کب تک سیاسی ورکرز استعمال ہوتے رہیں گے؟


1678دنیا کی تاریخ کا وہ سال تھا جب برطانیہ میں پہلی سیاسی جماعتThe Whigsکی بنیاد رکھی گئی۔ The Whigsپارٹی کی بنیاد اس بات پر رکھی گئی کہ عوام جسے منتخب کریں گے وہی حکمرانی کا حقدار ہوگا۔ اس جماعت کا پہلا لیڈر رابرٹ وال پول بنا۔ جو لوگ انسانیت کا درد رکھتے تھے، ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے اور عوامی فلاح کے لیے کام کرنا چاہتے تھے وہ سبھی اس پارٹی میں شامل ہوگئے۔

یہ ”آئیڈیا“ عوام کو اس قدر پسند آیا کہ چارلس اول جو اس وقت برطانیہ میں اقتدار میں تھا اس نے تخت چھوڑ کر ”عوامی “ سیاسی جماعت کے حوالے کر دیا۔ دنیا میں برطانیہ کی مثالیں دی جانے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی ملکوں میں سیاسی جماعتیں بنیں اور عوامی حکومتیں قائم ہوگئیں۔ عوام نے ترقی کی ، ہر چیز کے مالک عوام بنے ، شروع میں تو سیاسی جماعتیں دو دو سال کے لیے حکومت میں آتیں مگر جونہی الیکشن کے مراحل پیچیدہ ہوتے گئے اور آبادی بڑھتی گئی تو ہر ملک نے ا±سے اپنے مطابق تبدیل کردیا۔

The whigs پارٹی 1850میں ختم ہوگئی، کیوں ختم ہوئی ؟ یہ لمبی کہانی ہے ، مختصر یہ کہ اس پارٹی میں آخری دو دہائیوں میں پرانے کارکنوں کا استحصال کیا جانے لگا، نئے آنے والے غیر تجربہ کار اور سفارشی لوگوں کو ترجیح دی جانے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے پارٹی کا وجود ختم ہوگیا۔ اس پارٹی کے آخری لیڈر Milosکے الفاظ آج بھی سیاست کی کتابوں میں پڑھائے جاتے ہیں کہ ”کسی پارٹی کے سیاسی ورکرز ہمیشہ ا±س پارٹی کا سرمایہ ہوتے ہیں، جنھیں اگر کھو دیا جائے تو پارٹی کو آسمان سے زمین پر گرتے دیر نہیں لگتی“۔

آج اگر ان الفاظ کو پاکستان کی سیاست کے ساتھ جوڑیں تو یقینا ہمیں ہر طرف مفاد پرستوں کے ٹولے نظر آئیں گے، اور اگر کسی سیاسی جماعت میں حقیقی کارکنوں کو دیکھیں گے بھی تو ا±ن کے آگے بھی کچھ باو¿نڈریز ہوں گی تاکہ وہ حدود میں رہ رہیں۔ تاکہ آپ کہیں پارٹی لیڈروں سے آگے نہ نکل جائیں! جب کہ پارٹی لیڈر کارکنوں کو جہاں چاہتے استعمال کرتے اور بوقت ضرورت ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ دنوں مسلم لیگ ن کے سرکردہ ایم پی اے ملک محمد احمد خان نے ماڈل ٹاو¿ن لاہور میں مسلم لیگ ن کے میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس کرکے چیئرمین نیب کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔

ان کی پریس کانفرنس ختم ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد مریم اورنگزیب کی طرف سے یہ بیان آگیا کہ ملک صاحب نے مذکورہ پریس کانفرنس میں ”ذاتی خیالات“ بیان کیے ہیں، اس کے فوری بعد شہباز شریف کی جانب سے بھی اس بات کی تردیدہوگئی(حالانکہ مذکورہ پریس کانفرنس ا±ن کے گھرمیں ہوئی)۔

بحیثیت جماعت پاکستان مسلم لیگ ن ان خیالات کی تائید نہیں کرتی۔اب اگر ملک احمد خان کی بات کی جائے تو جواں سال ملک صاحب فطرتاََ دھیمے مزاج کے سیاستدان ہیں۔ ان کے والد سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین ہوا کرتے تھے۔ وہ ن لیگ کی ایک عرصے سے ترجمانی کر رہے ہیںلہٰذاایسے شخص کی ”تردید “چہ معنی دارد۔ یعنی سادہ الفاظ میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک احمد خان کو بھی استعمال کیا گیا کہ ایک طرف سے پارٹی کی جانب سے نیب پر دباو¿ ڈالا جائے جب کہ دوسری جانب ا±سکی تردید کردی جائے تاکہ بات بھی ہوجائے اور انکار بھی کردیا جائے۔

میں بذات خود سیاست کا ایک طالب علم ہوں اور جانتا ہوں کہ سیاست ایک ”سائنس“ کانام ہے لیکن اس سائنس میں ایسے لوگوں کی بلی چڑھانا جن کا دامن صاف ہوسیاست نہیں بلکہ زیادتی ہے۔ میں ملک محمد احمد خان کو بچپن سے جانتا ہوں، ا±ن کا تعلق بھی میرے گاو¿ں کھڈیاں ہی سے ہے۔ میں ا±ن کے خاندان کو جانتا ہوں وہ پکے مسلم لیگی ہیں، وہ جس انداز میں مسلم لیگ ن کی ترجمانی کرتا ہے ا±س پائے کی مدلل گفتگو شاید ہی مسلم لیگ ن میں کوئی عہدیدار کرتا ہو۔وہ ہر مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑا رہا، وہ فارن کوالیفائیڈ ہے(یہاں حالات تو یہ ہیں کہ ہمارے سیاستدان اسپتال ہی نہیں کوئی ایسا تعلیمی ادارہ بھی نہیں بنا سکے جس میں وہ کم از کم اپنے بچے داخل کرا سکتے ہوں جو بیرون ملک پڑھنے کے بجائے اپنے ملک کو ترجیح دیںتاکہ ہمارا قیمتی زرمبادلہ ضایع نہ ہو)،وہ ہر چیز کو سمجھتا اور پرکھتا ہے۔

لہٰذاایک باصلاحیت شخص کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ مجھے اس کی ذاتی طور پر تکلیف ہوئی ہے۔میرے خیال میں اس پریس کانفرنس کے بعد ملک احمد کا کرئیر ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور پھر اہم بات یہ ہے کہ ملک احمد خان جیسے دیگر پارٹی ورکروں کو حالیہ پارٹی عہدوں کی بندر بانٹ میں بھی کوئی حصہ نہیں دیا گیا۔ جب کہ ا±ن کی جگہ کئی چہروںکو پارٹی میں ناصرف عہدے ملے ہیں بلکہ ا±ن مشاورتی کونسل میں بھی جگہ مل چکی ہے جن میں فرحان ظفر جھگڑا(اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل)، اویس لغاری(جنرل سیکریٹری پنجاب)، مفتاح اسماعیل(جنرل سیکریٹری سندھ)، عباس آفریدی، طلال چوہدری، سلمان علی خان، علی پرویز ملک، بلال اظہر کیانی وغیرہ نمایاں ہیں۔

میری ملک احمد خان سے کئی دفعہ گپ شپ ہوئی اور میں نے انھیں بارہا سمجھانے کی بھی کوشش کی کہ وہ ن لیگ چھوڑ دیں، اور کسی دوسری پارٹی میں چلیں جائیں کیوں کہ یہ وہ جماعت نہیں ہے جس کی تاریخ کو ئی” مثالی“ ہو۔ یہ شخصیات کی پارٹی ہے جہاں میرٹ نہیں ہے ، یہاں ایک مخصوص خاندان ہے جو ”گیم آف تھرون“ کا حصہ بن چکا ہے۔بلکہ یہ وہ قائد اعظم والی مسلم لیگ بھی نہیں ہے جو ایک نظریے پر قائم ہو، ا±س مسلم لیگ کا اعلیٰ مرتبہ یہ تھا کہ ایک موقع پر وائسرائے اور کانگریس کے لیڈروں نے قائداعظم کو پیش کش کی کہ وہ اگر پاکستان کا مطالبہ ترک کردیں تو ان کو متحدہ ہندوستان کا پہلا وزیراعظم بنادیا جائیگا۔ قائداعظم اگر مفاداتی سیاستدان ہوتے تو وہ فوری طور پر یہ بڑا منصب قبول کرلیتے مگر وہ نظریاتی سیاستدان تھے۔

انھوں نے جواب دیا ”میں اپنی قوم کو فروخت نہیں کرسکتا“۔ نظریاتی لیڈر ریاست یا اپنے کارکنوں سے ذاتی فائدے ا±ٹھانے کے بجائے ریاست کے لیے قربانیاں دیتا ہے۔جب کہ اس کے برعکس یہاں پرانے کارکنوں کی حق تلفی کی جاتی ہے اورتاریخ گواہ ہے کہ انھی وجوہات کی وجہ سے آج تک ن لیگ سے سیکڑوں نہیں ہزاروں کارکنان اور لیڈر الگ ہوئے ہیں جن میں مخدوم الطاف ،میاں منظور وٹو، طالب نذیر ، چوہدری برادران (جو ان کے لیے قیدو بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے رہے)، سردار آصف احمدعلی، خورشید محمود قصوری، میاں زاہد سرفراز، سردار ذوالفقار محمد کھوسہ، دوست محمد کھوسہ، فخر امام، بیگم سیدہ عابدہ حسین، چو ہدری عبدالغفور ، سید اصغر شاہ ، میاں اظہر، عمرایوب، کامل علی آغا، شاہ محمود قریشی ، غلا م رسول ساہی سمیت متعدد اراکین نمایاں ہیں۔ لیکن ان تمام دلائل کے باوجود ملک احمد خان ن لیگ کے ساتھ جڑے رہے اور ابھی بھی جڑے ہوئے ہیں۔وہ اکثر کہتے ہیں کہ

 

پیوستہ رہ شجر سے ا±مید بہار رکھ

 

میں ا±ن کی اس ”دلیل“ پر خاموش ہو جاتا ہوں کہ شاید میں غلط ہوںلیکن یہ ضرور سوچتا ہوں کہ ہماری سیاسی جماعتیں کب تک ورکرز کا استحصال کرتی رہیں گے؟اب جب شہباز شریف لندن سے تشریف لا چکے ہیں تو معذرت کے ساتھ وہ اپنے ورکرز کے لیے نہیں بلکہ مریم نواز کا راستہ روکنے کے لیے آئے ہیں۔ کیوں کہ انھیں خدشہ ہے کہ کہیں پارٹی ٹیک اوور نہ کر لی جائے۔بہرکیف تاریخ گواہ ہے کہ خاندانی سیاسی جماعتوں نے کارکنوں کو کچھ نہیں دیا، یہ ن لیگ کا ہی نہیں بلکہ پاکستان میں دیگر جماعتوں کا بھی یہی وطیرہ رہا ہے۔جب لیڈران پر مصیبت آتی ہے تو کارکن یاد آتے ہیں، اور جب پارٹیاں اقتدار میں آتی ہیں تو مخلص کارکن پیچھے دھکیل دیے جاتے ہیں ، پیپلز پارٹی انھی وجوہات کی بنا پر تین صوبوں سے ختم ہو کر ایک صوبے تک محدود ہو گئی ہے، اے این پی آج تک کے پی کے سے باہر نہیں نکل سکی۔لہٰذادعا ہے کہ ملک احمد خان جیسے مخلص اور ذہین ورکرز اور پرجوش جواں سال کارکن جو ملک کا اثاثہ ہیں کی اہمیت کو سیاسی پارٹیاں سمجھیں اور انھیں ضایع کرنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ ا±ٹھائیں تاکہ ملک صحیح سمت چل سکے۔