!چینی مردوں سے شادی پر پابندی لگائی جائے


چینی مردوں سے ہماری بچیوں کی شادیوں پر آج کل خوب شور ہو رہا ہے، ملکی سیکیورٹی ادارے بھی خاصے سرگرم نظر آرہے ہیں، چینی سفارتخانہ بھی خوب ایکشن لیتا دکھائی دے رہا ہے،ہیومن رائٹس واچ انٹرنیشنل کی رپورٹ بھی سامنے آگئی ہے، ملک بھر کے مختلف تھانوں میں بچیوں کی بازیابی کے لیے درخواستیں جمع کرائی جا رہی ہیں، ہزاروں بچیوں کے والدین ’’عزت‘‘ کی خاطر سب اچھا ہے کی رپورٹ دے رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ اپنے دل کے ٹکڑوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔

 

پکڑے جانے والے گروہ بڑی سفاکی سے یہ اعتراف کرتے نظر آرہے ہیں کہ ہاں انھوں نے شادیاں ضرور کیں مگر اُن کی ’’بیویاں‘‘ نہ جانے چین میں کہاں ہیں، کیوں کہ انھوں نے اپنی بیویوں کو چینی میرج بیوروز کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا ۔

یقینا کوئی بھی صاحب اولاد ایسی گھناؤنی اور خوفناک کہانیاں سننے کے بعد سر پکڑ کر بیٹھ جائے گا۔کچھ عرصہ پہلے میں بھی ایک ایسی ہی شادی میں مدعو تھا جہاں چینی مرد کی پاکستانی مسلم خاتون سے شادی ہو رہی تھی، اور مذکورہ خاتون میرے دوست کی بھتیجی تھی۔ ’’صحافیانہ عادات ‘‘کے باعث میں نے شادی میں دوست سے کچھ سوال بھی پوچھ ڈالے کہ لڑکے والوں کی طرف سے کون کون ہے؟ انھوں نے جواب دیا بس تین چار دوست ہیں اور لڑکے کی کزن (لڑکی)ہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ شادی کے بعد لڑکی کہاں رہے گی؟

 

تو موصوف نے جواب دیا ’’لڑکا سی پیک پراجیکٹ میں کام کرتا ہے، انجینئر ہے، وہ کچھ مہینے لڑکی کو پاکستان میں رکھے گا اور پھر چین لے جائے گا جہاں ہنسی خوشی زندگی گزاریں گے‘‘ یہ سن کر میں خاموش ہوگیا اور اپنے آپ سے سوال پوچھتا رہا کہ کیا ہم ’’فلپائن‘‘ بننے جا رہے ہیں کیوں کہ چین میں ایک عرصہ سے فلپائن سے لڑکیاں ’’امپورٹ‘‘ کی جارہی ہیں۔ چین کے کئی شہروں میں ایسے دفاتر موجود ہیں جو دیگر ممالک سے دلہنیں لا کر شادیاں کراتے ہیں۔

یہ شادیاں بھاری معاوضے کے عوض کرائی جاتی ہیں۔ ابھی تک سب سے زیادہ شادیاں فلپائن میں ہوتی ہیں۔ 1990 سے قبل تک چینی کی کسی اور ملک میں شادی ایک خبر ہوتی تھی کہ ایسا خال خال ہوتا تھا ۔ لیکن 2010 میں یہ شرح دس گنا تک بڑھ چکی تھی۔ چینی مرد فلپائنی عورتوں سے شادی کو ترجیح دیتے تھے اور اس کی ایک وجہ شاید نین نقش کا ایک سا ہونا ہے۔ اس کو ’چی فلا پینو‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد ویت نام، منگولیا، کوریا وغیرہ سے لڑکیاں چینی لڑکوں کے لیے آنے لگی۔ تاہم جب فلپائنی لڑکیوں نے چینی مردوں کو ٹھیک ٹھاک دھوکے دیے تو انھوں نے  دیگر آپشن بھی استعمال کرنا شروع کیے ۔ اس ضمن میں پاکستان، بنگلہ دیش اور کسی حد تک بھارت وجہ انتخاب ٹھہرے۔ سوچا کہ اس پر کالم لکھوں لیکن دوستی کا بھرم رکھا اور اُس کی عزت کو اپنی عزت سمجھ کر خاموش ہوگیا کیوں کہ مذکورہ دوست بہت پر اُمید تھا اور بار بار کہہ رہا تھا کہ ڈھلوں صاحب ’’جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں‘‘ ۔

 

آج جب یہ مسئلہ کھل کر سامنے آگیا ہے اور ہم سب کا اجتماعی مسئلہ بن گیا ہے تو یہاں یہ بتاتا چلوںاس ملک سے 2015ء(سی پیک کے آغاز) سے لے کر آج تک ایک عام اندازے کے مطابق 17ہزار سے زائد خواتین کو چین میں بھیجا جا چکا ہے اور محض 2000کے قریب ہی خواتین ’’رپورٹ‘‘ ہو سکی ہیں جب کہ باقی کے خاندان والے سامنے آنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔ آج ہر طرف سے کہا جا رہا ہے کہ فلاں علاقے سے چینی گروہ پکڑا گیا اور فلاں علاقے سے اُس کے پاکستانی سہولت کار پکڑے گئے تو ایسے میں ایف آئی اے کی کارکردگی واقعی تعریف کے قابل ہے مگر اس ادارے سے شکوہ یہ بھی ہے کہ ہم اُن ہزاروں لڑکیوں کو موت کے منہ میں دھکیل کر ہی ہوش میں کیوں آتے ہیں؟

کیا ہم ان کہانیوں کو جھیلنے کے لیے رہ گئے ہیں جن میں کوئی لڑکی اپنے بیان میں یہ کہہ رہی ہے کہ اُسے چین میں لے جا کر نشہ آور اشیاء دے کر جسم فروشی جیسے غلط کام کرائے جاتے، کچھ لڑکیاں جو وہاں سے بھاگ کر پاکستانی سفارتخانے پہنچیں اُن کے مطابق اُن کے شوہر نے انھیں ایک کمرے میں بند رکھا ہوا تھا، جہاں رات کو کئی مرد آیا کرتے تھے وغیرہ ۔ کچھ لڑکیاں بتا رہی ہیں کہ چینی لوگ لڑکی کے والدین کو 5 سے 10 لاکھ روپے تک ادا کرتے ہیں جب کہ شادی کے تمام اخراجات چینی لڑکوں کی طرف سے کیے جاتے، کچھ شادیوں میں شادی کے بعد بھی لڑکی کے والدین کوماہانہ 20 سے 30 ہزار روپے دیے گئے ہیں۔بعض تو اس قسم کے انکشاف سامنے آئے ہیں کہ لڑکیوں کے اعضا کی بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں بیچ دیے جاتے۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں چینی باشندے رہتے ہیں ۔ پاکستان کی چین کی جانب نرم ویزا پالیسی کے نتیجے میں تھوک کے حساب سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ یہ کیا کام کرتے ہیں، بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ایف آئی اے خود کہہ رہی ہے کہ اب تک لاہور،منڈی بہاوالدین، فیصل آباد، پتوکی، ساہیوال سمیت دیگرشہروں کی لڑکیوں کے شادی کے کیس سامنے آئے ہیں۔یہ گروہ پورے پاکستان میں کام کررہا ہے اوریہ شادیوں کا سلسلہ گزشتہ 3 ، 4 سال سے جاری ہے۔

حقیقت میں چین میں خواتین کی قدرومنزلت بے پناہ ہے جو جنس نایاب تو نہیں جنس کمیاب ضرور ہیں اس کی بڑی وجہ وہاں ’’ایک بچہ پالیسی ہے۔‘‘ اسی ایک پابندی نے وہاں کے سماج کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ وہاں کئی رشتے تو یکسر ختم ہو کر رہ گئے ہیں۔ خالہ، ماموں، چچا، پھپو کے رشتے ختم ہو چکے ہیں، سبب سے بڑا مسئلہ عورتوں اور مردوں کی تعداد میں فرق ہے، وہاں 100 مردوں کے مقابلے میں87 خواتین دستیاب ہیں۔اور چونکہ پاکستان میں خواتین کی شرح مردوں کے مقابلے میں نسبتاََ زیادہ ہے اس لیے یہاں خواتین کے رشتوں کے مسائل کی وجہ سے اور غربت کی وجہ سے بھی والدین فوری رشتہ کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں لیکن اس سلسلے میں کیا قانون سازی ہونی چاہیے؟ کیا ہماری بیٹیوں کی یونہی بولی لگتی رہے گی؟ کیا حکمران اُس وقت ہوش میں آئیں گے جب ہماری بچیاں اور ہمارے خاندان دنیا بھر بدنام ہو جائیں گے؟ کیا ایمل کانسی کیس میں امریکی اٹارنی جنرل کی بات سچ تھی جس نے کہا تھا کہ ’’پاکستانی وہ قوم ہیں جو پیسے کے لیے اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں‘‘۔

دنیا بھر میں اس قسم کی شادیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن وہاں اس حوالے سے مکمل قانون سازی ہو چکی ہے۔ میں امریکا میں اکثر جاتا رہتا ہوں تو وہاں میں نے دیکھا ہے کہ اگر میں کسی امریکی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں تو میرے لیے وہاں کے قوانین اس قدر سخت ہیں کہ میں فراڈ کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ وہاں ایسا بالکل نہیں ہے کہ نکاح خواں نے نکاح پڑھوایا، دستخط ہوئے، اور لڑکا لڑکی لے کر نکل گیا۔ ویسے بھی ایشین لوگ امریکی اور یورپی زبان اور کلچر کو سمجھتے ہیں، یورپ اور امریکا میں پاکستان اور انڈیا کے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جس کی وجہ سے ایک دوسرے کو زبان سمجھ آتی ہے۔چونکہ انگریزوں نے اس خطے پر سو سال تک حکومت کی ہے اس لیے انھیں بھی ہماری زبان کچھ نہ کچھ سمجھ آتی ہے۔

مگر چین کا کلچر اور زبان سے ہمارا معاشرہ بالکل نابلد ہے۔ نہ وہاں کی زبان ہمیں آتی ہے، اور نہ ہی وہاں کی ثقافت۔ چینیوں کا لہجہ، باڈی لینگوئج ہی بالکل مختلف ہے۔ لہٰذاحکومت کو فوری طور پر قانون سازی کرنی چاہیے یا حکومت کو شادی پر ہی پابندی لگادینی چاہیے۔اگر اس بارے سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو پاکستان ایک دوسرا فلپائن بن سکتا ہے۔ جرائم پیشہ گروہ بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان پاکستانی لڑکیوں کے حقوق کے حوالے سے لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی زندگیاں تباہ نہ ہوں اور جو بچیاں وہاں جا کر پھنس چکی ہیں ان کی باعزت بازیابی بھی حکومت پر قرض ہے۔ سی پیک جیسا معاہدہ اپنی جگہ مگر دو ملکوں کے درمیان حدود و قیود بھی کوئی معنی رکھتی ہیں اس لیے اس ملک کی عزت نفس کے ساتھ ہر گز کھلواڑ نہیں ہونا چاہیے!