لاپتہ افراد کی ذمہ داری وزیر اعظم‘کابینہ پر آتی ہے‘ اسلام آبادہائی کورٹ

اسلام آباد :(لیڈرنیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ لاپتہ افراد کی ذمہ داری وزیر اعظم اور کابینہ پر عائد ہوتی ہے،کیوں نہ معاوضے کی رقم ریاست کے بجائے وزیر اعظم اور کابینہ کے ارکان اداکریں؟اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتہ صحافی اور بلاگر مدثر نارو کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری ہائیکورٹ میں پیش ہوئیں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شیریں مزاری سے کہا کہ آپ کے اندر احساس ہے، لیکن ریاست میں احساس نہیں، لاپتہ افراد کے اہل خانہ سڑکوں پر آ رہے ہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ایک کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے۔ اس معاملے میں ریاست کا ردعمل افسوس ناک ہے، ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، وہی نظر آنی چاہیے، انہیں ماں کی طرح لے جائیں، گھر والوں کو مطمئن کریں، اس کا بچہ بھی پیدا ہوا، اس کی بیوی دنیا سے رخصت ہو گئی۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے اور اس کے والدین کو مطمئن کرے، وزیراعظم اور وفاقی کابینہ اس متاثرہ خاندان کی بات سنیں اور انہیں مطمئن کریں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ذمہ داروں کو معاوضہ دینے کا قانون کیوں نہیں بنایا، 2002 میں کوئی لاپتہ ہوا تو ذمہ داروں پر جرمانے کیوں نہیں اس وقت کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ کیوں نہ اسے ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور اسے معاوضہ ادا کرنے کو کہا جائے؟ اس کا ذمہ دار کسی کو ٹھہرانا چاہیے۔ ہماری آدھی زندگی غیر جمہوری حکومتوں میں گزری ہے اور یہی انہوں نے کیا ہے۔ اس وقت، پولیس اور وزارت میں سبھی کو آزاد ہے، تمام ادارے وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، الزام درست ہے یا نہیں، متاثرہ خاندان کو مطمئن کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، تین سال سے ڈی پورٹ ہو رہے ہیں، اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ .۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس لے جائیں، کابینہ ارکان سے ملاقات کا بندوبست کریں۔ آپ کوشش کریں کہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مطمئن ہو کر واپس آجائیں۔ وزیر اعظم اور کابینہ کے ارکان ریاست کے بجائے معاوضہ کیوں نہیں دیتے؟ تاکہ یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ مدثر نارو کے اہل خانہ کو 13 دسمبر تک مطمئن کیا جائے، ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر مزاری سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

#Islamabad High Court #responsibility for missing persons falls on the Prime Minister and the Cabinet