اٹک میں وکلا کا قتل،مقدمے میں انصاف ہوتا نظر آئیگا: اعظم تارڑ

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اٹک میں وکلا کے قتل کا ہولناک واقعہ قابل مذمت ہے ، اس کیس میں انصاف ہوتا نظر آئے۔پنجاب بار کونسل سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے دونوں وکلا ء کے قتل سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ طلب کی ہے ، وکلا ء کے قتل کے فوری بعد وزیر اعلیٰ نے آئی جی پنجاب سے بات کی اور ملزم کو فوری طور پر گرفتار کرلیا گیا، حکومت کی جانب سے اٹک والے واقعے کی تحقیقات میں کوئی کمی نظر نہیں آئے گی، اب قانون اپنا راستہ لے گا۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم بالکل نہیں کہتے کسی کے ساتھ زیادتی ہو ، جہاں جرم ہو وہاں ریاست نے پراسیکیوٹ کرنا ہوتا ہے، میرا یہ وعدہ ہےاس کیس میں آپ کو انصاف ہوتا ہوا نظر آئے گا، وزیراعلیٰ کے حکم پر ملزم کا مقدمہ خصوصی عدالت میں چلایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت وکلاء کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کررہی ہے ، حکومت نے وکلاء کیلئے ایک ارب روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں، احسن بھون کی کوششوں سے وکلا ء پیکیج کا اعلان ہوا،مریم نواز کی ہدایت پر خواتین وکلا ء کیلئے خصوصی اقدامات کئے جارہے ہیں ،حکومت پنجاب بھر کی تمام تحصیلوں اور اضلاع میں وکلاء کیلئے خصوصی اقدامات کررہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح کے حکومتی سطح پر معاملات چل رہے ہیں سب کو معلوم ہے، ہم آئین و قانون کی بات کرتے ہیں، آئین و قانون کی بالادستی سب کیلئے ہونی چاہیے، وکلاء پر احتجاج کے دوران سیون اے ٹی اے لگنے کا سلسلہ بند ہوگیا ہے، ہمیں زیب نہیں دیتا کہ توڑ پھوڑ اور تالا بندی کریں، خود احتسابی اپنے ہی گھر سے کرنی ہوگی۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ اگر ظلم ہوا ہے تو بار ایسوسی ایشن ریاست کے ساتھ مل کر پراسیکیوشن کرے گی، وکالت بہت معزز پیشہ ہے ، اس پیشے نےپاکستان کی سیاسی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے،ہم آئین وقانون کے پاسدار اور رکھوالے ہیں یہ ہم نے ثابت کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے جیلیں کاٹی ہیں ،جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا، اس ملک میں جمہوری عمل کو نہیں رکنے دیں گے، جمہوری عمل میں جہاں سے رکاوٹ آئے گی مزاحمت کریں گے۔