احساس


وہ آنکھیں موندے صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی. چہرے پر مغموم سی مسکراہٹ جو کے آج کل اسکی پہچان بن گئی تھی.’’آج آپ کوئی بیسویں مرتبہ استمال کی گئی ہوں گی. کیسا محسوس کر رہی ہیں خود کو بار بار استعمال ہوتا دیکھ کر.‘‘ اس نے آتے ہی طنز کیا تھا.اس نے آنکھیں کھولیں. پہلے کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھا اور پھر افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا ’’ایسی باتیں مت کیا کرو. ایسی کوئی بات نہیں ہوئی جو تم اتنا بھپڑ رہے ہو.‘‘ ’’اچھا اب سچ بھی نہ بولوں‘‘ اس نے چڑ کر کہا، مگر اب کے وہ خاموش رہی. اسے خاموش دیکھ کر وہ پھر گویا ہوا مگر اس دفع لہجہ نرم تھا ’’تمھیں برا نہیں لگتا؟‘‘ ’’لگتا تھا.‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا. چہرے پر اطمینان تھا، ’’تھا اور اب کیوں نہیں؟‘‘ چند لمحے کی خاموشی، اس کا چہرہ دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے وہ اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش 
کر رہی ہو.’’پہلے مجھے بھی لگتا تھا کے سارا زمانہ ہی مطلب پرست ہے. سب ہی اپنے اپنے مطلب کے وقت یاد کرتے ہیں. اور کام ہوجانے پر تم کون میں کون والی صورتحال. مجھے تب اپنوں سے ہی شکوہ رہتا تھا. مگر ان کے پیار کے دو بول سن کر، ایک پکار پر ہی مان جاتی تھی. اُف! کتنی سادہ مزاج تھی میں‘‘. وہ ایک لمحے کو رکی. چہرے پر ملال تھا اور آواز بھرا گئی تھی. ’’ایسے ہی ایک دن مجھے میری دوست کا میسج آیا. اسے کچھ کام ہی تھا. اتنے وقت بعد میسج اور وہ بھی کام تھا اس لئے ورنہ میرے میسج کا بھی کوئی خاص جواب نہیں آتا تھا. اس دن تو جیسے میرا ضبط ختم ہوگیا. غصہ میں اپنا فون بند کردیا. غم و غصہ کی حالت میں آنسوں بہنے لگے. میں بہت روئی. اس وقت مجھے اپنا وجود بہت بے وقعت محسوس ہوا تھا. میری سسکیاں تھم نہیں رہی تھیں کہ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا. نا جانے کیوں، کیسے مگر خدا نے یہ بات میرے دل میں ڈالی. میرے ذہن میں یہ بات گردش کرنے لگی کے خدا نے حقوق العباد کی کس قدر اہمیت رکھی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حقوق اللہ میں کوئی کوتاہی ہو جائے تو وہ معاف کر دے گا مگر حقوق العباد پورے نہ کیئے تو جب تک خدا کا بندہ معاف نہیں کرے گا وہ بھی نا بخشے گا. مجھے یہ جو صلاحیتیں خدا تعالیٰ نے بخشی ہیں یہ نعمت ہیں. ان پر تو خدا کے بندوں کا حق ہے. اور کیا ہوا کے اگر میں کسی کے کام آجاتی ہوں کوئی مدد مانگے تو انکار نہیں کر پاتی، آپؐ نے بھی ہر کسی کی ہر طرح سے مدد کی، کسی کو کبھی بھی اپنے در سے خالی ہاتھ نہ لوٹایا. مجھے ان کی تقلید کرنی چایئے. اگر کسی کے مشکل وقت میں اس کا حوصلہ بڑھا سکتی ہوں تو یہ خدا کی طرف سے دی ہوئی صلاحیت ہے. انسان بھلے ہی کسی کی خوشی میں اس کے ساتھ نہ ہو پر مشکل اور پریشانی میں ضرور اسکا غم باٹنے کے لئے 
ہونا چاہئیے یہ ہی سچی ہمدردی ہے. وہ دن ہے اور آج کا دن ہے الحمدُلِلہ کبھی بھی کسی کی مدد کرتے ہوئے نہیں کترائی نہ ہی یہ خیال آیا کہ مجھے اپنے مطلب پڑنے پر استعمال کیا جا رہا ہے. بلکہ خوشی ہوتی ہے کے خدا نے اس بندہء ناچیز کو یہ موقع دیا.‘‘ اس نے اپنی بات کے اختتام پر اُس کی طرف دیکھا جو ہکابکا سا اسے تک رہا تھا. وہ نم آنکھوں کے ساتھ ہلکا سا مسکرائی تھی. اس کے خاموش ہونے پر کمرے میں سکوت طاری ہوگیا جسے اس نے توڑا ’’تم اتنا گہرا کیسے سوچ لیتی ہو.‘‘ وہ اپنی حیرت پر قابو پا چکا تھا اور اب مسکرا رہا تھا.’’انسان کا دل دردمند ہونا چائیے، عاجزی اپنے آپ پیدا ہو جاتی ہے‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا ’’اور ہر بات کا منفی اور مثبت پہلو ہوتا ہے یہ ہماری سوچ پر منحصر ہے کے ہم ہر آنے والے مسئلے کا کس طرح سامنا کرتے ہیں پس جذبہ ہمدردی میں برے بھلے کا خیال کرنا بھی ضروری ہے۔اور یہ بھی کے کہیں ہم خود کو نقصان نہ پہنچالیں۔‘‘ ’’بالکل‘‘ اس کے مستحکم انداز پر اس نے کہا اور دونوں مسکرا دیئے۔