تعلیم کی اہمیت


” تربیت کی پہلی سیڑھی ماں کی گود ہوتی ہے“ آپ ﷺ کی وفات کے بعد بعض صحابہ جب کسی مسئلے میں اُلجھ جاتے تو وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے وقت دریافت کرتے اور آکر اپنا سوال کرتے کہ ایسا مسئلہ ہے روایت میں آتا ہے کہ وہ پیچیدہ ترین مسئلوں کو فورا حل کردیتی اور صحابہ سُن کر چلے جاتے تو اسلام میں عورتوںکو تعلیم نہ صرف دینا بلکہ صحابہ کا جاکر پوچھنا یہ دلیل ہے کہ اُن سے علم لیا بھی جاسکتا ہے۔ 

 ” علم حاصل کرنا ہر مرد و عورت پر فرض ہے “۔انسان ایک معاشرتی حیوان ہے جسے تہذیب و تمدن ہی سنوارتے ہیں ۔قیادت کرنے کے لیے علم بنیادی صفت ہے اور تہذیب کی ترقی کے لیے یہ ایک بنیادی عنصر ہے ۔ علم اچھائی اور نیکی کی اولین شرط ہے ۔

”دنیا کی پہلی یونیورسٹی کی بنیاد مسلم خاتون فاطمہ السحری نے تقریبا ساڑھے گیارہ سو سال قبل افریقہ کے علاقے مراکو میںرکھی۔ 

اسلام میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن پاک کی سب سے سے پہلی وحی جو غار حرا میں آپ ﷺ پر نازل ہوئی وہ یہ تھی : 

ترجمہ : پڑھ اپنے رب کا نام لے کر جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے جس نے آدم کو قلم سے علم سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا ”( العلق 1-5)

صحیح بخاری کی روایت ہے کہ آپ ﷺ کے پاس خواتین آئیں اور کہا آپ ﷺ مردوں کے پاس جاتے ہیں واعظ و نصیحت کرتے ہیں اُن کے ساتھ رہتے ہیں ہم لوگوں کا کیا ، یہ سُن کر آپ ﷺ نے ایک دن مقرر کیا اُس دن آپ ﷺ عورتوں کو واعظ و نصیحت کرتے ۔

اچھے کام کے لیے اچھی سوچ کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ علم کے بغیر شعور ، ایمان کی پختگی ، اور نیکی کا تصور ہی ممکن نہیں ہے ۔ پوری دنیا میں جتنے بھی ترقیاتی ممالک ہیں وقت نے ثابت کیا ہے کہ اُنہوں نے تعلیم کی بنا پر دوسروں پر سبقت حاصل کی ہے ۔ تاریخ گواہ ہے تعلیم کے میدان میں مسلمان سائنسدانو ں نے دنیاکے لے نئی راہیں کھولی جابر بن حیان ، الرازی ،البیرونی ، ابن الہشیم ، عمر خیام ، زکریا الرازی ، موسیٰ الخوارامی ، ابن سینا ، ابوالاقسم الزہروی جیسے سائنسدان کی ایجادات اس کی مثال ہیں ۔

 تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے موجودہ صورتحال میں والدین کے لیے بچوںکو معیاری تعلیم فراہم کرنا بہت مشکل ہوتا جارہا ہے ۔یہی وجہ ہے کم وسائل کے پیش نظر عورت کے نسبت مرد کی تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ ہمارے ہاں عام تاثر پایا جاتا ہے کہ مرد ہی گھر کا پہیہ چلاتا ہے اور ہمارے معاشرے میں عورت کاکام صرف گھر کے کام کاج ، بچوں کی دیکھ بھال کرنا ہے حالانکہ اسلام حدود و قیود میں رہ کر عورت کو کاروبار کرنے کی اجازت دیتا ہے اس کی زندہ مثال یہ ہے آپ ﷺ کی پہلی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ تجارت کرتی تھیں ۔

 

میرے ایک انتہائی قابل احترام دوست محمد انورجن کی چار بیٹیاں ہیں اُنہوں نے اپنی زندگی کی تمام کمائی اپنی حاحبزادیوںکی تعلیم پر خرچ کی ہے اور آج اُن کی چاروںصاحبزادیاں تابندہ انور ، مُنیزہ انور ، طیبہ انور ، سائرہ انور اعلی تعلیم یافتہ ہیں تابندہ انور نے NUST سے ڈویلمپنٹ سٹیڈیز میں ماسٹر کیا ، مُنیزہ انور نے رائل ہولے وے (یوکے) سے انٹرنیشنل مینجمنٹ میں ایم ایس سی کی طیبہ انور نے ییل یونیورسٹی (نیو یارک) میں آرکیٹیکچر میں ماسٹر کیا پچھے چھ سالوں میں کوئی بھی پاکستان اس یونیورسٹی میں داخلہ نہ لے سکا سائرہ انور جوکہ بی این یو میں آرٹس میں گریجوایشن کی ۔ محمد انور نے خود ایک پرائیوٹ کمپنی میں کام کیا اور اُن کی بیگم عذرا انور نے پچیس سال گورنمنٹ سکول میں ٹیچنگ کی اور اب سماجی خدمات سر انجام دے رہی ہیں یہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک رول ماڈل ہیں ۔

 

صدر جنر ل (ر) پرویز مشرف اپنے دور اقتدار میں چین روانہ ہوئے چین سے جنوبی کوریا روانہ ہونا تھا چینی حکام نے پروٹوکول کے مطابق بیچنگ ائیر پورٹ پر سی اوف کیا اور طیارے میں بٹھا دیا اور جنوبی کوریا کو ٹیک آف کے حوالے سے اطلاع دے دی گئی لیکن طیارہ جو ابھی رن وے پر ہی تھا کو جنوبی کوریا نے طیارے کو رُوکنے کی ہدایت کی اس بات نے صدارتی عملے اور چینی حکام کو پریشان کردیا او ر ایک گھنٹے بعد جنوبی کوریا نے طیارے کو اڑنے کی اجازت دی جنوبی کوریا پہنچے تو جنوبی کوریا نے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سے معذرت کی اور اُنہیں بتایا کہ ہمارے ملک میں پرائمری جماعت کے طلباءکے امتحانات ہورہے ہیں اور اس دوران ہم ملک بھر میں ایئرپورٹ پر آمد ورفت بند کردی جاتی ہے تاکہ طیارے کے شور سے طلباءپریشان نہ ہوں جس وقت آپ چین سے ٹیک آف کر رہے تھے ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ امتحان کے عین درمیان جنوبی کوریا کی حدود میں آجائیں گے اور صدارتی پروٹوکول کی وجہ سے ہم آپ کے طیارے کو نہیں روک سکیں گے اور یوں ہمارے طلباءکا امتحان خراب ہوسکتا تھا اس لیے آپ کو ایک گھنٹے تاخیر سے ٹیک آف کرنے کا کہا تاکہ آپ اس وقت جنوبی کوریا پہنچے جب امتحان ختم ہوچکا ہو ۔ یہ جواز ثابت کرتا ہے کہ زندہ قومیں اپنے طالب علم کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور آج جنوبی کوریا دنیا بھر میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا چکا ہے ۔

 

بد قسمتی سے پاکستان میں تعلیمی اداروں کے طلباءکو سیاسی جلسوں کو کامیاب کروانے کے لیے سکول کے اوقات میں جلسہ گاہ پہنچنے کی تلقین کی جاتی ہے دینی جماعتیں جو اب سیاسی جماعتیں بھی بن چکی ہیں بھی اس کار خیر میں اپنا حصہ بخوبی ڈال رہی ہیں اور مدرسوں سے طلباءکو مختلف سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ہمارے سکولوں میں بچوں کو رٹہ سسٹم پر مجبور کیا جاتا ہے سرکاری سکولوں میں اُستاد ہی فیصلہ کرتے ہیں کہ بچوں کو کیا پڑھانا ہے کس انداز میں پڑھانا ہے اس حوالے سے بچوں اپنی کوئی مرضی نہیں ہے مثالی نظام تعلیم کا مقصد بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے نہ رٹہ لگانے کی صلاحیت ۔ ایک اچھا نظام تعلیم ہر بچے کو انفرادی طور پر سیکھنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے تاکہ بچہ حاصل ہونےو الی معلومات کا اپنی نقطہ نظر پیش کرے برطانیہ میں اُستاد کو اُس وقت تک بچوں کی معاونت کرنی اجازت نہیں جب تک بچہ خود اُن سے معاونت طلب نہ کرے وقت کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام کو اپ گریڈ کیا جائے جس طرح فن لینڈ نے ہاتھ کی لکھائی کو ختم کر کے ڈیجیٹل رسم الخط رائج کیا ہے جہاں پر ابتدائی تعلیم میں بچوں کو مختلف کھلونے ایسا ماحول فراہم کیا جاتا ہے کہ بچہ خود اپنی پسند کے مطابق متعلقہ کیٹگری میں اپنا شوق ظاہر کرے اور یوں اُسے اُس کے مزاج کے مطابق انجینئر ، ڈاکٹر ،ا ٓرکیٹیکچر و دیگر شعبوں کے حوالے سے تعلیم دی جاتی ہے یہ تمام طریقے متنازعہ بھی ہوسکتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ملک کے معاشی ، معاشرتی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بچو ں کو تعلیم دینے کا طریقہ کار اپنائے جائیں تاکہ پاکستان میں شرح خواندگی میں اضافہ ہو اور پاکستان بھی ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوسکے ۔