ پڑیں۔ ہم کسی سانحے کی وجوہات تک کھوجنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم ماننے کو تیار نہیں کہ محض ماتم سے غم غلط ضرور ہو جاتا ہے، حالات و حادثات پر مگر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ہم پھر انہی سیاستدانوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں جو ہم سے ہمارے بچے چھین رہے ہیں، جو ہم سے ہماری خوشیاں چھین رہے ہیں، جو ہم سے ہمارا مستقبل چھین رہے ہیں۔ 
ان حکمرانوں کے اپنے بچے تو شاید اس ملک میں نہ رہتے ہوں ورنہ انہیں ضرور علم ہوتا کہ یہ بچے اس پھول کی طرح ہوتے ہیں کہ جنہیں اگر مسل دیا جائے تو وہ زندگی بھر اپنے خول میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں، چند ماہ قبل بہاولپور میں6سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی خبر نظر سے گزری، جسے دکاندار نے اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا، اس بچی کا سن کر مجھے لاہور کی وہ معصوم پانچ سالہ بچی یاد آگئی جس کے زخم اب تک نہ بھر سکے، لاہور کے سات سالہ بچے کو مسجد میں زیادتی کے بعد پھانسی دے کر قتل کر دیا گیا۔ پھر آپ کو نو سالہ طیبہ یاد ہے؟وہی جو جج صاحب کے گھر کام کرتی تھی، جس پر بدترین تشدد کیا گیا، جسے سخت سردی میں ٹھنڈے اندھیرے سٹور روم میں بند کر دیا گیا تھا، وہی جس سے دن بھر کام کروایا جاتا اور رات کو ہوس پوری کی جاتی تھی۔ وہی طیبہ جس کے جعلی ماں باپ نے عدالت میں دو دن میں صلح نامہ جمع کروا دیا تھا۔
ہمیں چھ سالہ طوبیٰ بھی یاد نہیں ہو گی!وہی جسے کراچی میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، زیادتی کے بعد جس کی گردن اور ہاتھ کی نسیں بھی کاٹ دی گئی تھیں۔ وہی طوبیٰ جس کی زیادتی کے بعد ہم لوگ پاکستان پریمئیر لیگ میں مشغول ہو گئے تھے۔ ہمیں آٹھ سالہ عمران بھی یاد نہیں ہو گا!وہی جسے فیصل آباد کے ایک مدرسے میں اجتماعی زیادتی کے بعد برہنہ حالت میں تیسری منزل سے نیچے پھینک دیا گیا تھا، جس کی لاش پانچ گھنٹے گلی میں پڑی رہی تھی۔رینالہ خورد کے نواحی چک میں 6 سالہ بچی کو اغواء کرنے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کردیا گیا۔ کئی دن پہلے سید پور لاہور میں کزنز لڑکوں نے یتیم چچا زاد 8 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا ان کی ہوس تو پوری ہوگئی مگر اپنے بچوں کو بچانے کے لئے سگے چچا نے اپنے مرحوم بھائی کی معصوم بیٹی کو زخمی حالت میں پایا تو گلا کاٹ کر قتل کردیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے گھر سے دور پھینک دیا کہ کہیں کوئی بھی ثبوت اس ظالم باپ کی بے غیرت اولاد کو جیل نہ پہنچا دے۔ ایسے باپ اپنی اولاد کو شاید جیل جانے سے روک بھی لیں لیکن جب معصوم بچی اللہ سے اپنی تکلیف کا انصاف مانگے گی تو کیسے سماج کے ان درندوں کو ان کا باپ جہنم میں جانے سے روکے گا۔ اگرہمیں طیبہ اور طوبیٰ یاد نہیں ہیں، اگر ہمیں عمران یاد نہیں ہے تو پھر ہم قصور کی اس بچی کو بھی جلد ہی بھول جانے والے ہیں ۔
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں روزانہ بچوں سے بدفعلی کے اندازاََ 10 واقعات ہوتے ہیں، اس حوالے سے پنجاب پہلے نمبر اور صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے۔پاکستان میں رواں سال کم عمر بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں 7 فیصد اضافہ ہوا۔یہ سب کیا ہے ؟ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ راقم گزشتہ دو کالموں میں تعلیم کا رونا رو رہا ہے کہ اگر ایجوکیشن نہیں ہے تو ہم حیوانگی کی طرف جا رہے ہیں۔ کوئی مقصد ہم تعلیم کے بغیر پورا نہیں کر سکتے۔ جس ملک میں ایجوکیشن نہیں ہوگی وہاں درندگی کا یہی عالم ہوگا، وہاں ہم سب جانور ہوں گے۔ قصور جیسے شہر میں کوئی بڑا تعلیمی ادارہ نہیں ہے۔ یہاں مذہبی منافرت کو فروغ دیا جارہا ہے، یہاں کے پرامن لوگ متشدد بنا دیے گئے ہیں۔ پورے ملک میں کہیں قانون سازی یا سپیڈی ٹرائل نہ ہونے کی وجہ سے لوگ شدت پسندی کی طرف راغب ہورہے ہیں، قانون کو ہاتھ میں لینا فیشن بن گیا ہے۔ اگر یہی سلسلہ رہا تو یقین مانیں ہم زینب جیسی بیٹیوں کے سامنے یوں ہی سر جھکا کر شرمندہ رہیں گے !!!بقول شاعر 

 

ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں ۔۔۔.. !
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں