!اور بجٹ پاس ہوگیا


بحیثیت ایک عام آدمی پہلے مجھے ہمیشہ جون کے مہینے کا انتظار رہتا تھاکہ اس مہینے میں بجٹ آئے گا، ریلیف ملے گا، حکومت نت نئے پیکیجز متعارف کروائے گی یا روزمرہ کی اشیاء میں سبسڈی دے گی تاکہ ایک عام آدمی بھی ’خاص‘ بن جائے اور اپنے بچوں کو اچھا مستقبل دے سکے۔ لیکن اب کھٹکا سا لگ گیا ہے، دل چاہتا ہے کہ بجٹ آئے ہی نا۔اور اگر بجٹ آگیا تو سب سے زیادہ ’’عام آدمی‘‘خود متاثر ہوگا۔

 

ٹیکس لگے گا تو عام آدمی پر، سبسڈی ختم ہوگی تو عام آدمی کی، ریلیف ختم ہوگا تو عام آدمی کا، تنخواہ کٹوتی ہوگی تو عام آدمی کی، قرضوں کا بوجھ تقسیم ہوگا تو عام آدمی پراور تو اور کوئی نیا’’ایڈوانس‘‘ ٹیکس لگے گا تو وہ بھی عام آدمی پر۔خواص کے لیے تو جیسے اس ملک میں عام معافی کا اعلان کیا گیا ہے، ان سے صرف منت سماجت کی جارہی ہے کہ خدارا سچے جھوٹے ٹیکس گوشوارے جمع کروا دیںتاکہ اُن کی بلیک منی وائٹ ہو جائے! ان حالات تک ملک کیسے پہنچا ، اب یہ بات سب جان چکے ہیں، کس طرح لوٹ مار کی گئی لہٰذااس پر لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں۔ لیکن اب عام پاکستانی ریلیف مانگ رہا ہے۔ وہ ’’تبدیلی‘‘ سے اچھے کی اُمید لگائے بیٹھا ہے۔

خیر بجٹ( budget)فرانسیسی زبان کا لفظ ہے، اس لفظ کا ماخذ فرانسیسی لفظ(bougette)ہے، جو بٹوے یا پرس کو کہتے تھے، یہ اصل میں اخراجات اور آمدنی کا تخمینہ ہوتا ہے۔ حکومتیںبجٹ سالانہ بنیادوں پر بناتی ہیں، آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے نئے ٹیکس لگائے جاتے ہیں اور اخراجات اور آمدنی کا گوشوارہ یا بجٹ پارلیمنٹ سے منظور کیا جاتا ہے۔ اس دفعہ بھی جون میں بجٹ پیش کیا گیا، نسبتاًسخت اور تاریخ کا مشکل ترین بجٹ ہونے کی وجہ سے عوام کی چیخیں ضرور نکلی ہیں مگر بقول حکومت کے کہ اچھے دنوں کے لیے تھوڑی بہت قربانی ضرور دینا پڑتی ہے۔

 

 

بجٹ اسمبلی میں پیش ہونے سے لے کر منظور ہونے تک سب سے زیادہ فعال کردار اپوزیشن کا ہوتا ہے لیکن بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور ارکان نے سارا زور ’’سلیکٹ‘‘ کی گردان پر رکھا، جس پر عمران خان نے سبھی کو آمریت کی نرسریوں کی پیداوار اور این آر او زدہ قرار دینے کا جوابی نشتر چلادیا۔ بیچارے عوام امید سے تھے کہ شاید ان پر گرنے والے مہنگائی کے بم کو کوئی روک دے گا لیکن شومئی قسمت ان کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں نہ حکومت نہ اپوزیشن! بجٹ منظوری کے عمل میں آخری وقت تک ایوان میں ڈیوٹی کرنے والی اپوزیشن کے قائدین اگلے دن حیرت زدہ ہو کر پوچھتے رہے، کیا بجٹ پاس ہو گیا؟ جو یقینا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

بجٹ پیش کرنا، منظور کروانا اور اس پر قوم اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا حکومت کا جمہوری حق بھی ہے اور فرض بھی۔ اس پر تو دورائے نہیں مگر حیرت تو اس بات پر ہے کہ حالیہ بجٹ سیشن میں اپوزیشن جماعتوں اور حکومتی وزراء کی غیر سنجیدگی دیکھ کر قوم سکتے میں آگئی۔ اجلاس کے دوران خبر آئی ڈالر 164سے بھی اوپر چلا گیا ہے۔ بجلی کی قیمت بڑھ گئی ہے ۔ شام تک 190فیصد گیس کی قیمت بڑھنے کی خبر بھی آ چکی تھی۔

میرا خیال تھا ابھی حکومتی ارکان میں سے کوئی کھڑا ہو گا اور حکومت کو سنائے گا کہ ہمیں کس طرف لے کر چل پڑے ہیں۔ آج تو یقینا لوگ بول پڑیں گے کہ کافی ہوگئی ہے۔ سب کچھ آئی ایم ایف کے ہاتھ دے دیا گیا ہے۔ وزیراعظم، ان کے وزیر اور پارٹی اس پورے کھیل میں تماشائی سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔ یقین کریں جتنا عوام کو ٹی وی چینلز سے چیزوں کا پتہ چل رہا ہے کہ ڈالر کتنا اوپر گیا ہے، بجلی یا گیس کی کتنی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، اتنا ہی پتہ کابینہ کو ہے۔

 

مجھ سمیت پاکستانیوں کو اس وقت حیرانی ہوئی جب اسمبلی کے اندر سب کچھ نارمل تھا۔ کسی کوکوئی فکر نہیں تھی۔ چلیں مان لیتے ہیں آپ آئی ایم ایف کو سب کچھ دے بیٹھے ہیں لیکن چہرے پر کچھ سنجیدگی تو ہونی چاہیے۔ چاہے آپ کو کتنا ہی مذاق کیوں نہ سوجھ رہا ہو لیکن پھر بھی کسی افسوسناک صورتحال میں لطیفے سنا کر ہاتھ پر ہاتھ مار کر قہقہے نہیں مارے جاتے۔ اگر آپ کو کسی دوسرے کا دکھ محسوس نہیں ہورہا تھا تو بھی افسردہ ہونے کی اداکاری کرنی پڑتی ہے۔ لیکن آپ کو اسمبلی ہال کے اندر حکومتی ارکان میں یہ اداکاری بھی نظر نہیں آئے گی۔ بلکہ آپ کو لگے گا کہ آپ کے دکھوں پر وہ قہقہے لگا رہے ہیں اور مزے لے رہے ہیں۔بقول شاعر

نہ کسی کو فکر منزل نہ کہیں سراغ جادہ

 

یہ عجیب کارواں ہے جو رواں ہے بے ارادہ

آج میڈیا کا دور ہے، تمام چینلز نے بجٹ کارروائی کی 80فیصد تقاریر براہ راست نشر کیں، قوم نے اسمبلی کو مچھلی منڈی میں تبدیل ہوتے دیکھا، کوئی تعمیری گفتگو کرنے کے لیے تیار نہیں تھا،سابق خادم شریف نے 4گھنٹے تقریر فرمائی،جس میں سے انھوں نے ساڑھے تین گھنٹے حکومت کے نقائص اوراپنے دور حکومت کے ’’سنہری واقعات‘‘ سناتے ہوئے گزار دیے۔ ہر شخص بجٹ پر گفتگو کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتا نظر آیا۔ بیشتر مرتبہ 342کے ہاؤس میں سو ڈیڑھ سے زائد ارکان اسمبلی ہال میں موجود نہیںہوتے تھے۔ حکومتی ارکان تو نہ ہونے کے برابر تھے۔

وزیر بھی زیادہ نظر نہیں آرہے تھے۔ اپوزیشن کے بھی وہی ارکان موجود ہوتے جنھوں نے بجٹ پر بات کرنی ہوتی تھی۔ جب اپوزیشن اراکین تقریر فرمارہے ہوتے تھے تو اس وقت حکومتی بینچوں پر زیادہ تر ارکان نے اپنا اپنا دربار لگایا ہوا تھا۔ ہر طرف قہقہوں کی گونج قوم تک پہنچ رہی تھی۔ سب سے بڑا دربار اسمبلی کے اندر عامر کیانی نے لگایا ہوا تھا۔حالانکہ اُن کے پاس وزارت بھی نہیں لیکن پھر بھی وہ ’’ہر دلعزیز‘‘ شخصیت بنے ہوئے نظر آئے۔ اتنا رش تو وزیراعظم عمران خان کی کرسی کے گرد نظر نہیں آیا جتنا ایک اہم رکن پارلیمنٹ کے گرد پی ٹی آئی کے لوگوں کا نظر آیا ۔کچھ اراکین اسمبلی تو پارلیمنٹ میں سیر سپاٹے کر رہے تھے، کچھ کو واک شاک یاد آگئی تھی۔کچھ اراکین جپھیاں ڈالتے اور ایک دوسرے کے گال تھپتھپاتے نظر آئے، جب کہ کچھ خواتین اراکین تو ایسی بھی نظر آئیں جو ایک دوسرے سے دس دس فٹ کے فاصلے سے بات چیت کر رہی تھیں۔ یعنی اتنے زیادہ فاصلے سے گفتگو کا مطلب چیخ چیخ کر بات کرنا ہوتا ہے۔

حد تو یہ تھی کہ پارلیمنٹ میں نوجوان اراکین جو موروثیت کی علامات ہیں انھیں بھی خوب پذیرائی ملتی ہوئی نظر آئی، یعنی شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین نورانی جو ابھی ابھی لندن سے عمران خان کے بچوں ساتھ کرکٹ میچ دیکھ کر لوٹے تھے اپنی سیٹ پر پہنچے تو وہاں بھی ایک محفل لگ گئی۔ اس محفل کو عزت بخشنے کے لیے ایک اور صاحب بھی زحمت کر کے اپنی سیٹ سے اٹھ کر گئے اور انھوں نے بھی اپنی گپ شپ شروع کردی۔ اتنی دیر میں اپوزیشن اور حکومتی بینچوں کے درمیان جو خالی جگہ ہے وہاں دو تین وزیر اکٹھے ہوگئے اور انھوں نے اپنی محفل سجا لی۔ یوں ہر طرف حکومتی بینچوں پر محفلیں سجی ہوئی تھیں اور ایک مرحلے پر جب ایک حکومتی رکن بجٹ پر بات کررہے تھے تو سب سے زیادہ شور حکومتی بینچوں سے ہی آرہا تھا۔

قوم انھیں دیکھ کر دم بخود تھی کہ یہ وہی اراکین ہیں جو 22کروڑ عوام کی نمایندگی کر رہے ہیں، کیا یہ وہی اراکین ہیں جو عمران خان کی ٹیم کا حصہ ہیں، کیا یہ وہی اراکین ہیں جن سے قوم تبدیلی کی اُمید لگائے بیٹھی ہے۔ وزیر اعظم کو یقینا اس بارے میں بخوبی علم ہوگا کہ اسمبلی میں کیا ہوتا رہا لیکن انھوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا شاید اُن کے ذہن میں یہ چل رہا ہوگا کہ جیسی اپوزیشن ہے اُن کے لیے ایسے حکومتی اراکین ہی کی ضرورت ہے۔ لیکن شاید عمران خان کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ اس عوام کے آئیڈیل ہیں، اُن کی ٹیم اُن سے اُمید لگائے بیٹھی ہے۔ لہٰذاوزراء بجائے ہلڑ اور الزام تراشی کے قوم کے اعتماد کو بحال کریں کیوں کہ معذرت کے ساتھ موجودہ حالات میں جب مشکل ترین بجٹ پیش کیا گیا تو قطعاََ کوئی رکن اسمبلی ایسا دکھائی نہیں دیا جو پشیمان ہو ۔ عوام کو پریشانی میں دیکھ کر کوئی رکن اسمبلی بھی سنجیدہ نہ ہوا، کسی حکومتی رکن اسمبلی (سوائے اسد عمر کے) نے یہ بات قبول ہی نہیں کی کہ یہ بجٹ عوام کی چیخیں نکال دے گا، لیکن آخری وقت میں سب کچھ صاف ہوگیا اور نہ جانے کیسے بجٹ پاس ہوگیا!!