میو ہسپتال کی لفٹ میں 13 سالہ بچہ جاں بحق، وزیراعلیٰ کا نوٹس

میو ہسپتال میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ڈینگی وارڈ میں لگی لفٹ میں 13 سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا ہے۔ دنیا نیوز کے مطابق میو ہسپتال میں انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے باعث ڈینگی وارڈ میں 13 سالہ بچہ زندگی کی بازی ہار گیا، متوفی فہد کا باپ زاہد ہسپتال میں زیرعلاج تھا۔ ذرائع کے مطابق فہد ہسپتال میں والد کی دیکھ بھال کے لیے موجود تھا۔ بچہ ایک گھنٹے تک لفٹ میں موجود رہا لیکن انتظامیہ کی جانب سے کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے میو ہسپتال میں لفٹ میں پھنسنے کے باعث 13 سالہ بچے کی ہلاکت کا نوٹس لے لیا ہے اور واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔ واقعے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئراینڈمیڈیکل ایجوکیشن سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور کہا ہے کہ واقعہ کی ہر پہلو سے تحقیقات کر کے غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کر کے کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس موقع پر انہوں نے جاں بحق لڑکے کے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اُدھر وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشد نے میو ہسپتال کی لفٹ کی زد میں آکر 13 سالہ بچے کی ہلاکت کا سخت نوٹس لے لیا ہے اور کہا کہ غفلت سامنے آنے پر متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ صوبائی سیکرٹری صحت مومن آغا میوہسپتال میں پیش آنے والے واقعہ کی مکمل تحقیقات کررہے ہیں۔ سی ای اومیئوہسپتال پروفیسرڈاکٹراسداسلم خان کا کہنا تھا کہ بچہ اچانک لفٹ کے دروازے کا بٹن چلانے کی وجہ سے پھنسا۔ واقعہ کے بعد بچے کو فوری طور پر قریبی سی سی یو شفٹ کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا واقعہ بظاہرحادثاتی محسوس ہو رہا ہے، واقعہ کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کیلئے چار رکنی ممبران کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔