Post With Image

میشا شفیع کیس، گواہان پر بیان کے بعد جرح کا ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار


میشا شفیع کو سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا، گواہان پر بیان کے فوری بعد جرح کرنے کا ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے علی ظفر کو 7 دن میں گواہان کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ گلوکارہ میشا شفیع کی درخواست پرعدالت عظمی نے گواہان پر بیان کے فوری بعد جرح کرنے کا ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے میشا شفیع کے وکیل کو گواہان پر جرح کی تیاری 7روز میں مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ سپریم کورٹ نے میشاء شفیع اور علی ظفر کو غیرضروری درخواستیں دائرکرنے سے روک دیا۔ دوران سماعت میشا شفیع کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ ان کی موکلہ علی ظفر کے تمام گواہان کو نہیں جانتی، گواہان میں علی ظفر کے ملازمین شامل ہیں۔ علی ظفر کے وکیل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی گواہ علی ظفر کا ملازم نہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ علی ظفر کا میشا شفیع کی درخواست پر بنیادی اعتراض کیا ہے۔ جس پر علی ظفر کےوکیل نے کہا کہ قانون کے مطابق گواہ کا بیان اور جرح ایک ہی دن ہوتی ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ بیان اور جرح ایک دن ہونے کا اختیار عدالت کا ہے۔ میشا شفیع کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ گواہان کی لسٹ مل جائے تو ایک دن میں جرح کر لیں گے۔ عدالت کی جانب سے مزید ہدایات جاری کی گئیں کہ ٹرائل کورٹ غیر ضروری التواء نہ دیتے ہوئے جلد فیصلہ کرے، سپریم کورٹ کا حکم فریقین کی رضامندی سے جاری کیا گیاہے۔


آپ کی رائے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا