عائشہ گلالئی کی سیماانوارسے ملاقات

لاہور:تحریک انصاف آئی تو چوہدری سروروزیراعلیٰ پنجاب ہوں گے۔ذرائع کے مطابق چند دن قبل ایک ویڈیو بنائی گئی ہے جو عائشہ گلالئی ،پی ٹی آئی کی سیما انوار اور ایک خاتون صحافی کے درمیان ہے جہاں پر صحافت کے اصولوں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق عائشہ گلا لئی تحریک انصاف کی ممبر جو چوہدری سرور کے آج کل بہت قریب ہیں ان سے ملاقات کیلئے ایک نجی ٹی وی چینل میں جا پہنچی ۔جہاں پر انہوں نے تحریک انصاف کی رہنما سیما انوار کی پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی اور ناراض لوگوں سے رابطے کروانے کی بھی گزارش کی جس کے جواب میں سیما انوار نے یقین دہانی کروائی کے وہ ان کو رابطے فراہم کر سکتی ہیں۔سیما انوار کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرا تو آپ کے ساتھ ہونا ابھی ممکن نہیں کیوں کہ میں تحریک انصاف میں صرف چوہدری سرور کی وجہ سے موجود ہوں چوہدری سرور نے مجھ پر بہت اعتماد کیا ہے میں چوہدری سرور کے مشورہ کے بغیر نہیں چلوں گی۔ان سے پوچھ کر آپ کو بتاؤں گی ۔یاد رہے کہ یہ وہی سیما انوار ہیں جن کی ویڈیو ماضی میں بھی بہت شہرت حاصل کر چکی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب دوبارہ بنائی گئی ویڈیو جس میں خاتون صحافی بھی شامل ہے کیا یہ شہرت کیلئے ہے یا چوہدری سرور کا ذکر کرنا اور ان سے پوچھنے کے بعد فیصلہ کرنا ۔اس بات کا ثبوت ہے کہ چوہدری سرور عمران خان سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ۔یاد رہے کہ پنجاب کی قیادت کی دوڑ میں چوہدری سرور ،علیم خان کو اپنا مخالف اور حریف سمجھتے ہیں جبکہ علیم خان دیگر لوگوں کو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہمیں صرف کام پر توجہ دینی ہے اور عمران خان کے کہنے پر چلنا ہے۔جبکہ ویڈیو میں سیما انوار یہ کہتی نظر آرہی ہیں کہ اگر پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت آئی تو چیف منسٹر چوہدری سرور ہوں گے۔ذرائع کے مطابق یہ تمام سازش علیم خان کے خلاف کی جا رہی ہیں تاکہ علیم خان کو پنجاب کی سیاست سے باہر کیا جا سکے۔جبکہ اس بارے میں موقف جاننے کے لئے روزنامہ’’لیڈر‘‘نے چوہدری سرور سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں اور نہ ہی مجھے کوئی ایسی گارنٹی دی گئی ہے جب الیکشن ہوں گے تب ہی فیصلہ بھی ہو گا۔یاد رہے کہ یہ باتیں گردش کر رہی تھیں کہ چوہدری سرور لندن سے واپس کسی گارنٹی پر آئے ہیں اور اس کے بعد ان کے انتہائی نزدیک سیما انوار کی ویڈیو میں اس کا ذکر عمران خان کیلئے کئی سوالات کاجنم دیتا ہے۔