!’’کامیاب جوان پروگرام‘‘ کو کامیاب بھی بنائیں


نوجوان کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اگر ریڑھ کی ہڈی ہی ناتواں ہو تو پورا جسم کمزور پڑھ جاتا ہے۔ آج دنیا میں وہی قومیں ترقی کر رہی ہیں، جن کے نوجوان درست سمت پر چل رہے ہیں، نت نئی Innovationsکر رہے ہیں، کاروبار کی نئی سمتیں تلاش کر رہے ہیں،لیکن یہاں پاکستان میں گزشتہ 10سالوں میں نوجوان جرائم پیشہ افراد کی تعداد میں 34فیصد اضافہ ہوا ہے۔

 

جیلوں میں نوجوان قیدیوں میں 22فیصد اضافہ ہوا ہے، ملک میں 2کروڑ نشہ کرنے والوں میں نوجوانوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ یقینا یہ اعداد و شمار انتہائی مایوس کن ہیں۔لیکن کیا کیا جائے، جب ان جوانوں کے پاس روزگار نہیں ہوگا، کرنے کو کچھ نہیں ہوگا ، آؤٹ ڈور گیمز نہیں ہوںگی، حکومتی سطح پر کوئی مناسب پراجیکٹ نہیں ہوگا، کرئیر کونسلنگ کرنے والا کوئی نہیں ہوگا تو یہ نوجوان یقینا جرائم کی دنیا کو آسانی سے قبول کریں گے۔

یہاں ایسا نہیں ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں قابلیت اور ذہانت کی کمی ہے،بلکہ بہت سے نوجوان بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام بھی روشن کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں ،جو نوجوانوں کا خاصہ تصور کی جاتی ہیں۔ان میں ہمت ہے، جذبہ ہے ،یہ قابل ہیں، ذہین ہیں بہادر ہیں، اور محنتی بھی ہیں۔لیکن گزشتہ ادوار کی مارا ماری او ر آپادھاپی نے نوجوان نسل کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ جس کے باعث نوجوانوں میں مایوسی بڑھی،بے روزگاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور شرح خواندگی بھی خطرناک حد تک نیچے آگئی۔

 

تبھی تو 2011ء میں ’’ سیاسی سونامی ‘‘ کی لہر میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے ’’تبدیلی‘‘ کا ساتھ دیا اور  روایتی سیاستدانوں کو شکست دی۔پھرعمران خان اقتدار میں آئے تو انھوں نے اپنی پہلی ہی تقریر میں نوجوانوں کو خوشخبری دی کہ اُن کے لیے نت نئے پروگرام شروع کیے جائیں گے تاکہ وہ اس ملک کی تقدیر بدلنے میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں۔

اسی سلسلے میں گزشتہ ہفتے عمران خان کو ’’وزیراعظم کامیاب جوان پروگرام‘‘ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور تادم تحریر آخری خبریں آنے تک وزیر اعظم نے اس پروگرام کی اصولی منظوری بھی دے دی۔ ان مشکل حالات میں جب ملک میں ایک مایوسی کا عالم ہے تب یقینا یہ ایک اچھی خبر ہے۔ متذکرہ پروگرام کے تحت نئی نسل کو روزگار اور تعلیم کی فراہمی کے علاوہ اُنہیں ہنر مند بنانے اوراُن کی تعلیمی صلاحیتوں کو مثبت طور پر بروئے کار لانے کے لیے مختلف منصوبوں کا اجرا کیا جائے گا۔ اسٹرٹیجک یوتھ ڈویلپمنٹ روڈ میپ کے تحت نوجوانوں کی ترقی کا فریم ورک مرتب کیا جائے گا۔

اس پروگرام کی مختلف برانچیں ہیں، جن میں یوتھ اکنامک ڈویلپمنٹ اِمپاورمنٹ پروگرام، وزیراعظم گرین یوتھ موومنٹ، پرائم منسٹر اسٹارٹ اپ پاکستان، انٹرن شپ پروگرام، ہنر مند پروگرام اور کامیاب جوان ایمپلائمنٹ ایکس چینج شامل ہیں۔اِس وقت پاکستان میں کل آبادی کا 64فیصد حصہ نوجوان نسل پر مشتمل ہے جو ملکی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے، مردوں میں خواندگی کی شرح 53جب کہ خواتین میں 42فیصد ہے، جن میں سے 15فیصد بیروزگار ہیں۔ اُن کا تعلق ہر شعبہ زندگی سے ہے۔

خیر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کو ایسا ماحول ملا ہے جہاں بے ایمانی، جھوٹ ، فریب ، انتہا پسندی اور منافقت عروج پر ہے۔ ماضی کی حکومتوں میں نوجوانوں کو صرف ’’سیاسی نعروں ‘‘کی حد تک ہی قوم کا مستقبل قرار دیا گیا ہے ، فیصلہ سازی میں نوجوان طبقے کا کوئی کردار نہیں ہے۔ پارلیمان میں نوجوانوں کی نمائندگی کا تناسب صرف 1.9فیصدہے۔ہمارے ہاں جو طبقہ سب سے کم ووٹ ڈالتا ہے ، وہ نوجوان ہیں جب کہ دنیا بھر میں 35سال سے بھی کم عمر سیاست دان اپنا کردار نبھا رہے ہیں ، ہمارے نوجوان سیاسی نظام سے بددل ہو چکے ہیں جس نظام نے فرسودہ روایات کا خاتمہ نہیں کیا اور ان کے بنیادی حقوق بھی انھیں نہیں دیے۔

ہمارے ہاں شہروں میں نوجوانوں کے لیے تفریح کے مواقعوں کو یکسر دفن کر دیا گیا ہے، انھیں کھل کھیلنے کے مواقعے فراہم نہیں کیے جاتے، ایک وقت تھا جب ہم خود طالب علم تھے، اُس وقت نوجوانوں کے لیے کرنے کے بہت سے کام ہوا کرتے تھے، نوجوان سیاست میں حصہ لیتے تھے، طلباء یونین کی وجہ سے ملک میں بہترین لیڈر پیدا ہوتے تھے ،گورنمنٹ کالج لاہور (جی سی )جیسے کالج میں ہمارے لیے وسیع و عریض کھیل کے میدان ہو ا کرتے تھے،ملکی و مقامی سطح پر کھیلوں کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔

لیکن اس کے برعکس آج آبادی بڑھنے کے بعد وہ گراؤنڈز یا تو ختم کر دیے گئے ہیں، یا قبضہ مافیا نے وہاں سرکاری عہدیداروں سے مل کر پلازے تعمیر کر لیے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ نئی بننے والی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بھی نوجوانوں کے لیے اسپورٹس کمپلیکس نہیں رکھے جاتے۔ بدقسمتی ہے کہ ہم گراؤنڈز اور سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کھیلوں کے حوالے سے دنیا بھر میں167ویں نمبر پر آتے ہیں اور جن کھیلوں میں ہم آگے تھے اُن میں بھی ہم برائے نام رہ گئے ہیں، فنڈز کی بندر بانٹ تقسیم نے ملک میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ سابقہ حکومتوں نے ’’یوتھ لون پروگرامز‘‘ کے ذریعے نوجوانوں کو اُمید دلائی مگر اربوں روپے کے فنڈز کرپشن کی نذر ہوگئے۔المیہ یہ ہے کہ گزشتہ 35سالوں میں ہر سیاسی جماعت نے نوجوانوں کو اپنے اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا ہے۔

آج جب حکومت یہ پروگرام اناؤنس کرنے جا رہی ہے تویقینااس کی شفافیت کو ضرور مد نظر رکھنا چاہیے، حکمرانوں سے استدعا ہے کہ وہ اپنی نوجوان نسل کو تباہی کی جانب راغب ہونے سے بچائے۔ ہمارے ہاں نوجوانوں کو سب سے بڑ ا جو درپیش مسئلہ ہے ،وہ بے روزگاری ہے۔تعلیم و ہنر کا فقدان ہے ، بے روزگاری ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔لاکھوں روپے کے خرچ اور محنت سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی نوجوان ادھر ہی کھڑا رہتا ہے،جہاں وہ ڈگری حاصل کرنے سے پہلے تھا۔ نوجوانوں کی ضروریات اور بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی ہماری ریاستی ناکامیوں کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔ماضی میں حکومت اگرنوجوانوں کے لیے کوئی پالیسی بنا تی ہے ،تو اس کی شرائط ہی اتنی کٹھن ہو تی ہیں کہ نوجوان اس سے مستفید نہیں ہو سکتے تھے۔اس بار اگر ایسا ہوا تو یقینا آج کے بعد کوئی نوجوان ’’تبدیلی‘‘ کا نعرہ نہیں لگائے گا۔

یہ سابق حکومتوں کا ہی کیا دھرا ہے کہ آج کے نوجوان یہ سوچ رہے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل کیا ہے؟ یا میرا پاکستان میں مستقبل کیا ہے؟ یہ دو انتہائی اہم ترین سوال ہیں جو اکثر نوجوانوں کے ذہنوں میں مستقل گردش کرتے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے اندر پھیلی ہوئی لاقانونیت، کرپشن اور اقرباء پروری کے باعث  اِس طرح کے سوالات کا اُٹھنا کچھ غلط بھی نہیں ہے، ایسے حالات میں انسان یہ بات سوچنے پر ضرور مجبور ہوجاتا ہے کہ اُس کو اپنے مستقبل کے سہانے خواب کسی اور ملک میں ہی سجانے چائیں۔

 

اس لیے مذکورہ بالا پروگرام کے ذریعے ملک میں موجود نوجوانوں کو مایوسی کا شکار ہونے سے بچایا جائے، جیسے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا ہے کہ جو طالب علم بہترین سائنسی ماڈل لائے گا حکومت اس پراجیکٹ کو اسپانسر کرے گی، حکومت کے دیگر وزراء کو بھی اسی قسم کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ شہر میں موجود میدانوں پر سے قبضے چھڑانا ہوں گے، قوانین بنانا ہوںگے،  اسپورٹس کمپلیکس بنانا ہوں گے، جن کی سستی ترین ممبر شپ فیس اناؤنس کرنا ہوںگی ۔ اہم بات یہ بھی کہ لاہور میں بہت سے اسپورٹس کمپلیکس ادھورے ہیں انھیں مکمل کیا جائے ۔ بہرکیف اگر نوجوانوںکو متذکرہ مسائل اور مشکلات سے نجات دلا دی گئی تو یہ موجودہ حکومت کی کامیابی اور یوتھ پروگرام ملک و قوم کے لیے یقیناً سنگِ میل ثابت ہوگا۔