!قمرزمان کائرہ کے بیٹے کی وفات اور ٹریفک قوانین


قمر زمان کائرہ کے بیٹے اُسامہ کی وفات کو آج دوہفتے ہونے کو ہیں ، مگر اُن کے گھر افسوس کرنے والے احباب کا آج بھی تانتا بندھا ہوا ہے،کائرہ صاحب یقینا بڑے انسان ہیں، اُن کا شمار پیپلزپارٹی کے اُن چند رہنماﺅں میں سے ہوتا ہے جنہیں ہر جگہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، تبھی آج دکھ کی اس گھڑی میں اُن کے ساتھ کھڑا ہے۔ تبھی لالہ موسیٰ کے باسیوں کے علاوہ ہر پاکستانی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے.... تبھی ہر سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے لیڈر کی اُن کے گھر آمد ہوئی.... وہ یقینا بڑے انسان اور ملنسار شخصیت کے انسان ہیں وہ جن کے سامنے آجاتے ہیں وہ شخص قمر زمان کائرہ کو دیکھتے ہی منہ سے مسکراہٹ لئے ایسے کھڑا ہوجاتا ہے کہ جیسے وہ صرف اور صرف انہی کے دوست ہوں۔گزشتہ دنوں میں بھی اُن کے شہر لالہ موسیٰ افسوس کے لیے پہنچا،یقینا یہ وہی قمر زمان تھے جنہیں ہم ہمیشہ دلائل کے ساتھ بات کرتے دیکھتے۔ اگر وہ سیاسی لوگوں پر تنقید بھی کرتے تو اس مدلل انداز میں کرتے کہ لحاظ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹتا۔ لیکن بیٹے کی وفات کے صدمے کے بعد دھیمی آواز، پراسرارو بے نام سی مسکراہٹ اور اُسی ملنساری کیفیت میں ہمارے درمیان موجود تھے۔ غم سے نڈھال باپ کو دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے وقتی طور پر کائرہ صاحب کے لیے سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں صبر دے۔ کائرہ صاحب کا کہنا تھا کہ اسامہ اُن پر اس قدر بوجھ لاد گیا ہے کہ وہ چاہ کر بھی نہیں اُتار سکتے ۔ کیوں کہ جس قدر لوگوں نے اُن سے محبت کا اظہار کیا ہے ، یقینا وہ اُن پر قرض رہے گا۔

خیر ہم افسوس کے بعد وہاں سے نکل آئے، لیکن ایک بات ذہن میں کھٹکتی رہی جس کا بار بار وہاں پر بھی ذکر ہوتا رہا کہ پاکستان میں ٹریفک قوانین یا سیفٹی کے حوالے سے عمل درآمد کیوں نہیںہے؟ کیا یہاں ہماری جوان اولادیں یونہی سڑکوں پر مرتی رہیں گی؟ کیا بوڑھے والدین یونہی اپنی اولادوں کو لحد میں اُتارتے دیکھتے رہیںگے؟ کیا ان نوجوانوں کی مائیں جوان بیٹے کی لاش دیکھ کر یونہی ساری عمر کے لےے روگ لگا لیں گی؟ کیا ہمارے حکمران اس بارے میں بھی کبھی سوچیں گے کہ اگر ملک میں قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے تو ہم بہت سے مصیبتوں سے بچ سکتے ہیں؟ اور کیا ہمارے سڑک پر ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ داری بھی کوئی لے گا یا ”اللہ کاحکم“ کہہ کر ہم ان سب چیزوں سے منہ پھیرتے رہیں گے۔ 

افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں ہر کسی بڑے حادثے کے بعد کسی دوسرے اور پھر تیسرے حادثے کا انتظار کیا جاتا ہے.... جبکہ اس کے برعکس امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں کوئی کام کرنے کے لئے بڑے حادثے کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ حکومتی اور نجی سطح پر زندگی کے ہر شعبے میں تحقیق جاری رہتی ہے چاہے وہ پیچیدہ بیماریوں کا علاج ہو،بجلی بچانے کے طریقے ہوں،پھلوں اور سبزیوں کی کاشت بڑھانی ہو یا پھر گاڑیوں کے حادثوں میں جانی نقصان کم سے کم کرنے کیلئے نئی ٹیکنالوجی کی دریافت ہو۔ جدید ممالک یہ نہیں دیکھتے کہ ایک چیز بن گئی ہے تو سو جائیں یا اگر سر درد کی گولی ایجاد ہو گئی ہے تو وہ سردرد پر تحقیق کرنا چھوڑ دیں۔ نئی میڈیکل تحقیق کے مطابق درد کی دوا زیادہ کھانے سے دل، گردے اور معدے پر برا اثر پڑتا ہے اس لئے اگر سر درد کی گولی بن بھی گئی ہے تو اب اس بات پر تحقیق جاری ہے کہ سر درد ہوتا کیوں ہے اور اسے روکا کیسے جا سکتا ہے۔

آپ ٹریفک حادثات کو دیکھ لیں۔ ان حادثات کی وجوہات پر غور کیا جانا از حد ضروری ہے۔ گاڑیوں میں حفاظتی سہولیات میں سے ایک سیٹ بیلٹ ہے۔ کئی عشروں تک امریکہ جیسے ملکوں میں بھی یہی سمجھا جاتا تھا کہ سیٹ بیلٹ حادثے سے بچاﺅ کیلئے کافی ہے کیونکہ گاڑی الٹنے یا ٹکرانے کے بعد جھٹکے کی صورت میں مسافر اچھل کر گاڑی کے مختلف حصوں سے ٹکراتے ہیں جس سے چوٹ بڑھ جاتی ہے؛ تاہم سیٹ بیلٹ کے باوجود حادثات میں مسافر زخمی ہوتے رہے تو اس کا حل ایئر بیگز کی صورت میں دریافت کیا گیا۔ یہ ایئر بیگ ابتدا میں ڈرائیور اور اس کے ساتھ بیٹھے مسافر کے سامنے ڈیش بورڈ میں نصب تھے اور جیسے ہی گاڑی سامنے سے ٹکراتی‘ بمپر میں لگے سنسرز خودکار انداز میں ایئربیگز کو کھلنے کا پیغام دیتے اور یوں گاڑی کے سامنے سر لگنے یا سٹیئرنگ اور گاڑی کا ڈھانچہ انسانی جسم میں پیوست ہونے کا خدشہ کم ہو گیا۔ امریکہ میں 1999ء میں بغیر ایئربیگز والی گاڑیوں اور ٹرکوں کے سڑکوں پر آنے اور بنانے پر پابندی لگ گئی جس کے بعد جاپان، جو دنیا میں گاڑیوں کا سب سے بڑا ایکسپورٹر تھا، نے بیرون ممالک ایئربیگز والی گاڑیاں بھیجنا شروع کر دیں۔ ان سے حادثات میں ہونے والے انسانی نقصانات میں خاطر خواہ کمی آ گئی۔ پھر انہوںنے سوچا کہ اگر گاڑی کو کوئی دائیں بائیں یا پیچھے سے مارے تو اس صورت میں مسافر کیسے بچیں گے۔ اس مقصد کے لئے ایئربیگز کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا اور اب جو نئی گاڑیاں بن رہی ہیں ان میں چھ سے لے کر بارہ ایئربیگز ہوتے ہیں۔ ایکسیڈنٹ کی صورت میں یہ دائیں بائیں اوپر پیچھے ہر طرف سے کھل جاتے ہیں، باہر سے پوری گاڑی تباہ ہو جاتی ہے لیکن اندر بیٹھے مسافروں کو خراش تک نہیں آتی اور یہ ان ہوائی غباروں میں محفوظ رہتے ہیں۔ بھارت اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں مگر ابھی یہ ٹیکنالوجی پوری طرح سرایت نہیں کر سکی۔ یہاں تو بغیر شاکس والے چنگ چی رکشے تک چلنے کی اجازت ہے جن میں کوئی حادثہ نہ بھی ہو تو اچھے بھلے بندے کا دس منٹ میں انجر پنجر ہل جاتا ہے۔ اسی طرح شہروں سے ذرا باہر نکلیں تو موٹر سائیکل پر ہیلمٹ پہننا تو کیا کوئی نمبر پلیٹ لگانا بھی گوارا نہیں کرتا۔ اسی طرح جی ٹی روڈ پر ایسی ایسی ڈڈو بسیں اور دھواں دینے والی گلی سڑی کوچیں اور ''طیارے“ چل رہے ہیں جنہیں ہزار مرتبہ ویلڈ کیا جا چکا ہے لیکن انہیں پکڑنے والا کوئی نہیں۔ سکول وینوں میں غیر معیاری سلنڈر بھی سال میں ایک دو مرتبہ پھٹتے ہیں لیکن نہ تو عوام کو کوئی عقل آتی ہے نہ ادارے کچھ کرتے ہیں۔

ایک رپورٹ نظر سے گزری کہ سڑکوں پر ہونے والے ٹریفک حادثات میں 82 فیصد موٹر سائیکل سے ہوتے ہیں، یعنی موٹر سائیکل گاڑی سے ٹکراتی ہے یا کسی اور موٹر سائیکل سے یا پھر سوار خود ہی بے قابو ہو کر کسی چیز سے ٹکرا جاتا ہے۔تین چار افراد ایک موٹر سائیکل پر جا رہے ہوتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ بعض اوقات 2سے زائد افراد موٹر سائیکل پر سوار فاسٹ لائن پر جا رہے ہوتے ہیں،جبکہ ان ہائی ویز پر ٹریفک پولیس زیادہ تر ٹرکوں کو چیک کر رہی ہوتی ہے۔اس کے علاوہ چائنہ کی موٹر سائیکل اس قدر زیادہ ہوگئی ہیں کہ ایک اندازے کے مطابق ملک میں اس وقت نئی وپرانی موٹرسائیکلوں کی تعداد 7کروڑ ہوچکی ہے۔اور پھر ہم واحد قوم ہیں جنہیں موٹرسائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ پہننے کا گربھی سکھایا جاتا ہے۔ ہیلمٹ پہننے کی ایک مہم گاہے چلتی ہے جسے نافذ کروایا جاتا ہے لیکن یہ مہم یک دم اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔لیکن اس بار اللہ کا شکر ہے کہ اس مہم کو چھ ماہ ہوگئے ہیں اور سختی سے اس پر عمل درآمد کروایا جارہا ہے۔ یہ مسئلہ لاہور کی ڈاکٹر برادری نے بھی اٹھایا تھا کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں ہر دوسرا کیس موٹر سائیکل حادثے میں سر کی چوٹ والا آتا تھا۔ مریض نہ بچنے کی صورت میں لواحقین ہسپتالوں میں ہنگامہ کرتے اور ڈاکٹروں سے جھگڑتے لیکن لواحقین اس بات کی ذمہ داری لینے کو تیار نہ ہوتے کہ اگر ہیلمٹ پہنا ہوتا تو چوٹ اتنی سنگین نہ ہوتی۔ ہیلمٹ کی پابندی کے بعد کچھ لوگوں نے اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور ایک ایک کمرے کے ”کارخانوں“ میں بھی ہیلمٹ تیار ہونے لگے‘ ایک پتلے گتے کو گول ہیلمٹ کی شکل دے کر، رنگ کر کے اور شیشہ لگا کر بیچا جانے لگا۔ یہ ہیلمٹ نہ پہننے سے بھی زیادہ نقصان دہ تھا کیونکہ زمین پر لگتے ہی ہیلمٹ کے یہی ٹکڑے سروں میں پیوست ہونے لگے۔ ایسے کئی کیسز ہسپتالوں میں آئے ہیں لیکن اس طرف کسی نے توجہ نہیں دی؛ چنانچہ غیر معیاری ہیلمٹ بھی اتنا ہی نقصان دہ ہیں جتنا کہ ہیلمٹ نہ پہننا۔

اس کے ساتھ اگر ٹریفک قوانین کے حوالے سے بات کی جائے تو یہاں بہت سے ایسے عوامل ہیں جو ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔یعنی قوانین موجود ہیں مگر اُن پر عمل درآمد نہیں ہے۔چھوٹی عمر کے بچے گاڑیاں چلاتے ہیں مگر انہیں نہیں پوچھا جاتا۔ اگر کہیں اہلکار انہیں روک بھی لیتے ہیں تو فوراََ سے پہلے انہیں فون آجاتا ہے۔ اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ یہ اس میں والدین بھی برابر کے قصور وار ہیں تو کیا یورپ یا مغربی ممالک میں والدین بچوں کو قانون کی خلاف ورزی کرنے سے والدین روکتے ہیں؟ قطعاََ نہیں! بلکہ وہاں تو قوانین اس قدر سخت ہیں کہ آپ جرا¿ت نہیں کر سکتے ایسے اقدام کی جو قانون سے بالا تر ہو۔یہاں کسی نے سیٹ بیلٹ باندھی ہے، کسی نے نہیں باندھی ہوئی۔سب چل رہا ہے۔اگر کسی ٹریفک پولیس اہلکار نے آپ نے گاڑی روکی ہے اور آپ سے پوچھا گیا ہے کہ گاڑی کا لائسنس دکھائیں، آپ کے پاس لائسنس نہیں ہے، تو آپ کی گاڑی کو بند بھی نہیں کیا جائے گا۔ محض 500 سو روپے جرمانہ کر دیا جائے گا۔یعنی آپ نے محض 500روپے میں اسے گھر جانے دیا تاکہ وہ راستے میں درجنوں معصوم جانوں کی زندگی سے کھلواڑ کر سکے۔ 

 

آپ دور نہیں جائیں محض دبئی کی مثال لے لیں وہاں بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے والے پر باقاعدہ مقدمہ دائر کیا جاتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ شخص شہر میں ”بم“ لیے پھر رہا تھا۔آپ موٹروے کی مثال لے لیں، وہاں پر دیکھا یہ گیا ہے کہ صاحب حیثیت لوگ قوانین کی زیادہ دھجیاں اُڑاتے نظر آتے ہیں۔کیوں کہ انہیں علم ہے کہ جرمانے بہت کم ہیں اس لیے اوور سپیڈنگ بھی وہی لوگ کرتے ہیں جن کی گاڑیاں 16سو سی سی سے اوپر ہوتی ہیں۔اُن کے لیے 700روپے جرمانہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ لہٰذاہیوی گاڑیوں پر اوور سپیڈنگ کا جرمانہ خوفناک حد تک زیادہ ہونا چاہیے۔ اُن گاڑی بند کی جانی چاہیے۔ ٹریفک قوانین کے حوالے سے سفارش کلچر کو ختم کیا جانا چاہیے۔ایک ٹریفک چالان کے بعد لائسنس کو پنچ کر دیا جائے تاکہ ریکارڈ رہے کہ خلاف ورزی کرنے والے پر پہلے کتنی دفعہ چالان ہو چکا ہے۔ بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے والے کے خلاف قانون سازی کی جائے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے سے ”مذاکرات“کا تصور ہی ختم کیا جائے تاکہ ہم ایک سلجھا ہوا معاشرہ تصور کیے جائیں۔ اگر ان تمام چیزوں پر عمل درآمد ہوجائے تو ہم بہت سے مصیبتوں سے بچ سکتے ہیں۔ ٹریفک حادثات کی ایک بہت بڑی مصیبت سے چھٹکارہ حاصل کرسکتے ہیں جس سے ہمارے پیارے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں اور ہم بھی.... میں ایک بار پھر کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ قمر زمان کائرہ کو صبر جمیل عطاءفرمائے اور کسی کو اُسکی اولاد کا دکھ نہ دے(آمین)