Post With Image

مودی اور ہٹلر میں کیا باتیں مشترک ہیں؟


کشمیریوں کا قاتل، گجرات کا قصائی اور ہٹلر کا نائب نریندر مودی نہ صرف خطے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے بلکہ انسانیت کے لیے بھی تشویش کی علامت بن چکا ہے، ہٹلر کے نقش قدم پر چلنے والی ہندو انتہا تنظیم آر ایس ایس کے پیروکار نریندر مودی کے کرتوتوں اور ارادوں سے پردہ اٹھ گیا۔

ستمبر 1950 کو بھارتی ریاست گجرات کے علاقے وادنگر میں پیدا ہونے والے نریندر مودی کو اگر نازی ہٹلر کا بھارت میں نائب سمجھا جائے تو بے جا نہ ہوگا، ہٹلر کے نزدیک صرف جرمن قوم کے علاوہ کسی اور کو جینے نہ ہی مراعات کا حق تھا۔

ہٹلر کی طرح مودی کے نزدیک بھی ہندو توا کے تحت ہندوؤں کے علاوہ بھارت میں کسی دوسرے مذہب کے پیروکار خصوصاً مسلمانوں اور دلیتوں کو جینے کا حق ہے نہ مراعات حاصل کرنے کا حق ہے۔

نازی جرمنی میں غیر جرمنوں کی نسل کشی کرنے والے ہٹلر کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے بھی 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کی پشت پناہی کی، کئی ہزار مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا، مسلمانوں خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتیاں کی گئیں، حاملہ مسلمان خواتین کے پیٹوں میں خنجر گھونپے گئے، مسلمان بچوں کو پٹرول پلا کر زندہ جلا دیا گیا۔

اپنےعزائم کی تکمیل کے لیے تصادم کرانا اور فوجیوں کو مروانا بھی نازی ہٹلر اور انتہا پسند مودی کی قدر مشترک ہے۔

ہٹلر نے اپنے عہد سے پھرتے ہوئے پولینڈ پر قبضہ اور روس پہ حملہ کیا، تو مودی نے بھی جواہر لال نہرو کے عہد سے پھرتے ہوئے، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، مقبوضہ کشمیر میں آج 9 لاکھ بھارتی فوج نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔

واضح رہے کہ گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کی پشت پناہی کی وجہ سے ہی 2005 میں امریکہ نے مودی کو ویزا دینے سے انکار کیا۔

نریندر مودی کے زیر حکمرانی بھارت نہ صرف 1930 تا 1945 کے نازی جرمنی کی طرف جارہا ہے، بلکہ جا چکا ہے، ہٹلر 30 جنوری کو رائخ چانسلر بنا تو جرمن قوم کو صرف اور صرف زندہ رہنے اور باقیوں کو غلام بنانا اس کا نصب العین ٹھرا، اس نصب العین کے تحت غیر جرمن اقوام کو تاراج کرتا ہوا ایک طرف فرانس پہ قبضہ کرتا تو دوسری طرف روس کے دروازے پہ دستک دیتا دکھائی دیا۔

نازی ہٹلر نے تو پارلیمنٹ نہیں بلکہ ریڈیو پر قبضہ کرتے ہوئے قوم سے خطاب کیا لیکن نازی مودی نے بھارتی نازیوں یعنی آر ایس ایس کے پیروکاروں اور جمہوریت کے دشمنوں کے زریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا

ہٹلر نے بھی کبھی رائخ سٹیگ یعنی جرمن پارلیمنٹ کا احترام نہیں نیا، انیبلنگ ایکٹ پاس کروایا، جس کے تحت چانسلر کہ وہ بنائے اور دستخط کرے کہ کسی بھی ایسے قانون کو نام نہاد قومی مفاد میں جرمنی کے تھرڈ رائخ، یعنی جرمن پارلیمنٹ صرف تب بلایا جاتا جب اسی اینیبلنگ ایکٹ کو توسیع چاہے ہوتی۔

 

مودی بھی بطور وزیر اعظم بھارتی پارلیمنٹ سے تقریباً غائب رہا ہے، مودی نے ہمیشہ پارلیمانی اداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایگزیکٹو آرڈیننسز نافذ کرنے پر اتفاق کیا، بھارتی پارلیمنٹ اور جمہوریت پر نازی مودی کا تازہ ترین وار آرٹیکل تھری سیون ٹی کا خاتم اور مقبوضہ کشمیرکا خصوصی اسٹیٹس ختم کرنا ہے۔