!پاک ایران تعلقات، نئی اُمید نیا سفر


پاکستان اور ایران صدیوں سے لازوال تاریخی مذہبی ثقافتی اور تجارتی رشتوں میں منسلک ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد ان کے تعلقات میں مزید گرمجوشی آئی لیکن پچھلے دو تین عشروں سے بین الاقوامی سطح پر فروغ پانے والی دہشت گردی سے یہ دونوں برادر ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور ان میں بدگمانیاں پیدا ہوئیں۔ جس کی بڑی وجہ دونوں ملکوں کی تقریباً ساڑھے 9سو میل لمبی مشترکہ سرحد کے آر پار بعض ناخوشگوار واقعات کا وقوع پذیر ہونا ہے۔ مثلاً حال ہی میں سرحد کی دوسری طرف ایران میں موجود بلوچ دہشت گرد گروپ نے پاکستان میں گھس کر مکران کوسٹل ہائی وے پر14پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کو شہید کر دیا۔ اس سے قبل مبینہ طور پر پاکستان کی سرحد کے اندر سے ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان جا کر دہشت گردوں نے ایران کے انقلابی گارڈز کی بس پر حملہ کیا اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے جن سے دونوں ملکوں میں بے اعتمادی کی کیفیت نمایاں ہوئی۔ اس لحاظ سے وزیراعظم عمران خان کا دو روزہ دورہ ایران باہمی تحفظات دور کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی اور دوسرے رہنماﺅں سے وزیراعظم کی ملاقاتوں کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا وہ دونوں ملکوں میں دوستی اور تعاون بڑھانے کے حوالے سے بہت بڑی کامیابی کی غمازی کرتا ہے۔

سرد مہری کے ناگوار موسم کے بعد دو ملکوں کے تعلقات میں گرم جوشی نظر آئے تو انگریزی محاورے میں ایسی سفارتی سرگرمیوں کو برف پگھلنے سے تشبیہ دی جاتی ہے گویا برف پگھل رہی ہے۔ جب ہم کہتے یا لکھتے ہیں کہ دونوں پڑوسی ممالک تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں منسلک ہیں توہمارا اشارہ ایران کی 4ہزار سالہ تاریخ اور بر صغیر پاک وہند کے ساتھ سر زمین فارس کے بادشاہوں ، سیاحوں اور تاجروں کے تعلقات کی طرف ہوتا ہے اسلامی ادوار میں ان تعلقات کو نئی جہتیں مل گئیں کوہ نور ہیرے سے لیکر تخت طاﺅس اور جامِ جم سے لیکر گلستان ، بوستان ، دیوانِ حافظ، رباعیات خیام اور مولانا روم کی مثنوی بر صغیر کے لئے اجنبی نہیں امیر خسرو ، مرزا بیدل ، اور غالب سے لیکر اقبال لاہوری تک ہمارے شعر ا اہل فارس کے لئے اجنبی نہیں ” من تو شدم تو من شدی “ کی کیفیت ہے1979ءکے انقلابِ ایران اور امریکی سفارت خانے پر پاسدارانِ انقلا ب کے قبضے تک فارسی ہمارے سکولوں اور کالجوں میں اختیاری مضمون کی حیثیت سے پڑھائی جاتی تھی اس واقعے کے بعد نصاب بنانے والوں نے فارسی کو پاکستان کے تعلیمی نصاب سے نکال دیا دونوں ہمسایہ ملکوں کے باہمی تعلقات کا دارومدار مغرب سے چلنے والی اُن سرد ہواو¿ں کی رفتار پر ہوا جو بحر اوقیانوس کے اُس پار سے 7ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے آتی ہیں 2005ءسے پاک ،ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ اسی وجہ سے التواءمیں پڑا ہوا ہے کسی حکومت کو جرا¿ ت نہیں ہوتی کہ اس منصوبے کو آگے بڑھائے یہ دورہ ایسے وقت پرہوا جب پاکستان اور ایران کے درمیان دو معاملات پر شدید تناو¿ کی صورت حال ہے دو سال پہلے بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو ایران کے راستے پاکستان آیا دہشت گردی کی کئی وارداتوں کے بعد پکڑا گیا اور تمام وارداتوں کا اقرار کیا گذشتہ ہفتے ساحلی شاہراہ پر اور ماڑہ میں بسوں کے قافلے پر حملہ کرکے نیوی اہلکاروں سمیت 14پاکستانی شہریوں کو شہید کیا گیااور اس میں ایران کے ملوث ہونے کا اشارہ مل گیا اس طرح ایران نے اپنے مشرقی صوبہ خراسان کی سرحد پر کئی وارداتوں کا الزام پاکستان پر لگا یا ہے اس وجہ سے سفارتی تعلقات پر سرد مہری کے بادل چھا ئے رہے ۔

لہٰذاتاریخ کا ایک اہم سبق اور اصول یہ ہے کہ ایک ملک ہر چیز بد ل سکتا ہے پڑوسی نہیں بدل سکتا کیونکہ پڑوسی کا تعلق جغرافیائی حقائق سے ہے جو اٹل ہوتے ہیں ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہوسکتی یہی وجہ ہے 200سالوں کی دشمنی کے بعد فرانس اور جرمنی دوست بن گئے جرمنی اور برطانیہ میں دوستی ہوگئی شمالی اور جنوبی کوریا 65سالوں کے بعد دوستی کے رشتے میں منسلک ہوکر شیرو شکر ہوگئے کیونکہ دوستی کے بغیر چارہ نہیں تھا پاکستان ایسے خطے میں واقع ہے جہاں مشرق میں بھارت ، مغرب میں افغانستان اورایران واقع ہیں جنوب میں سمندر ہے شمال میں سابق سویت یونین کی آزاد ریاستیں ہیں اور عوامی جمہوریہ چین ہے ایران ، افغانستان ، تاجکستان اور ازبکستان کے ساتھ بھارت کی گہری دوستی ہے جبکہ ہمارے تعلقات کشیدہ ہیں عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ بھارت اور ہمارے تعلقات ایک جیسے ہیں تا ہم بھارت میں چینی باشندے محفوظ سفر کرتے ہیں پاکستان میں چینی شہری محفوظ سفر نہیں کرسکتے۔ پاک ،ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھی التواءکا شکار ہا اسی طرح چائنہ پاکستان اکنامک کو ایڈور (CPEC)کا منصوبہ گذشتہ 9مہینوں سے التواءمیں پڑا ہوا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران پر عالمی پابندیوں کی وجہ سے کیسپین کی بندرگاہ سے ہرات افغانستان کو آنے والی شاہراہ پر جاری رہا بھارتی انجینئروں اور تعمیر اتی کمپنیوں کا کام جاری رہا مگر پاکستان کی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ تجارت کی اجازت نہیں ملی عالمی سطح پر اس طرح کی دو غلی پا لیسیوں کے خلاف ایران ، چین افغانستان اور پاکستا ن کو مشترک جدوجہد کرنی ہوگی۔ 

آج جب وزیر اعظم عمران خان کے دورے کے بعد دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان سیکورٹی تعاون بڑھانے، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور مشترکہ سرحد کے تحفظ کے لئے مشترکہ سریع الحرکت فورس بنانے پر اتفاق ہوا ہے تو اس حوالے سے سکھ کا سانس لیا جانا چاہیے کہ اب ایک نئے سفر اور ایک نئی اُمید کا آغاز ہونے جارہا ہے۔ اس معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے تحت اس عہد کی نئے سرے سے تجدید کی گئی کہ دونوں ممالک اپنی سر زمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اس سلسلے میں ایک اطلاع یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی مشترکہ سرحد پر آہنی باڑھ لگائی جائے گی پاکستان نے جیش عدل اور لشکر خراسان سمیت تمام دہشت گرد گروپوں پر پابندی لگانے کی یقین دہانی کرائی ہے، جن پر اس کی سر زمین ایران کے خلاف استعمال کرنے کے الزامات ہیں۔ سیکورٹی تعاون بڑھانے کے لئے دونوں ملکوں کی سیکورٹی ایجنسیوں کے سربراہوں کی ملاقات میں تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور اہم تجاویز زیر غور آئیں۔ اس وقت بارڈر سیکورٹی میکانزم موجود ہے جس کے تحت سرحدوں پر مشترکہ گشت اور نگرانی میں اضافہ کیا جائے گا۔ مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور اشیاءکے تبادلے کے لئے کمیٹی کی تشکیل کے علاوہ صحت اور دفاع کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے جو ایک بڑی پیش رفت ہے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ دونوں ملک سرحدی علاقوں میں مشترکہ صنعتیں لگائیں گے۔ 

 

خوشی کی بات یہ ہے کہ صدر روحانی نے پاکستان کی تیل و گیس کی ضرورت پوری کرنے اور بجلی کی برآمد دس گنا بڑھانے کی پیشکش کی ہے۔ اس حوالے سے دونوں ملکوں نے ضروری اقدامات کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ایرانی صدر نے اپنی چاہ بہار بندرگاہ کو ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے گوادر پورٹ سے ملانے کی پیشکش بھی کی۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اچھے تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں لیکن ان کے دشمن بھی ہیں جو ان تعلقات میں رخنہ ڈالنے کے لئے دہشت گردوں کو پیسہ اور اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔وزیراعظم پاکستان نے صدر روحانی کو یقین دلایا کہ پاکستان ایران کے خلاف کسی محاذ کا حصہ نہیں بنے گا۔ یہ بھی کہا کہ ہم نئے پاکستان میں ایران جیسا انقلاب لانا چاہتے ہیں جس میں امیر اور غریب کے مابین کوئی تفریق نہ ہو۔ مجموعی طور پر وزیراعظم کا دورہ ایران باہمی مفاد میں بہت کامیاب رہا۔ اس دوران ہونے والے فیصلوں سے دونوں ملکوں کو سلامتی کے علاوہ معاشی استحکام میں بھی مدد ملے گی۔ اس حوالے سے اقتصادی تعاون کی تنظیم جس کے پاکستان، ترکی اور ایران بانی ملک ہیں، کے تحت استنبول سے اسلام آباد تک ریلوے لائن کی بحالی کا منصوبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے جس کی رو سے ایران اور ترکی کے ذریعے یورپ اور چین کے ساتھ بھی ان کے رابطے استوار ہو سکیں گے۔اُمید ہے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ایران سے دو نوں پڑوسی ملکوں کے تعلقات پر منڈ لا نے والے بادل چھٹ جائینگے اور پاکستان میں خراب سیاسی صورتحال کو ایک نئی زندگی ملے گی۔ اور شاید عمران خان بھی اسی حوالے سے خاصے پراُمید بھی ہیں اور برملا اس بات کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ انہیں حالات کا تدارک بھی ہے۔ اور انہیں یہ بھی علم ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے.... بہرکیف ترکی ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور ایران کے ساتھ بیک وقت بہتر تعلقات قائم کرنا بھی اپنی جگہ ایک بہترین خارجہ پالیسی ہے جسکی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ اور سونے پر سہاگہ یہ کہ پاک ایران تعلقات سے اس خطے کو ایک نئی زندگی ضرور ملے گی اور دیر آئید درست آئید کے مصداق ایران کا جھکاﺅ بھی بھارت کے بجائے پاکستان کی جانب زیادہ ہوگا!!!