آزادی مارچ کے شرکاء کنٹرول لائن کےقریب جسکول پہنچ گئے

مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا مارچ دوسرے روز میں داخل ہوگیا ہے جس کے شرکاء کنٹرول لائن کے قریبی علاقہ جسکول پہنچ گئے ہیں۔ مظاہرین اس وقت شاہراہ سرینگر پر موجود ہيں اور آزادی کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں۔ یاسین ملک کی جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی کال پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمعہ کی رات 4 اکتوبر سے ضلع بھمبر پہنچنا شروع ہوئے۔ مارچ کا اہتمام جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ جے کے ایل ایف کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ان کی آخری منزل سری نگر ہوگی۔ بھارتی جیل میں زندگی کے قیمتی 13 سال گزارنے والے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے حمید بٹ اس مارچ کی قیادت کر رہے ہیں۔ حمید بٹ کو مقبول بٹ، یاسین ملک اور رفیق ڈار کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ آزاد کشمیر کے علاقے گڑھی ڈوپٹہ میں موجود ہیں، جہاں سے مارچ کے شرکا اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ ہونگے۔ شرکاء نے چکوٹھی سے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کےلیے مارچ شروع کر دیا ہے۔ چکوٹھی کا علاقہ مظفر آباد سے 61 کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔ آزاد کشمیر آنے والے شرکا نے اپر اڈہ پر جمع ہو کر پیدل مارچ شروع کیا۔ مارچ کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ اور انسانیت سوز مظالم پر عالمی دنیا کی توجہ مبذول کروانا ہے۔ آزادی مارچ میں بزرگ، خواتین اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان شریک ہیں۔ مارچ کے شرکا کو لائن آف کنٹرول کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لئے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔ کمشنر مظفرآباد ڈویژن کا کہنا ہے کہ مارچ کرنے والے شہریوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولا باری کا خدشہ ہے۔ جس سے شہریوں کا جانی نقصان ہوسکتا ہے۔ کمشنر مظفر آباد کا مزید کہنا تھا کہ جلوس کے شرکا سے اپیل ہے کہ ایل او سی کے قریب اجتماع سے پرہیز کریں۔ دوسری جانب لبریشن فرنٹ کے قافلے کو لائن آف کنٹرول چکوٹھی بڑھنے سے روکنے کے لیے چناری کے قریب جسکول کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے، جب کہ راستوں کو کنٹینر لگا کر بلاک کیا گیا ہے۔ پاکستان کے زیرانتظام آزاد کشمیر میں متحرک خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے کارکنان مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے اور وہاں جاری لاک ڈاﺅن کے خلاف ایل او سی کی جانب پیدل مارچ کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ مارچ کا آغاز جمعہ کے روز مقبوضہ کشمیر کے ضلع بھمبر سے ہوا، جو کوٹلی، راولاکوٹ اور دھیرکوٹ سے ہوتا ہوا رات گئے مظفرآباد پہنچا تھا۔ جہاں سے مارچ کے شرکا ایل او سی کے چکوٹھی چیک پوائنٹ کی جانب رواں دواں ہیں۔ بھارت زیر قبضہ کشمیر میں سرینگر سے صرف 100 کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان کی جانب چکوٹھی سیکٹر ہے، جہاں کے رہنے والے بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری حالیہ تنازعے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔