!! عوام کو دھوکا دیا جا رہا ہے


پاکستان میں احتساب اور کرپشن کے نعرے پہلی بار نہیں لگائے جا رہے بلکہ عوام کو بار بار اس اذیت سے گزارا گیا۔لیکن ان نعروں کا نتیجہ ہمیشہ ”صفر“ رہا ہے ۔عجیب بات یہ بھی ہے کہ کرپشن اور احتساب کی بات ہمیشہ جمہوری حکومتوں کے خلاف ہی کی گئی ہے ۔حالانکہ پاکستان میں مارشل لاءکا دور زیادہ رہا ،مگر کیونکہ اس دور میں تمام فرشتے حکمران ہوتے ہیں اس وجہ سے وہاں کرپشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،اس لئے اس دور کا احتساب کیسا!

پاکستان کی جمہوریت ہمیشہ سے کمزور رہی ہے ۔لیکن کیونکہ دنیا میں ملک چلانے کے لئے ایک جمہوری حکومت کی ضرورت ہے ،اس لئے اسٹیبلشمنٹ اسکرپٹ کے تحت ایک جمہوری حکومت سامنے رکھتے ہوئے حکمرانی کرتی ہے ۔لیکن سیاست دان پھر بھی سیاست دان ہوتا ہے ۔اسے کہیں نہ کہیں اندازہ ہوتا ہے کہ اسے عوام کا سامنا کرنا پڑے گا ۔اس لئے وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کی ساکھ برقرار رہے اور وہ آئندہ ووٹ لے کر اقتدار کا مزہ لے سکے ۔اس میں شک نہیں کہ اگر اس کی سیاسی چال ڈھال مقتدر طاقتوں کے مطابق ہے تو اس کا سیاسی مستقبل روشن ہے۔لیکن اگر اس کی چال زرا سی بدلنے لگے تو اس کی سیاست کا مستقبل ختم کر دیا جانا کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے ۔

مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔میاں نواز شریف کی سیاست عجیب و غریب رہی ہے ۔انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے کندھے سے کندھا ملا کر سیاست کی ۔لیکن پھر عوام کی محبت یا اپنی اَنا نے کروٹ لی اور اپنوں کے سامنے ہی ڈٹ گئے ۔آج ایک بار پھر مسلم لیگ(ن) عتاب میں ہے ۔میاں محمد نواز شریف کی پارٹی کو دیوار سے لگانے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے ۔میاں نواز شریف جیل میں ہیں ،دوسرے نمبر کی لیڈر شپ میں وہ قابلیت نہیں کہ ملک گیر احتجاجی تحریک چلا کر سیاسی دباﺅ ڈال سکیں ۔تحریک انصاف خوش ہے ،کیونکہ انہیں اس صورت حال سے فائدہ ہو رہا ہے ۔ان کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن)کی تھی ۔جسے ہٹا دیا گیا ہے ۔

بظاہر عمران خان کو فری ہینڈ مل گیا ہے ۔سب کو جیل میں بھی ڈال دیا گیا ہے ۔مریم نواز کی آواز میڈیا پر بندش لگا کر بند کر دی گئی ہے ۔مرکزی قیادت کو اداروں کے ذریعے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے ۔رانا ثناءاللہ کو 15کلو ہیروین کےس مےں بند کوٹھڑی میں ڈال دیا ہے ،جہاں انہیں ایک چارپائی تک نہیں دی گئی۔سیاسی انتقام کی نئی داستانیں رقم کی جا رہی ہیں ۔سرِ عام حکومتی وزراءدھمکیاں دیتے ہیں ،مگر کیونکہ عمران خان نے اپوزیشن کے تمام افراد کو ساری دنیا میں اتنا چور،ڈاکو ،کرپٹ کہا کہ اپوزیشن کے خلاف ایک تصویر بن چکی ہے ۔لیکن اب عمران خان کی باری ہے ،کیونکہ انہیں اقتدار میں آئے ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے ۔پہلے اپنی تمام غلطیاں کوتاہیاں ماضی کی کرپشن اور بیڈ گورنس کے ذکر میں چھپا لیتے تھے ۔لیکن اب اپوزیشن رہنماﺅں کی جیل میں موجودگی انہیں ماضی سے حال میں آنے اور کچھ کرنے پر مجبور کررہی ہے ۔بقول شیخ رشید تحریک انصاف عمران خان کے بعد صفر ہے ۔ایسی سیاسی پارٹی جو صرف ایک شخصیت کے کندھوں پر کھڑی ہو اور دوسری کوئی قیادت نہ ہو اس کے مستقبل کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے ،مگر اب یہی ایک شخص کی پارٹی حکومت میں ہے ۔جس کی حکومتی رٹ نظر نہیں آتی ۔ادویات کی قیمتوں میں کمی کے احکامات سے لے کر ڈالر کے استحکام تک ۔پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں آئے روز زیادتی نے ظاہر کر کے رکھ دیا ہے کہ حکومتی رٹ نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے ۔گڈ گورنس کا حال تو بے حال ہو چکا ہے ۔یہاں اپوزیشن کا کردار بہت اہم تھا ۔لیکن اسے زیر عتاب لایا گیا ہے ۔کیونکہ حکومت جیسے چاہے عوام کی بوٹیاں نوچے اور وہ دلیری سے نوچ رہی ہے ۔

مسلم لیگ (ن) کی سیاست کے ساتھ ستم یہ ہے کہ جب اس کی قیادت اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف اپناتی ہے تو اس کا ووٹ بنک کو یہ سوٹ نہیں کرتا۔کیونکہ مسلم لیگ ن کی سب سے زیادہ ووٹر تاجر برادری ہے ۔تاجر طبقہ فوج تو کیا،پولیس بلکہ محکمہ ایکسائز سے بھی بنا کر رکھتا ہے ۔انہیں اپنے بزنس کی سب سے زیادہ فکر ہوتی ہے کہ کہیں اس میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ ہو جائے ۔لیکن میاں نواز شریف نے یہ موقف اپنا لیا ہے کہ پاکستانی سیاست میں اداروں کی مداخلت برداشت نہیں کرنی ہے۔مقتدر اداروں کو ایسی سوچ کی عادت نہیں ہے ۔اس کا نتیجہ سامنے تو آنا تھا ۔

حکومت کے راستے سے اپوزیشن لیڈر شپ کو جیلوں میں ڈال کر ہٹا تو دیا ہے مگر اس کا نقصان مبینہ طور پر ملک اور جمہوریت کو دیا جا رہا ہے ۔یہ صرف بیان کی حد تک نہیں ہے ۔کوئی بھی باشعور یہ بات آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کامیاب کوشش کی جا چکی ہے ۔لیکن اس کا نقصان یہ ہے کہ جمہوریت کی گاڑی کو چار پہیوں کی بجائے دو پہیوں پر چلایا جارہا ہے ۔یہ گاڑی کچھ میل تو شاید چل جائے ،مگر زیادہ دور نہیں جا سکے گی ۔اپوزیشن کے ساتھ سیاسی انتقامی کارروائیوں سے پاکستانی سیاست میں خلا پیدا ہو چکا ہے ۔سیاست میں خلا اور شگاف زیادہ دیر نہیں رہتا۔میاں نوازشریف کے دور حکومت میں جب سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو شہید کو جسٹس ملک قیوم نے سزا سنائی تو میاں نواز شریف کو ایک طرف سے فری ہینڈ مل گیا تھا ،لیکن ساتھ ہی توازن ٹوٹنے سے ان کا جانا بھی ٹھہر گیا تھااور پھر طاقتور ہونے کے باوجود میاں نواز شریف 1999میں رخصت ہوئے ۔اگر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نا اہل نہ ہوتیں تو مارشل لاءبھی نہ لگتا۔اب بھی عمران خان بظاہر تو سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈال کر راستہ صاف سمجھ رہے ہوں گے ،مگر انہیں شاید یہ خبر نہیں کہ جب بھی سیاسی توازن ٹوٹتا ہے حالات اتنے خراب ہوتے ہیں کہ انہیں سنبھالنا نا ممکن ہو جاتا ہے ۔کیونکہ 72برسوں میں جب بھی پاکستان کی سیاست میں ایسا موقع آیا ہے حکمران کا عروج زوال کی طرف سفر میں تبدیل ہوتا رہا ہے ۔

اگر مقتدر ادارے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو سیاست سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں اور ان کی جگہ نئے چہرے لانا چاہتے ہیں ۔تاریخ بتاتی ہے کہ عسکری پلاننگ زیادہ تر فیل ہوئی ہے ۔ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو،محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ،میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات بھی چلے ۔سب جیلوں میں بھی رہے ،مارشل لاءلگے ،مگر اس کے باوجود مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو ختم نہیں کیا جا سکا۔آج کہنے والے پیپلز پارٹی کو کمزور کہتے ہیں ،مگر اس کی وجہ آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے دور کی کارکردگی ہے ۔اس دور کے بعد پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک کم ہوا ہے ۔لیکن پھر بھی ایسی بری پوزیشن بھی نہیں کہ پارٹی ختم ہو سکتی ہے ۔بلاول بھٹو نے آہستہ آہستہ قیادت کو سنبھالا دیا ہے ۔

اصل بات یہ ہے کہ اپوزیشن کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔میاں شہباز شریف کی طرح درمیانی لائن کا وقت گزر چکا ہے ۔مریم نواز جارحانہ سیاست کرنا چاہتی ہیں ،مگر انہیں رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا 

 

ہے۔لیکن انہیں جارحانہ سیاست کرنا ہوگی تبھی ان کی سیاست زندہ رہے گی اور عمران خان حکومت کی کمزوریاں ان کی تحریک کو مزید تقویت دے گی ۔کیونکہ حکومت کی اےک سال کی کارکردگی نہایت مایوس کن ہے ،تاجر برادری نے ہڑتال کی کال دے دی ہے ۔حکومت اپنے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آ رہی ۔عوام احتجاج کے لئے مجبور ہو رہی ہے ۔اپوزیشن نے اسی موقع سے فائدہ اٹھانا ہے ۔اس کا نتیجہ عمران خان کی حکمت عملی پر ہے کہ ملک میں جمہوریت رہتی ہے یا مارشل لاءدوبارہ اپنے پنجے گاڑھتی ہے ۔اگر آج بھی ہم نے اس بارے میں نہ سوچا تو ہماری نسلیں اس طرح ذلیل و خوار ہوتی رہیں گی ،جیسے ہم ہو رہے ہیں ۔