Post With Image

ایک روزے میں 16 بار سحری و افطاری، خلا میں سچے مسلمان نے مشکل فرض کیسے نبھایا


زمین پر روزہ رکھنا کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو اس کا تعلق طویل اوقات سے ہوتا ہے جس کا روزہ دار کوئی نہ کوئی حل نکال ہی لیتے ہیں، کوئی لمبی تان کر سو جاتا ہے تو کوئی کسی پسندیدہ مصروفیت سے جی بہلا کر وقت بالآخر گزار لیتا ہے۔ لیکن خلا میں روزہ اتنا آسان اور سادہ نہیں، اگر ہر ڈیڑھ گھنٹے بعد افطاری اور سحری کرنی پڑ جائے تو رمضان المبارک کا روزہ رکھنا کتنا پیچیدہ ہو جائے گا اور اس مشکل صورتحال سے نکلنے کا کوئی حل بھی نہیں۔ اس کے باوجود یہ چیلنج ایک انڈونشئن مسلمان شیخ مظفر شکور نے قبول کیا اور خلا میں روزے رکھنے کا فرض پوری جانفشانی سے نبھایا۔

سال 2007 میں شیخ مظفر شکور کو انٹرنیشنل سپیس سٹیشن کے ایک مشن پر خلا میں جانا تھا، رمضان المبارک میں روزہ رکھنا اور نماز پڑھنا ان کیلئے انتہائی مشکل صورتحال کا سبب بنا۔ ایک تو خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے نماز پڑھنا کیونکہ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن مسلسل حرکت میں رہتا ہے اور وہ اپنے 9 روزہ خلائی قیام کے دوران رمضان المبارک کے روزے بھی خلائی سٹیشن میں رکھنا چاہتے تھے۔

زمین کی سطح سے 220 میل اوپر مدار میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن (آئی ایس ایس) مسلسل گردش کرتا ہے اور اس دوران قبلہ رخ کا تعین کرنا ممکن نہیں کیونکہ تقریبا ہر سیکنڈ میں اس میں تبدیلی آ جاتی ہے بلکہ کئی بار تو ایک نماز کے دوران ہی قبلے کا رخ مخالف سمت یعنی 180 درجے تک بدل جاتا ہے۔

اس سے زیادہ مشکل دوسرا مسئلہ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن میں روزے رکھنا تھا کیونکہ خلائی سٹیشن زمین کے گرد ڈیڑھ گھنٹے میں چکر مکمل کرلیتا ہے اور ہر 24 گھنٹے کے دوران 16 بار دن، رات کا سامنا ہوتا ہے، یعنی ہر ڈیڑھ گھنٹے بعد سحری اور افطاری۔ سحری پر تو کوئی سوال نہیں لیکن افطاریبہرحال فرض ہے۔ یعنی سپیس سٹیشن کا مشن بھی مکمل کرنا تھا اور ہر ڈیڑھ گھنٹنے بعد روزے اور وقت پر نماز کا اہتمام بھی کرنا تھا۔

خلا میں جانے سے قبل شیخ مظفر شکور کا کہنا تھا  ایک مسلمان کے طور پر مجھے اپنی فرائض پورے کرنے ہوں گے، مجھے توقع ہے کہ میں خلا میں روزے رکھوں گا ۔ ان کو درپیش آنے والی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ملائشین سپیس ایجنسی نے 150 سائنسدانوں اور دینی علما کی کانفرنس کا انعقاد کیا تا کہ ان سوالات کے جواب تلاش کیے جاسکیں اور اس کے نتیجے میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن میں عبادت کی گائیڈلائنز پر مشتمل دستاویز تیار ہوئی جو 18 صفحات پر مشتمل تھی، جس کی منظوری ملائیشین نیشنل فتویٰ کونسل نے دی۔

اس دستاویز کے مطابق خلاباز قبلہ رخ کا تعین جو اس کے بس میں ہو اس کے مطابق کرے جیسے خانہ کعبہ کی پراجیکشن سپیس سٹیشن میں کرے، مشکل ہو تو زمین کی جانب یا کسی بھی جانب رخ کر کے نماز پڑھ لے۔ روزوں سے متعلق علما کا کہنا تھا کہ وہ زمین پر واپسی تک روزے نہ رکھیں یا اگر رکھنا ہی چاہتے ہیں تو وہ جس مقام سے خلا میں روانہ ہوں گے، یعنی قازقستان میں خلائی مرکز جہاں سے شٹل روانہ ہونی تھی، کے طلوع و غروب آفتاب کے اوقات کے مطابق روزے رکھیں۔