!نیا بلدیاتی نظام ”سیاسی“ نہیں ہونا چاہیے


سیاسی نظام میں ”بلدیاتی نظام“ کی خاصیت یہ ہے کہ ا±س میں عوام براہ راست منسلک ہوتے ہیں، اشرافیہ کا عمل دخل نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اگر دس ہزار نمائندوں میں سے 5دس فیصد کرپٹ بھی ہوں تو نظام بخوبی چلتا رہتا ہے اور عوام تک ریلیف پہنچتا رہتا ہے۔

محلے کے تنازعات سے لے کر گلی محلوں کی سڑکوں کی تعمیر تک تمام کام انھیں نمائندوں کے سپرد ہوتے ہیں اور عوام مطمئن بھی ہوتے ہیں۔مطمئن اس صورت میں کہ عوام کہاں قومی و صوبائی اسمبلی کے منتخب نمائندوں کو تلاش کریں جو الیکشن کے بعد گمشدہ ہوجاتے ہیں۔ لیکن بلدیاتی نظام میں عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب اپنے ہی گلی محلوں سے کرتے ہیں اور انھیں نہ صرف وہ عرصہ دراز سے جانتے ہیں بلکہ ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔

حقیقت میں سیاسی جماعتیں ہی نہیں چاہتیں کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں۔ اس لیے سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ ا±ن کے ایم این ایز اور ایم پی ایز فنڈز استعمال کریں اور جتنا وہ پیسہ الیکشن میں لگا کر آئے ہیںیا پارٹی فنڈ میں خرچ کر چکے ہیں وہ وصول کریں۔ عمران خان کو بھی ووٹ اسی ”تبدیلی“ کے باعث ملا تھا کہ انھوں نے بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے کے اعلانات کیے تھے، انھوں نے دنیا بھر کی مثالیں دے کر کہا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے ہمیشہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوتے ہیں، اور وہ اقتدار میں آکر قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو فنڈز دینا گناہ سمجھیں گے لیکن پارٹی اراکین کے دباو¿ کے بعد انھیں سرنڈر کرنا پڑا اور پچھلے دنوں 70،70کروڑ کی گرانٹ منظور کی گئی۔ حالانکہ تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاست کا بنیادی نعرہ مقامی حکومت کا مضبوط نظام تھا۔

ان کے بقول اقتدار میں آکر پہلی ترجیح مقامی سطح پر مقامی نظام حکومت کو جمہوری بنیادوں پر تشکیل دینا ہوگا۔ لیکن سیاسی حکمرانی کے نظام کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ عدم مرکزیت کے مقابلے میں عملی طور پر مرکزیت کے نظام کے حامی ہیں۔ عوامی منتخب نمائندوں کے مقابلے میں بیوروکریسی کی بنیاد پر حکمرانی کے نظام کو طاقت دے کر خود جمہوری نظام کا تماشا بنایا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پر یہ ہی بڑی تنقید تھی کہ یہ لوگ مقامی نظام حکومت کے حقیقی دشمن ہیں۔ لیکن معذرت کے ساتھ پی ٹی آئی کا بھی رویہ ماضی کی حکومتوں سے مختلف نہیں ہے۔ کیوں کہ سیاسی پنڈتوں کے بقول ان خدشات کا محور یہ تاثر ہے کہ نئے بلدیاتی نظام کا واحد مقصد صوبہ پنجاب میں حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے بلدیاتی سطح پر موجود اثر و رسوخ اور انتخابی طاقت کو ختم کرنا ہے۔

اگر ہم نئے بلدیاتی نظام کی بات کریں تو تحریک انصاف کی حکومت نے صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں میں مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے بنیادی طور پر دو مسودے تیار کیے جنہیں اسمبلی سے منظور بھی کرا لیا گیا ہے۔ پہلے مسودے کو لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ءجبکہ دوسرے مسودے کو پنجاب ویلج پنچائیت اینڈ نیبرہوڈ کونسل ایکٹ 2019ءکا نام دیا گیا ہے۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ءکے سیکشن 2 کے مطابق موجودہ بلدیاتی حکومتیں نئے ایکٹ کے اسمبلی سے منظور ہوتے ہی ازخود تحلیل ہو جائیں گی جس کے بعد ایک سال کے اندر نئی حلقہ بندیاں کروا کر الیکشن کرایا جائے گا۔

ایکٹ کے نفاذ کے بعد حکومت چھ ماہ کے اندر اندر تمام شہری اور دیہی علاقوں کی حد بندی نئے سرے سے کرے گی۔ اسی حد بندی کو مدنظر رکھتے ہوئے شہری علاقوں کو 2017ءکی مردم شماری کے مطابق ا?بادی کے لحاظ سے میٹروپولیٹن کارپوریشنز، میونسپل کارپوریشنز، میونسپل کمیٹیوں اور ٹاﺅن کمیٹیوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ یعنی شہری علاقوں میں مقامی حکومتوں کے چار بنیادی درجے ہوں گے جن کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر کروائے جائیں گے۔

ایکٹ کے مطابق نئے نظام میں گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، ساہیوال، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اور لاہور کے دو اضلاع میں میٹروپولیٹن کارپوریشنز بنائی جائیں گی۔ یعنی صوبے میں کل نو میٹرو پولیٹن کارپوریشنز بنیں گی۔ جبکہ مقامی حکومتوں کا دورانیہ پانچ سال ہو گا۔ اس کے علاوہ پنجاب میں پہلے سے موجود 32 سو81 یونین کونسلز کی جگہ اب 22 ہزار ولیج کونسلز بنائی جائیں گی۔اب یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ حکومت کو نیا ایکٹ بنانے کی اتنی جلدی تھی کہ اس نے ایک بھی اسٹیک ہولڈر سے مشورہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ جب بھی کوئی نیا حکمران آیا، اس نے اپنی مرضی کا بلدیاتی نظام لانا چاہا۔ ا?پ تاریخ پر نظر دوڑا لیں کہیں یہ ادارہ اپنی ڈگر پر چلتا نظر نہیں آئے گا۔

قیام پاکستان کے بعد ایوب خان نے 1962ءمیں بلدیاتی نظام کو بی ڈی (Basic Democratic) ممبر کے نام سے متعارف کرایا۔ پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا تو ذوالفقار علی بھٹو نے بلدیاتی اداروں کے بجائے پیپلز پارٹی کی وارڈ کمیٹیوں کی سطح پر تنظیموں کے ذریعے ترقیاتی کام اور راشن کی تقسیم شروع کی،1970ءکی دہائی کے دوران پیپلز پارٹی کی وارڈ کمیٹی کا چیئرمین کسی منتخب بلدیاتی چیئرمین سے زیادہ با اختیار ہوتا تھا، جنرل ضیا الحق نے سیاسی جماعتوں کا اثرورسوخ ختم کرنے کے لیے غیر جماعتی بلدیاتی ادارے بحال کیے۔

اگر دیکھا جائے تو1979ءسے1992ءتک رہنے والا یہ بلدیاتی نظام سب سے زیادہ مفید ثابت ہوا۔ 2008ءکے بعد نئے جمہوری دور میں بھی بلدیاتی اداروں کے مشکل دن شروع ہوئے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے پانچ سال میں بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے،2013ءمیں مسلم لیگ ن کی حکومت نے نئے بلدیاتی قوانین بنانے کے بہانے سے دو سال گزار لیے اور پھر ان کے اختیارات ختم کرنے کے بعد 2015ءمیں الیکشن کرائے مگر انہیں اختیارات سے دور ہی رکھا۔

 

لگتا ہے کہ عمران خان کی حکومت بھی بیوروکریسی پر ہی زیادہ انحصار کر رہی ہے۔ تحریک انصاف کا یہ نظام اپنی ہی سابقہ دور میں خیبر پختونخوا کے مقامی نظام حکومت کی بھی عکاسی نہیں کرتا۔ لگتا ہے کہ روایتی سیاست کے علمبرداروں نے عمران خان کی حکومت کو ٹریپ کر لیا ہے اور اس بل پر ان کو زیادہ سیاسی اور قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نئے بلدیاتی نظام میں حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسا میکنزم بنائے جس سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں اور ہر ماہ کونسل کی سطح پر ہونے والے اخراجات کی رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور پھر باقاعدہ اس کو شائع کیا جائے۔ تمام حساب کتاب عوام کے سامنے رکھا جائے تب ہی اس پروگرام کو انقلابی کہا جا سکتا ہے۔ خدارا اس نظام کو ”سیاسی“ ہونے سے بچایا جائے کیوں کہ عوام کا تو موجودہ صورتحال میں پہلے ہی کوئی پرسان حال نہیں!!!