!گمشدہ حکومت


میں آج کل امریکا میں چند دن کے لیے موجود ہوں،یہاں مجھے جب بھی فرصت ملتی ہے، ’’مغربی ممالک‘‘ کا الیکٹرانک میڈیا دیکھ لیتا ہوں، یہاں نہ تو مجھے کہیں چیف جسٹس کا بیان نظر آرہا ہے، نہ کہیں آرمی چیف کا اور نہ ہی بھات بھات کی بولیاں بولنے والے وڈیرے، لٹیرے سیاستدانوں کا۔۔۔ عدالتیں اپنے دائرہ کار میں خاموشی سے کام کر رہی ہوتی ہیں، جج نہیں بولتے، ان کے فیصلے بولتے ہیں۔۔۔ ہمارے ہاں اب عالی مرتبت جج صاحبان زیادہ بولنے لگے ہیں، اس سے ایک طرف (معذرت کے ساتھ )نمود کی نفسیات جنم لے رہی ہے اور دوسری طرف ہر ’’مظلوم‘‘ طبقہ چیف جسٹس کو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ وہ اُن کی داد رسی کریں، ’’چیف جسٹس اس واقعے کا از خود نوٹس لیں‘‘ ، ’’ہم احتجاج اُس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک چیف جسٹس اس کا نوٹس نہیں لیتے‘‘، ’’چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیٹی بننی چاہیے‘‘ وغیرہ وغیرہ یہ وہ مطالبات ہیں جو ہر متاثرہ خاندان، شخص اور فریقین کے لیے زبان زد عام بن چکے ہیں۔ اسی لیے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے 2017ء میں 33سوموٹو ایکشن لیے اور حیران کن بات یہ ہے کہ 90فیصد کیسز میں فریقین کو انصاف نہ ملنے کی وجہ سے چیف جسٹس سے کسی نہ کسی ذرائع سے درخواست کی گئی۔ 
چیف جسٹس نے بچوں ،خواتین پر تشدد،زیاتی، جرگہ کی جانب سے ونی کرنے، ماحولیاتی آلودگی، درختوں کی کٹائی، لینڈ مافیا کے اراضیوں پر قبضوں، یوٹیلیٹی سٹورز پرناقص اشیاء کی فروخت، ناقص ادویات دل کا (سٹنٹ)سرجیکل سامان اسکی ہوشربا قیمتوں، ہسپتالوں کی ناقص کارکردگی و سہولیات کی عدم فراہمی ،سکول کالجز کے طلباء کی فیسوں میں اضافوں ، دھماکوں میں شہریوں کی ہلاکتوں، اجتماعی قبروں سے نامعلوم لاشوں کی دریافت، اور سیز پاکستانیوں کے مسائل ،کٹاس راج مندر ،ریڈزون ، اسلام آباد ائیر پورٹ پر نارویجن نژاد خواتین پر سیکیورٹی اہلکاروں کے تشدد، مظفر آباد میں پنچایت کے حکم پر جواں سال خاتون سے اجتماعی زیادتی ،ہندو برادری کی ملکیت کریمیشن ’’شمشان گھاٹ ‘‘پر حکومت سندھ کے قبضے کے خلاف ،نیشنل ٹیسٹنگ سینٹرز کی جانب سے ملازمت کے امیدواروں سے بھاری فیسز لینے ،اسلام آبا دکے علاقے کرپا میں دو بھائیوں کو برہنہ کرکے تشدد کرنے ،سندھ جامشورو یونیورسٹی کی طالبات کو اساتذہ کی جانب سے جنسی ہراساں کرنے اور فیض آباد دھرنا کے حوالے سے ازخود نوٹسز لیئے۔
اب رواں سال کے پہلے مہینے ہی کی بات کر لیں۔ زینب کیس، میمو گیٹ سکینڈل، فیک نیوزسکینڈل، عاصمہ رانی قتل کیس، ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس، اسماء زیادتی کیس، نقیب اللہ محسودقتل کیس، ہسپتالوں میں ناقص سہولیات کیس سمیت درجن بھر چھوٹے بڑے کیسز میں مسائل کی طرف نشاندہی پر چیف جسٹس از خود نوٹسز لے چکے ہیں اور ابھی سال کے 11مہینے باقی ہیں۔سوال یہ ہے کہ حکومت یا ہر صوبے کی حکومتیں کہاں ہیں؟اگر حکومتوں کا کوئی وجود ہوتا تو لوگ اس طرح معزز اداروں کو نہ پکارتے اور ظاہر ہے ہمیشہ مظلوم ہی پکارتابھی ہے، بلاتا بھی ہے اور شور بھی مچاتا ہے۔ اور اگر حکومت کوئی کام کر رہی ہوتی تو مظلوم کی آواز حکومت ہوتی۔۔۔ اب آپ راقم کے گزشتہ کالم ہی کی مثال لے لیں جس میں چیف جسٹس سے توجہ دلاؤ نوٹس کے لیے کہا گیا تھا کہ ایک شخص اداروں کی بے توقیری کر رہا ہے ، جب سے نااہل ہوا ہے 100کے قریب جلسوں، پریس کانفرنسوں ، کارکنوں سے خطابات اور کارنر میٹنگزمیں عدالت عظمیٰ اور اس ملک کے سکیورٹی اداروں کے خلاف بات کر چکا ہے اس پر بھی توجہ دی جائے تاکہ بھارت جیسے دشمن ملک اس کا فائدہ نہ اُٹھائیں کیوں کہ وہ تو پہلے ہی ہمارے تمام اداروں کو کمزور دیکھنا چاہتا ہے۔ اس پر گزشتہ روز ہی نوٹس لیا گیا اور نواز شریف کو توہین عدالت کے نوٹسز بھجوا دیے گئے۔ 
اب اگر حکومت کا کہیں وجود ہوتا، یا کہیں ایمانداری سے کام کیا جا رہا ہوتا تو یقیناًمیں بھی حکومتی ایوانوں پر دستک دیتا۔ خیر موجودہ حکومتوں کی یہ وہ کارکردگی ہے جس پر آئین کے آرٹیکل 3/184کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عدالت عظمیٰ کی جانب سے نوٹس لیے گئے ہیں۔ اگر حکومتی ایوانوں پر بیٹھے پراچے، ٹوانے، چٹھے، چیمے، جنجوعے، دریشک، دولتانے، روکڑی، ڈاہا، کھوسے، قریشی، گیلانی، گردیزی، لغاری، مزاری، موکل، کھرل، قصوری، نون، وٹو، وریو، سندھ کے ارباب، بجارانی، بھٹو، تالپور، جام، جاموٹ، جتوئی، جونیجو، چانڈیو، زرداری، سومرو، قاضی، کھوڑو، گبول، وسان، مہر، مخدوم، سید، خیبر پختونخوا کے ترین، تنولی، جدون، خٹک، گنڈا پور، بلور، ارباب، ہوتی، یوسف زئی، اور بلوچستان کے بزنجو، بگٹی، مری، مینگل، اچکزئی، جمالی، جام، جوگیزئی، رئیسانی، زہری، مگسی، کھوسے اور کھیتران ہمارے مسئلے حل نہیں کر سکتے تو یقیناًیہ ہماری ہی کوتاہیاں ہیں کہ ہمیں انہیں ہر بار منتخب کر کے ایوانوں میں بھیجتے ہیں اور پھر یہ ہمیں بھول جاتے ہیں۔ 
آج کراچی میں جوان بیٹے سوکھے پتّوں کی طرح شاہراہوں پر بکھر رہے ہیں۔پنجاب میں عفتیں پامال ہورہی ہیں۔کے پی میں حیا برہنہ کی جارہی ہے۔بلوچستان میں اشرف المخلوقات لاپتہ ہورہے ہیں۔آزاد کشمیر میں سرحد کے اس پار کی گولہ باری سے انسان گھر بیٹھے لہو لہان ہورہے ہیں۔گلگت میں خلقِ خداآئینی حیثیت سے بے خبر ہے۔وہی سوال کہ کس سے شکایت کریں ؟ نظیر اکبر آباد ی کا شعر ہے 

تھا ارادہ تری فریاد کریں حاکم سے
وہ بھی کم بخت ترا چاہنے والا نکلا

حد تو یہ ہے کہ جس ملک میں اسحق ڈار کی دولت 16سال میں 91فیصد یا 91گنا بڑھ جائے، ن لیگ جیسی بڑی سیاسی جماعت کسی عدالتی نااہل کو اپنا صدر بنانے پر فخر کرے،ان کاؤنٹر اسپیشلسٹ خود ان کاؤنٹر سے بچنے کیلئے ملک سے فرار ہونے کی کوشش میں ناکام ہو کر زیر زمین چلا جائے، ہسپتالوں کے ویسٹ سے سستے برتن بنتے اور تل کر بکتے ہوں،پی ایچ ڈیز سرقہ بازی فرمائیں، ڈالروں میں کھرب پتی حکمران غریب ترین عوام کے مال پر ذاتی گھروں کے گرد حفاظتی حصار کھڑے کرنے پر کروڑوں روپے خرچ کر کے اپنی دیانت کی قسمیں کھائیں، جہاں اقامے، شجرے بن جائیں ، دودھ میں زہر ملا دیں،مرچوں میں اینٹیں پیس کر ڈال دی جائیں، لائف سیونگ ڈرگز زندگی کیلئے خطرہ بن جائیں، امتحانی مراکز نیلام ہوں اور پرچے آؤٹ ہو جائیں، رشتے سے انکار پر گولیاں مار دی جائیں، مہنگی کھال والے گدھے کا سستا گوشت ’’مٹن‘‘ کے بھاؤ بکے، فیکٹریوں کے زہریلے پانی سے سبزیاں تیار ہور ہی ہوں، بینگن جیسی سبزی پر سپرے کرکے بیچا جائے۔ تربوز کو سرخ رنگ کے انجکشن لگائے جاتے ہوں، غلیظ ترین سیریل کلر روحانی محفلوں میں اسٹیج سیکرٹری ہو، رشوت کا لین دین ٹی وی اشتہاروں کا عنوان بن جائے، سب سے بڑی سیاسی جماعت ہونے کے دعویدار سرعام کنڈے لگا کر بجلی چوری کریں، اسکولوں میں مویشی بندھے ہوں، ایم اے اقتصادیات نے کبھی ایڈم سمتھ اور مالتھس کے نام نہ سنے ہوں، ماس کمیونیکیشن کے طلبہ قرۃ العین حیدر، عبداللہ حسین، عصمت چغتائی، منٹو، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی کے ذکر پر ہونق دکھائی دیں ، نامور ریستورانوں کے کچن بدبودار اور گندگی کے ڈھیر ہوں، گنا کپاس کے حصے کی زمینیں کھا جائے، تخمینے اس بات کے لگائے جاتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں ہونے والے ہارس ٹریڈنگ کا حجم کیا ہوگا؟پنجاب کی 6جیلوں کے اندر بچوں سے زیادتی میں ملوث 3865افراد موجود ہوں، عدالتی کیسز تین تین نسلوں تک نیند سے بیدار نہ ہوں۔100سال بعد کسی کیس کا حل نکال لیا گیا ہو وہاں ہزاروں قسم کے ازخود نوٹسز لیے جانے ابھی باقی ہوتے ہیں۔ اور ہماری حکومتوں کے بقول 

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی

 

پاکستان میں ذخیرہ اندوزی تو ہے ہی، مگر اُس ذخیرے میں ملاوٹ کرنے والوں کی بھی خبر لینے کی ضرورت ہے، جو ہمیں اور ہمارے بچوں کو کیمیکل ملی خوراک کھلا رہے ہیں ۔آپ کا گزشتہ سال دودھ میں ملاوٹ کے حوالے سے ایک احسن اقدام تھا، مگر اس کے بعد آپ کو اس چیز کا نوٹس لینا چاہیے کہ کیا ملاوٹ ختم ہوگئی؟ پنجاب فوڈ اتھارٹی غیر رجسٹرڈ فوڈ اداروں کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لا رہی ہے؟ کیا یہ ایک المیہ نہیں شہر میں لایا جانے والا ہزاروں من ناقص اور غیر معیاری دودھ ضائع کر دیا جاتا ہے، مگر اگلے دن وہی سپلائی کمپنیاں پوری آب و تاب سے شہر میں داخل بھی ہو رہی ہوتی ہیں اور عوام وہی دودھ پی بھی رہے ہوتے ہیں۔ کیا حکومت ایسا کوئی نظام نہیں بنا سکتی کہ شہروں میں آنے والی دودھ کی گاڑیاں دودھ کی چیکنگ کے بعد شہر میں داخل ہوں، کیوں کہ جب تک چیک اینڈ بیلنس کا نظام ٹھیک نہیں ہوگا، ہم کبھی ترقی نہیں کر سکیں گے۔ ہم کچھ دن بعد ان از خود نوٹسز کو بھی بھول جائیں گے اور نظام وہیں کا وہیں رہے گا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ایک دو کیسز میں چیف جسٹس صاحب کسی ملاوٹ کرنے والے، جھوٹے پولیس مقابلے کرنے والوں، ہماری بچیوں پر غلط نظر رکھنے والوں اور قومی دولت لوٹنے والے لٹیروں کو عبرت کا نشان بنا دیں تاکہ وہ ٹیسٹ کیس کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں اور گمشدہ حکومت کا کوئی والی وارث ہی نظر آجائے!