!عمران خان کو اپنی جنگ خود لڑنا پڑے گی


سابقہ حکومتوں اور موجودہ حکومت میں فرق یہ ہے کہ وہ کام کم کرتے تھے مگر اسے اس انداز میں قومی سطح پر تشہیر کے ذریعے پیش کرتے کہ ایسے لگتا جیسے نہ اس سے بہتر کبھی کوئی کام ہوا نہ آئندہ کبھی ہوگا.... اس کے برعکس موجودہ حکومت لاکھ اچھے کام کرلے وہ اسے عوام تک پہنچانے میں بری طرح ناکام رہی ہے، حکومت کے پاس عوام کو اپنے کام بتانے کا واحد ذریعہ اس کے وزیر رہ جاتے ہیں ۔ یعنی حکومت نے نہ تو ”ذاتی“ تشہیر کے لیے فنڈز رکھے ہیں اور نہ ہی میڈیا تائیکون کو اپنے ساتھ ملایا ہے جو ان کے سچے جھوٹے قصیدے پڑھتا رہے۔ لہٰذایہی واضح فرق بادی النظر میں (خاکم بدہن) حکومت کے مکمل ”ناکام“ ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔ اوراہم بات یہ کہ حکومت جن وزراءکے ذریعے پیغام رسانی کا کام کررہی ہے اُن کی مثال یوں ہے کہ جس طرح پرانے زمانے کی کہانیوں میں بادشاہ شکار کے لیے جاتے تو درباریوں، قصہ گو افراد اور نجومیوں کے لشکر ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ یہ سب شکار میں تو کسی کام نہیں آ تے تھے لیکن رونق میلہ لگائے رکھنے کے لیے ان کا ہونا ضروری ہوتا تھا۔ان کہانیوں کے جنگل میں تین سمت شکار کھیلنے کی اجازت ہوتی تھی اور چوتھی سمت جانے پر ناشدنی کا اندیشہ رہتا تھا۔ یہ قصہ گو، نجومی وغیرہ بادشاہ کو راستے میں آنے والی نشانیاں بتا بتا کر چوتھی سمت جانے سے روکا کرتے تھے۔ بادشاہ لیکن بادشاہ ہوتا ہے، جب وہ ان سگنلز پر توجہ نہ دیتے ہوئے کسی ہرن کا تعاقب جاری رکھتا، تو اسے بھٹکنا پڑتا تھا۔

اس وقت بادشاہ کو راستے میں کوئی نہ کوئی درویش ملا کرتا تھا، جو جنگل میں اپنی کٹیا کے باہر بیٹھا عبادت میں مشغول ہوا کرتا تھا۔ بادشاہ کے پاس اس در بدری کے دوران عام طور پر پانی ختم ہو چکا ہوتا تھا اور اسے پانی کے ایک پیالے کا سوال لیے درویش کی عبادت میں مخل ہونا پڑتا تھا۔درویش چونکہ جنگل میں صرف ساقی گری کے لیے نہیں بٹھائے جاتے بلکہ ان سے کہانی کو چلتا رکھنے کا کام لینا بھی مقصود ہوتا ہے، اس لیے جاں بہ لب بادشاہ کو پانی پلانے کے بعد درویش اسے ایک آدھ نصیحت کرنا ضروری سمجھتا تھا۔بعض بادشاہ تو اس بات پر خود بھی حیران ہو کر، کہ یہ بندہ خدا اس جنگل بیابان میں زندگی کیسے بسر کر رہا ہے، اس سے زندگی گزارنے کا کوئی گرُ بھی پوچھ لیا کرتے تھے۔درویش عام طور پر ہر فن مولا ہوا کرتا تھا اور بادشاہ کے خانگی امور سے لے کر ملک کی خارجہ پالیسی تک سب پر گہری نظر رکھتا تھا۔وہ بادشاہ کو بتایا کرتا تھا کہ اول تو شکار وغیرہ جیسی چیزوں پر وقت اور پیسہ ضائع کرنا امور سلطنت سے بے توجہی برتنے اور عوام کے حال سے غافل رہنے کا سبب بنتا ہے لیکن اب اگر ”تم جنگل میں آ ہی گئے ہو اور تم نے میری تپسیا کھنڈت کر ہی دی ہے، تو سنتے جاو¿ کہ راستے بھر میں ملنے والی نشانیوں اور نجومیوں کی جاری کردہ وارننگز کے باوجود تم اس سمت بڑھے چلے جا رہے ہو، جس سے تمہیں خبردار کیا جا رہا تھا۔ مزید آگے جاو¿ گے تو اپنے لشکروں، حواریوں، مال و اسباب سے تو ہاتھ دھو ہی بیٹھو گے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ممکن ہے کہ جان کے لالے بھی پڑ جائیں“۔اس کے بعد دو ہی صورتیں ہوتی تھیں۔ یا تو بادشاہ اس درویش کی الل ٹپ باتوں پر توجہ نہیں دیا کرتا تھا اور چوکڑیاں بھرتا کسی خوش شکل ہرنوٹے کے تعاقب میں وہ اسی چوتھی سمت جا نکلتا تھا اور پھر کہانی میں وہی ہوتا تھا، جو درویش نے کہا ہوتا تھا۔ یا پھر بادشاہ کو کان ہو جاتے تھے اور وہ درویش کی دی ہوئی کسی انگوٹھی وغیرہ کی مدد سے راستہ طے کرتا واپس اپنے ملک پہنچ کر خیر خیریت سے حکومت کرتا تھا اور باقی عمر سیر شکار سے توبہ کر کے چوتھی سمت کا نام لینے سے بھی بچ جاتا تھا۔لہٰذاہمارے ”بادشاہ“ کے وزیر بھی محض اسی کام کے لیے رہ گئے ہیں کہ انہوں نے خود تو کچھ کرنا نہیں ہے، اس لیے اُن کا کام محض بادشاہ کو ڈرانا دھمکانا رہ گیا ہے۔ یعنی عمران خان کو ایسی کئی نشانیاں اور علامتیں وزیروں اور جہاں دیدہ مشیروں کی صورت میں ملتی ہیں، جو”ادھر نہ جائیو، ادھر جانے والا کبھی واپس نہیں آیا“ کا نعرہ مستانہ لگا کر کبھی مشورے، کبھی دھمکی تو کبھی ماضی کی کسی مثال کا حوالہ دے کرانہیں روک لیتے ہیں۔جس سے عمران خان Survivalپوزیشن میں چلے جاتے ہیں اور عوام کا مورال ڈاﺅن ہو جاتا ہے۔

حقیقت میں ہو یہ رہا ہے کہ تحریک انصاف نے قوم کو ”ا±میدوں“میں اس قدر آگے بھیج دیا تھا کہ عوام وہاں سے واپس آنا ہی نہیں چاہتے۔ حتیٰ کے عوام دریا کے دوسرے پار پہنچ چکے ہیں جبکہ حکومت دوسرے کنارے کھڑی ہموار راستہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس موڑ پر جب عمران خان یا اُن کی ٹیم معیشت ”وینٹی لیٹر“ پر ہونے کا بتاتی ہے تو قوم کہتی ہے کہ ہمیں علم ہے، مگر اس کا راتوں رات سد باب ہونا چاہیے! اب گزشتہ 70سال تک ایک چیز کا بیڑہ غرق کیا جاتا ہو تو اُسے راتوں رات کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن پھر بھی عوام سٹیک ہولڈر ہیں انہیں اعتماد میں لینا تو پڑے گا۔ شاہ رنگیلا کا دور حکومت تو ہے نہیں کہ سب کچھ بند دروازے میں ہو اور کسی کو علم اُس وقت ہو جب چیزیں مسلط ہونا شروع ہو جائیں۔لیکن تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ آپ خواہ امریکا سے ٹکر لیں یا جاپان، برطانیہ جیسے ملکوں پر لشکر کشی کریں ، آپ کی جیت اُسی صورت ممکن ہے کہ جب قوم کا مورال بحال رہے.... اگر قوم کا مورال بحال وبلند ہے تو آپ دنیا کی کوئی بھی مشکل جنگ آسانی سے جیت سکتے ہیں۔ آپ وینزویلا کے صدرنکولس میڈرڈ کی مثال لے لیں جنہوں نے قوم کے مورال کے بل بوتے پرامریکا سے اعلان جنگ کیا ہوا ہے۔چند ماہ قبل وینزویلا میں نیشنل گارڈز کی تقریب میں صدر نکلوس میڈرڈ پر بارود سے بھرے ڈرونز سے قاتلانہ حملہ کیا گیا۔صدر نکولس میڈرڈ کے چہرے پر کسی قسم کا ڈر یا خوف نہیں تھا اور نہ ہی وہ اپنی جگہ سے ڈر کر بھاگے۔ وینزویلا ہی کے سابق مرحوم صدر ہوگو شاویز بھی غضب کے بہادر آدمی تھے۔ وہ مرتے دم تک امریکی صدر سے جنگ کرتے رہے اور امریکی پالیسیوں اور چیرہ دستیوں کو ہدف تنقید بناتے رہے۔ ہوگو شاویز للکار کر امریکی صدر کو برا بھلا کہتے تھے۔ مرتے دم تک ان کا بھی مورال بلند رہااور قوم کا بھی۔ 

بہرکیف آج حالات عوام کے لیے مشکل ترین ہیں، اس کے ساتھ ساتھ فکر اس بات کی ہے کہ عوام کا مورال بھی پستی کی جانب گامزن ہے، اور مورال اُسی وقت مایوسی میں بدلتا ہے جب عوام کے درمیان نا اُمیدی جنم لیتی ہے۔ لہٰذاعمران خان کو اس نااُمیدی کو ختم کرنا ہوگا، یہ قوم 70 سال سے جبر، استحصال،ناانصافی، ظلم، بربریت، دہشت گردی، مہنگائی بیروزگاری اور حق تلفیاں برداشت کر رہی ہے۔ اس قوم کو کبھی مسیحا نصیب نہیں ہوا۔ کبھی کوئی بڑا لیڈر نہیں ملا جو قوم کی کشتی بھنو رسے نکالتا۔ جب بھی ملے لوٹ مار کرنے والے اور نااہل، غاصب،خودغرض، لالچی، بدعنوان لوگوں سے پالا پڑا۔آج عوام کو سابقہ دور نہیں بھولے ۔کوئی سڑک بنی نہ کوئی پل بنا، نہ کسی ہاسپٹل میں مریضوں کا بروقت،مفت اور صحیح علاج ہوا، نہ تعلیم کا معیار بلند ہوا،نہ نالج پارک بنا اور نہ کوئی کھیل کا میدان بنالیکن پھر بھی 100ارب ڈالر کے قرضے چڑھا لیے گئے۔آج ہر شخص نمود و نمائش کیلئے بدعنوانی کرتا ہے۔ رشوت کھاتا ہے، پاکستان میں اکثر لوگوں کا کیریئر اقربا پروری، سفارش اور رشوت پر کھڑا ہے۔ بہت سارے لوگوں کی نوکریاں چرب زبانی، خوشاممد، چاپلوسی، پی آر شپ پر چل رہی ہے۔ یہ سارے وہ لوگ ہیں جنہوں نے میرٹ کا قتل عام کیا ہے اور لوگوں کا حق مار کر خود ان کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔ لوگ بیروزگار ہیں اور میرٹ پر انہیں آنے سے پہلے من پسند لوگوں کو تعینات کر لیا جاتا ہے۔ جب لوگوں کا حق مارا جاتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں نفرت، غصہ، انتقام پیدا ہوتا ہے اور اس سے معاشرے میں اضطراب، بے چینی، بدامنی، انتشار جنم لیتا ہے جیسا کہ پاکستان میں ہے۔ جب معاشرے میں گھٹن بڑھ جائے اور انصاف نہ ہو تو معاشرہ ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ یہی حال پاکستانی معاشرے کا ہے۔

 

اس لیے قوم کی آپ آخری امید ہیں۔ اگریہ امید بھی ٹوٹ گئی تو پاکستانی ووٹ دینا چھوڑ دیں گے اور بھروسہ کرنا بھی چھوڑ دینگے۔ بہرکیف آج عمران خان کو بیک وقت ایسے لوگوں سے پالا پڑا ہے جو عمران خان کی ہر اچھی کوشش کو داغدار کررہے ہیں۔اقتدار کے مزوں سے زیادہ عمران خان کو اندرونی و بیرونی مخالفین اور سازشوں سے مسلسل نبردآزما ہونا پڑ رہا ہے۔مگر عمران خان کی کامیابی تب ممکن ہے جب وہ عوام کا مورال بحال کریں گے۔ عوامی بہبود کے کام کریں گے اور عوام کو ریلیف دینگے۔ آنے والے بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف ملے گا تو اُن کا مورال بلند ہوگا، پھر حکومت اور اداروں کو کرپٹ سیاستدانوں کو سزادینے میں بھی کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور مافیاز پر ہاتھ ڈالنے میں بھی کوئی پریشانی نہیں اُٹھانا پڑے گی!اس لیے بہتر ہے کہ عمران خان قوم کا مورال بحال رکھیں، ہر چھوٹے بڑے فیصلے میں انہیں شریک رکھیں، اُن کی فکر کریں تاکہ آنے والے دنوں میں انہیں کوئی بڑی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے!