Post With Image

پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات برف کا حصہ بننے لگے


سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات زمینی کرہ ہوائی میں داخل ہو کر ںہ صرف برف میں ذخیرہ ہوتے جا رہے ہیں بکلہ ہوا میں‌ شامل ہو کر تنفس کے ذریعے انسانی جسم میں‌ بھی آسانی سے داخل ہو جاتے ہیں. میڈیا رپورٹ کے مطابق اس سائنسی رپورٹ میں ان ذرات کے تنفس کے دوران انسانوں اور جنگلی حیات کے جسموں میں داخل ہونے سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں کی اس بابت مشترکہ تحقیقی رپورٹ بدھ کے روز شائع کی گئی ہے۔ اس تحقیقی رپورٹ کی معاون مصنفہ میلانی بیرگمان نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ مائیکرو پلاسٹک کی اکثریت ہوا کے ذریعے برف کا حصہ بنی۔ واضح رہے کہ مائیکرو پلاسٹک پانچ ملی میٹر سے چھوٹے پلاسٹک ذرات کو کہا جاتا ہے۔ یہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ آسانی سے ہوا میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ استعمال شدہ لاکھوں ٹن پلاسٹک دریاؤں اور سمندروں میں پھینکا جاتا ہے جہاں یہ پلاسٹک الٹراوائلٹ شعاؤں اور موجوں کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ٹوٹتا چلا جاتا ہے۔ مائیکروپلاسٹک اس سے قبل سمندری پانی اور سمندری حیات کے اجسام میں آسانی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔


آپ کی رائے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا