ذلیل ہونا ’’وٹ ‘‘ تے پیا اے


 

ایک بادشاہ جس میں بہت اکڑ تھی،ایک فقیر کے پاس سے اکڑ کر گزرتا ہے،فقیر پوچھتا ہے اے بادشاہ تو کس بات پر اتنا اکڑرہا۔وہ بولا میں بادشاہ ہوں اور اپنی شان وشوکت پر اکڑ رہا ہوں،فقیر نے بادشاہ سے کہا ،بادشاہ سلامت فرض کرو ،دنیا میں پانی ختم ہوجائے اورآپ کو پیاس لگی ہو اور صرف ایک گلاس پانی موجود ہوتو آپ اُس کو حاصل کرنے کے لیے کیا قیمت اداکروں گے،تو بادشاہ نے کہا کہ اگر ایسی کوئی بات ہوئی تومیں اُسے اپنی آدھی سلطنت کے عوض لے لوں گا،پھر فقیر نے کہا کہ بادشاہ اگروہ پیا ہوا پانی آپ کے جسم سے باہر نہ نکلے تو آپ اُس کو تکلیف کے عالم میں اپنے پیٹ سے نکلوانے کے لیے کسی کو کیا دوں گے توبادشاہ نے کہا کہ میں ایسی حالت میں اپنی باقی سلطنت اُس کے نام کردوں گا،بادشاہ کی اِس بات پر فقیر بولا ،بادشاہ تو اب اپنے حال پر غور کر ،تو’’ فقیر‘‘ ہوگیا۔ایسی ہی صورتحاال آج کل اپوزیشن رہنماؤں کی ہے جو کہ اُس بادشاہ کی سی صورتحال کا شکار ہیں،حکومت کو چندسیٹوں کا طعنہ دیتے اور یہ کہتے کہ چند سیٹوں کے سہارے کھڑی اِس گورنمنٹ کو ہم گرادیں گے مگر اپنی تمام 
تر کوششوں ،سارے حربوں کو اختیار کیے ،مقتدر حلقوں کو اپنی وابستگیوں،محبتوں کا مکمل ثبوت فراہم کیے ،ہر طرح کی سازشوں کے جال بننے کے باوجود اب تک اِس حکومت کو گرا نہیں سکے،اِس کی وجہ یہ ہے کہ اب کے بار اِس’’ڈوبتے ٹولے‘‘ کی کمزور وپتلی صورتحال سے آشناء عام وخاص سبھی ہیں۔اِ ن کرپٹ افراد کی مختلف آفرز پر مبنی ’’لالچوں‘‘ بھری ٹوکری کے’’ دام فریب‘‘ میں پھنسنا بھی چاہے تو اب کے بار قیمت ہی ایسی ہے کہ جو اِن لٹیروں سے ادا نہیں ہورہی،اُوپر سے اِ س سارے معاملے کوحکومت کے علاوہ ملکی سلامتی کے ادارے بھی مانیٹر کر 
رہے ہیں،وہ بھی اِس ’’ڈیل تمام‘‘ میں رکاوٹ بنے نظر آتے ہیں(یہ الگ بات ہے کہ وہ اب بھی کسی کے لیے لاروں اور کسی کے لیے بہاروں کا اظہار کرچکے مگراشارہ یلغار نہیں دے رہے)جس کی وجہ سے حکومت گراؤ منصوبہ کھٹائی میں پڑے ،پوری طرح گھٹنوں کے بل گرے اپوزیشن ناکامیوں ،حسرتوں کا جنازہ اُٹھنے کی طرح بُری طرح دھڑم سے گرے اپنی موت آپ ذخمی ہوا پڑا،جس کے’’ تابوت‘‘ میں گاہے بگاہے مقتدر حلقوں کی طرف نظریں کیے ’’ہم بھی پڑے ہیں تیری راہوں میں،اِک نظر کرم اِدھر بھی‘‘کا مسیج بھیج کر حکومت گرانے کی خبر دے کر اپنی ’’مردہ‘‘ تحریک میں جان ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر بات یہ ہے کہ اب تک حکومت گرانے کی’’ بیل منڈھے چڑھتی ‘‘نظر نہیں آرہی ،وہ علیحدہ بات ہے کہ ’’کرپٹ گروہ‘‘ نے ہارے ہوئے ؍پارلیمنٹ سے دور مولانافضل الرحمن کی سرپرستی میں حکومت کو’’ ٹف ٹائم‘‘
دینے کے لیے کمر کس لی ہے مگر اب کے بار وہ پہلی سی صورتحال نہیں ہے کہ جب ارکان اسمبلی کوڑیوں کے بھاؤ مفت میں ہی بک جاتے تھے ،اب تو وہ بھی معاملے کی پوری خبر رکھتے ،اِس گیم کے تمام نازک پہلوؤں کو جانتے،اِن کی کرپشن کا پورا شور سنتے،اِن کی پتلی حالت پر پوری نظریں جمائے ہوئے ہیں،ایک تو رسوا ہونے کے ڈر سے اور دوسرا ریٹ اب کے بار اُن کے معیار کا نہیں،نہیں بک رہے اور اپوزیشن کا حال ’’قیمت ہی ایسی تھی کہ ہم اُسے پا نہ سکے‘‘والی ہے۔’’کوڑیوں کے بھاؤ‘‘ اپنی تمام’’ عزت‘‘ نیلام کیے کوئی بکنے کو تیار نہیں اور اپنا آپ بیچ کر یہ’’ ڈیل‘‘ کرنے کی پوزیشن میں اپوزیشن نہیں،اِسی لیے اب تک حکومت گراؤ تحریک اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ ناکام و ناکامیاب ٹھہری ہوئی ہے۔ایسے میں اگر چاروناچار ’’اپوزیشن‘‘اپنی جان بچانے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار ہوجاتی ہے تو اُس کا حال بھی اُس ’’بادشاہ‘‘ جیسا ہوجانا ہے جس نے ’’آدھی سلطنت‘‘ایک گلاس پانی پینے کے لیے دے دی اور ’’باقی سلطنت‘‘اُس پیے ہوئے ایک گلاس پانی کو اپنے پیٹ سے نکلوانے کے عوض دے دی۔
، اپنے حال پر غور کریں کہ اپوزیشن فقیر ہوگئی۔۔۔۔۔جدید دور میں فقیر نہ بھی ہوئی تو ذلیل ہونا ’’وٹ‘‘ تے پڑا ہواہے۔