!منی لانڈرنگ ملک مخالف محاذ


پاکستانی حکمران پریشان ہیں کہ دنیا بھر سے چندے، امداد، قرضے لینے کے باوجود معیشت تنگ ہے۔ حکومتی وزرا بھی ڈراتے رہتے ہیں کہ فلاں ادارے کی شرط نہیں مانی تو معیشت تنگ ہوجائے گی۔ ہر دور اقتدار میں حکومت کا وتیرا رہا کہ سابق حکمران سب لوٹ کر لے گئے ،خزانہ خالی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) یا نواز شریف تیسری مرتبہ حکومت میں آئے یعنی دو مرتبہ سابق حکمران بنے، اُن کا بیانہ بھی یہی رہا ہے ۔ پیپلز پارٹی وفاق میں چار مرتبہ اقتدار میں رہی ، اس کی زبان پر بھی یہی جملے عام رہے ہیں۔ عوام کو بے وقوف بنانے کی انتہا ہے کہ تمام پارٹیوں میں رہنے والے اب تحریک انصاف کی حکومت میں ہیں اور وہ بھی یہی ترانہ سنا رہے ہیں کہ ہمیں تو خزانہ خالی ملا ،تمام بدحالی کے ذمہ دار سابق حکمران ہیں۔عوام الزام تراشی کی سیاست سے تنگ اس وقت معاشی ریلیف چاہتے ہیں۔ وہ الزامات اور جوابی الزامات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ عوام الزامات ،جوابی الزامات سے چھٹکارچاہتے ہیں۔ اس وقت سارا ملک گرتی ہوئی معاشی صورتحال کے بارے میں متفکر ہے ۔کرپشن اور منی لا نڈرنگ جیسے ناسور وں کا خاتمہ کیے بغیر ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن نہیں ہو سکتا ۔پاکستان کے خلاف عالمی مالیاتی ادارے کسی طرح کی نرمی دکھانے کو تیار نہیں، دنیا بھر میں کرپشن، منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے ریاستیں زیادہ ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔ معاشی بحران کے شکار پاکستان کو منی لانڈرنگ کے باعث آئی ایم ایف اور فنانشل ایکشن ٹاسک کی طرف سے سخت دباؤ کا سامنا ہے۔ ان اداروں اور بین الاقوامی طاقتوں کا خیال ہے کہ منی لانڈرنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں دہشت گردی کے لئے رقوم کی ترسیل کا ایک متوازی نظام کام کر رہا ہے، اس کے خاتمہ کی کوششوں کو ایسی اہمیت ملنی چاہیے جس طرح انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو فوقیت حاصل ہے۔منی لانڈرنگ امرا کا کاروبار ہے جو ان کے اثا ثہ جات بڑھانے کا باعث بنتا ہے ،یہ رقوم ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقلی کا طریقہ کار ہے جس سے حکومت اور متعلقہ اداروں کو باخبر نہیں رکھا جاتا،منی لانڈرنگ کا مقصد ٹیکس چوری ،بددیانتی سے کمائی دولت کو چھپانا اور غیر قانونی ذرائع سے جمع رقم کو قانونی اثاثوں میں تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ منی لانڈرنگ عموماً تین مراحل میں کی جاتی ہے۔ سب سے پہلے کسی غیر ملکی بنک میں رقم جمع کرائی جاتی ہے ،کیش کو کئی ٹرانزیکشنز سے گزارا جاتا ہے اور آخر میں اس رقم کو قانونی اثاثے میں ڈھال لیا جاتا ہے۔ منی لانڈرنگ کی ایک بڑی وجہ مالیاتی اداروں اور بینکوں کی طرف سے اسے روکنے کی ناکافی کوششیں ہیں۔ دوسری طرف کسی ملک میں مسلسل آنا جانا،کیش سٹرکچر،بنک کنٹرول ،این جی او فنڈنگ اور غیر ملکی کرنسی کے تبادلے والے ادارے بھی منی لانڈرنگ میں ملوث رہے ہیں۔ پاکستان کے کئی بڑے کرنسی ڈیلروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو چکی ہے۔ منی لانڈرنگ دیگر کئی جرائم اور خرابیوں کا سبب بھی بنتی ہے،اس کے ساتھ منشیات کا کاروبار،سمگلنگ ،اسلحہ کا دھندہ اور مالیاتی دہشت گردی جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کا مالیاتی اور قانونی ڈھانچہ ریاست سے زیادہ افراد کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے ایسے درجنوں واقعات سامنے آچکے ہیں جن میں کسی مزدور اور محنت کش کو آگاہ کئے بغیر اس کا بینک اکاؤنٹ کھولا جاتا ہے اور پھر اچانک اس بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے جمع کرا دیے جاتے ہیں۔ اس اکاؤنٹ سے رقم کچھ عرصے بعد کسی دوسرے اکاؤٹ میں جاتی ہے، وہاں سے تیسرے اور چوتھے اکاؤنٹ میں منتقل ہو کر کسی نئے کھاتے میں جا چھپتی ہے۔ اس قسم کے واقعات میں بنک عملہ ملوث ہوتا ہے جو بغیر کسی موثر تصدیق کے ایک شخص کی عدم موجودگی میں اس کے
نام پر اکاؤنٹ کھولتا ہے اور پھر کسی طاقتور کلائنٹ کو اپنا نظام استعمال کر کے کالا دھن سفید کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ کالے دھن کو سفید کرنے کا غیر قانونی طریقہ کا ر عرصہ دراز سے جاری ہے ،ملکی معاشی بدحالی کے پیش نظر دباؤ بڑھا تو سرکار کومنی لانڈرنگ مافیا پر گرفت ڈالنے کا خیال آیا ،اب یہ معاملہ نیب کے پاس ہے۔ سندھ اوربلوچستان کے سابق صوبائی وزراء کے قبضے سے اربوں روپے کی ملکی وغیر ملکی کرنسی پکڑے جانے پرمعلوم ہوا کہ یہ لوگ لانچوں کے ذریعے نقد رقوم دوبئی وغیرہ پہنچاتے رہے ہیں۔ ماڈلنگ اور شوبز سے متعلقہ خواتین کے ذریعے منی لانڈرنگ کے واقعات پوشیدہ نہیں ہیں۔ ایک ماڈل اسلام آباد ایئر پورٹ پر پانچ لاکھ ڈالر بیرون ملک منتقل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ،اس کا مقدمہ دو ڈھائی برس سے چل رہا ہے،مگر منی لا نڈرنگ مافیا کی سر پرستی کرنیوالے طاقتور لوگوں کی موجودگی میں فیصلہ سازی کمزور نظر آتی ہے۔ منی لانڈرنگ کی تازہ مثالیں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے اہل خانہ کے نام پر رقوم کی منتقلی کی صورت میں سامنے آئی ہیں۔ بلا شبہ سیاستدانوں اور ان کے زیر اثر افراد نے قومی دولت لوٹ کر جس طرح بیرون ملک منتقل کی اور پھر وہاں سے یہ رقم کسی کاروبار کا منافع بنا کر وطن بھیجی اس عمل نے پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کیا ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقات کا طرز زندگی شاہانہ ہے‘ ان کے کاروبار کی مالیت کھربوں روپے ہے ،یہ اربوں روپے کے اثاثے استعمال کرتے ہیں، مگر ٹیکس ادا کرنے کی بجائے ٹیکس گوشواروں میں مختلف قانونی رعائتوں اور نقائص کا فائدہ اٹھا کر چند ہزار روپے جمع کروا کرسرخرو ہو جاتے ہیں۔ پا کستان میں منی لانڈرنگ کرنے والوں کو نہ صرف حکمران طبقہ کی سرپرستی حاصل رہی ،بلکہ وہ خود اس میں ملوث ہیں ۔دنیا بھر میں منی لانڈرنگ کو ایک سنگین جرم تسلیم کیا جا چکا ہے،مگر پاکستان میں جب کسی بااثر شخصیت پر منی لانڈرنگ کا الزام لگتا ہے تو وہ اسے سیاسی انتقام قرار دے کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے لگتے ہیں،عوام کا پیسہ لوٹ کر عوام کو ہی بے وقوف بنانے کے ساتھ اپنے جرم چھپانے اور خود کو بچانے کیلئے بھی عوام ہی کو استعمال کیا جا رہا ہے، جمہوریت کے نام پر چند لٹیرے خاندانوں نے عوام اور ملک کو یر غمال بنارکھا ہے ۔ عالمی برادری دنیا کو پرامن بنانے کے لئے کرپشن اور منی لانڈرنگ کا خاتمہ چاہتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں حکمران طبقات کے مالیاتی جرائم کا خمیازہ ان خیراتی اداروں اور مستحق افراد کو پابندیوں کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے جو رفاہی سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔ پا کستان کے مخالفین کی جانب سے اقوام متحدہ کی مختلف کمیٹیوں اور سلامتی کونسل میں ایسی متعدد کوششیں ہو چکی ہیں جن کا مقصد پاکستان کو دہشت گردوں کی مالیاتی مدد کرنے والا ملک قرار دلوانا ہے۔ منی لانڈرنگ پر بہت سے پا کستانی دوست ممالک کا موقف بھی غیر لچکدار ہے ، پا کستان مخالف قوتوں کے لیے منی لانڈرنگ کا محاذ آسان ثابت ہو رہا ہے۔ ملک کو بیرونی مخالف قوتوں سے زیادہ اندرونی کرپٹ سیاسی قیادت سے خطرہ ہے ۔ پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا ، اب کرپٹ افراد کے ساتھ اُن ذرائع کو بھی نیست ونابود کرناہو گا جو ملک دشمن قوتوں کو بار بار پاکستان کے خلاف سازشوں کا موقع دیتے ہیں۔