Post With Image

!جب ایک مسافر نے کال بٹن دبا کر جہاز کے عملے کو مشکل میں ڈال دیا


 زمین سے ہزاروں فٹ اونچائی پر آسمان کی بلندیوں پر جہاز کا عملہ اس وقت پریشانی کا شکار ہو گیا جب ایک سننے اور دیکھنے کی صلاحیت سے محروم مسافر نے کال بٹن دبایا۔

جہاز کا عملہ جہاز کی محدود سی دنیا میں اس شخص کی بات سمجھنے اور سمجھانے سے قاصر تھا، اس لیے عملے کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اگر جہاز میں کوئی ایسا شخص موجود ہو جو اس معاملے میں مدد کر سکے۔

الاسکا ایئر لائنز کا طیارہ بوسٹن سے لاس اینجلس کی جانب معمول کے مطابق رواں دواں تھا کہ پرواز کے دوران جب فلائٹ اٹینڈںٹ نے لاؤڈ اسپکیر پر فوری مدد کا اعلان کیا۔

اعلان میں مسافروں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ان میں سے کوئی امریکی سائن لینگویج جانتا ہے؟

مدد کے جواب میں کال بٹن دبانے والی 15 سالہ مسافر کلارہ نے کال بٹن دبایا۔

فلائٹ اٹینڈنٹ نے صورت حال واضح کرتے ہوئے بتایا کہ جہاز پر ایک ایسا مسافر سوار ہے جو سننے اور دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ عملہ اس کا مدعا سمجھنے سے قاصر ہے اور اس کے ساتھ کوئی اور بھی نہیں جو مدد کر سکے۔

لارا ڈیلیکسیا کا شکار ہونے کی وجہ سے گزشتہ ایک سال سے امریکی سائن لینگویج سیکھ رہی تھی جس کی وجہ سے وہ متاثرہ مسافر کے ہتھیلی پر انگلیوں کی مدد سے اپنی بات سمجھا سکتی تھی۔

64 سالہ ٹم کک کا ہاتھ پکڑ کر کلارا نے سب سے پہلے اس کا حال پوچھا۔ جواب میں کک نے پانی مانگا۔ مسافر نے کلارا کی دوبارہ مدد، وقت جاننے کے لیے مانگی۔ تیسری دفعہ مدد مانگے جانے پر کلارا ٹم کے پاس ہی بیٹھ گئی۔

کلارا کا کہنا تھا کہ اصل میں ٹم کو کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی، وہ اکیلا پن محسوس کر رہا تھا اور وہ کسی سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔ اگلے ایک گھنٹے میں کلارا نے ٹم کو اپنے خاندان اور مستقبل کے حوالے سے اپنے منصوبوں کے بارے میں بتایا۔

ٹم نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ آہستہ آہستہ بینائی سے محروم ہوتا چلا گیا، گفتگو کے دوران وہ  اپنے ان دنوں کے قصے سناتا رہا جب وہ بحیثیت سیلز مین کے سفر کیا کرتا تھا۔

الاسکا ایئر لائنز کے فلائٹ اٹینڈنٹ نے ایک بلاگ انٹرویو میں بتایا کہ کلارا نے حیرت انگیز کام کیا، ٹم بہت خوش تھا کہ دوران سفر اس سے کوئی بات کر سکتا تھا۔

ٹم کک کے مطابق یہ سفر اس کی زندگی کا یادگار اور بہترین سفر تھا۔