!سینیٹ : ہنگامہ ہے کیوں برپا


’’سیاست میں سب چلتا ہے‘‘ ’’یہاں غیراخلاقی حرکات، لوٹ مار اور گھوڑوں کی خریدوفروخت ہوتی رہتی ہے، لہٰذا ہمیں تنقید نہیں کرنی چاہیے‘‘’’ایسی غیراخلاقی سیاست کی حمایت ضروری ہے کیونکہ یہ مکافاتِ عمل ہے‘‘۔’’ویسے بھی اس گندی سیاست کا شکار نواز شریف اور زرداری کی پارٹیاں ہیں، جو ماضی میں خودانھی حرکات کی وجہ سے اقتدار میں آئیں۔‘‘یہ وہ ڈائیلاگ اور بحث بازی ہے جو آج زبان زدعام ہے۔

 

ہو بھی کیوں نہ، سابقہ حکمران جماعتیں جو حربے دوسروں کے لیے استعمال کرتی آئی ہیں آج انھی کے خلاف استعمال ہوگئے ہیں یعنی اپوزیشن جماعتوں کو سینیٹ میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

آج سینیٹ الیکشن کو ہوئے ایک ہفتہ ہونے کو ہے مگر بحث ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔حالانکہ بات سادہ سی ہے کہ ’’خفیہ رائے شماری‘‘ کو قانون میں رکھا ہی اس لیے گیا تھا تاکہ ووٹر ’’ضمیر ‘‘کی آواز پر ووٹ دے، تبھی تو جنرل الیکشن ہوں، بلدیاتی الیکشن ہوں، صدارتی ریفرنڈم ہویا کوئی پارلیمانی الیکشن اُسے ہمیشہ خفیہ ہی رکھا جاتا ہے اور ہر ووٹر کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے ۔اس سے جانب داری، رشوت خوری اور بغض و عناد کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔

 

 

اگر ہم تاریخ میں ووٹنگ سسٹم کی نشاندہی کریں تو خفیہ ووٹنگ کی اصطلاح آج کی نہیں بلکہ اسے سب سے پہلے رومیوں نے استعمال کی تھی  اور جدید دنیا میں اس طریقہ کار کی ایجاد انگریزوں نے 1870میں کی، جب لندن اسکول بورڈ کا انتخاب عمل میں آیا۔ اب تمام مہذب ممالک میں پارلیمان کے انتخاب ہوں یا جنرل انتخابات ووٹنگ اسی طریقہ کار سے ہوتی ہے۔ ہر ووٹر کو ایک پرچی دی جاتی ہے جس میں زیر عمل انتخاب کے تمام امیدواروں کے نام ہوتے ہیں۔

انتخاب کنندہ اپنی پسند کے امیدوار کے نام کے سامنے نشان لگا کر پرچی مقفل بکس کے اندر ڈال دیتا ہے۔ وقت مقررہ کے بعد صندوق کھول کر پرچیاں شمار کر لی جاتی ہیں۔ یہ کام ایک ذمے دار افسر کے سامنے ہوتا ہے۔ اس طرح جس کے حق میں پرچیوں کی تعداد زیادہ ہو، وہ کامیاب تصور ہوتا ہے۔ (اس طریقے میں پرچی ڈالنے والے کا نام ظاہر نہیں ہوتا)

لہٰذاموجودہ سینیٹ چیئرمین کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پر سینیٹ میں ووٹنگ بھی اسی طریقہ کار کی بنیاد پر کی گئی۔ لیکن اختلاف اُس وقت پیدا ہوا جب ایوان بالا میں قرارداد کے حق میں سینیٹرز کو کھڑے ہونے کے لیے کہا گیا تو اُن کی تعداد 64تھی ، لیکن جب ووٹنگ ہوئی تو یہ تعداد 64سے گھٹ کر 50رہ گئی، مطلب ہرسینیٹر نے اپنے ’’ضمیر‘‘ کے مطابق ووٹ ڈالا اور جس کو جو بہتر لگا اُس نے وہ کیا۔اب اگر 14ارکان کے ضمیر جاگے ہیں یا انھوں نے پارٹی کے خلاف ووٹ ڈالا ہے تو ہنگامہ ہے کیوں برپا…! اب یا تو خفیہ رائے شماری ختم کر دیںیا اُس کا احترام کریں۔ اور ویسے بھی یہ قانون ترمیم شدہ نہیں بلکہ 1973کے آئین میں اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔

جس کے مطابق ’تحریک‘ پر نوٹس کے سات ورکنگ دنوں کے اندر اجلاس بلوایا جاتا ہے، الیکشن کمیشن کی سربراہی میں سینیٹ کے اندر خفیہ ووٹنگ ہوتی ہے،سینیٹ چیئرمین اُس وقت تک اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتا جب تک حتمی نتیجہ نہ آجائے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہر تین سال بعد جب بھی سینیٹ انتخابات کی باری آتی ہے اور پھر اس کے بعد چیئرمین کے الیکشن کی تو ہارس ٹریڈنگ کی آوازیں بھی بلند ہونے لگتی ہیں۔ ہر دفعہ خفیہ رائے شماری کے قانون میں تبدیلی کی باتیں بھی کی جاتی ہیں مگر جیسے جیسے وقت گزرتا ہے گرد بیٹھ جاتی ہے۔

حالیہ سینیٹ چیئرمین انتخاب پر بھی یہی سوال سب سے پہلے اُٹھایا گیا تھا کہ حکومت نے ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے ووٹ خریدے ہیں لیکن میرے نزدیک بات اگر ووٹ خریدنے کی ہے تو نواز،شہباز اور زرداری سے زیادہ کون امیر ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ سب لوگ اپوزیشن کے خلاف فیصلہ کیوں کر رہے ہیں؟ یہ سب لوگ تو انھی کے لگائے ہوئے ہیں، چیف الیکشن کمیشن بھی انھی کا لگایا ہوا، چیئرمین نیب بھی انھی کا ہے، سینیٹ بھی انھی کا ہے تو کہیں نہ کہیں خرابی ضرورہے جس کی وجہ سے آج یہ لوگ زیر عتاب ہیں۔ لہٰذااپوزیشن کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے سینیٹرز کی رائے کا کس قدر احترام کرتی ہے۔

ن لیگ ہی کو دیکھ لیںن لیگ والوں کے پاس 30 ممبر ہیں،  ان میں سے 13 ممبر پہلے سے ہیں جب کہ 17 ممبر پچھلے سال چنے گئے تھے جب یہ ممبر چنے تھے اسوقت نواز شریف نااہل ہو چکے تھے۔ ان کی نااہلی کی وجہ سے ان کا انتخابی نشان شیر بھی معطل ہو چکا تھا جس کی وجہ سے ان 17 لوگوں نے آزاد حیثیت سے حصہ لیا۔ یہ لوگ آزاد تھے، اس وجہ سے ن لیگ نے ان لوگوں کو خاص اہمیت نہ دی۔ یہ بات ان لوگوں کے دل میں تھی جس کا اظہار ان لوگوں نے اس موقع پر کیا۔

لہٰذا وجہ کوئی بھی ہو، مگر اپوزیشن کے لیے زیادہ تکلیف اس کا سبب بننے والی بات یہ ہے کہ انھوں نے تحریک کی کامیابی کے حوالے سے ضرورت سے زیادہ اُمیدیں وابستہ کر لیں تھیں۔ تبھی تو ہر جگہ ہنگامہ سا برپا ہے … دوسرے لفظوں میں جیسے کبھی یہ نعرہ لگتا تھا ’’ایک زرداری سب پر بھاری‘‘ اب عمران خان سب پر بھاری ہیں۔

الغرض حقیقت میں کوئی یہ بھی نہیں سوچ رہا کہ ایوان بالا کے اس مقدس ایوان کو جس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا وہ آج تک پورا ہونے سے قاصر ہے۔ اس ایوان میں پروفیشنلز کو ملکی خدمت میں حصہ ڈالنے کے لیے بنایا گیا تھا، اس لیے بھی بنایا گیا تھا کہ ایسے افراد پر مشتمل ’’تھنک ٹینک‘‘ بنائے جائیں جو ملک و قوم کے لیے بڑے بڑے فیصلے کریں لیکن ان  یہاں پیسے کو فروغ دیا گیا ۔ سفارشی ، وراثتی اور وڈیرہ کلچر کو Promoteکرکے سسٹم کا ستیاناس کر دیا۔ چلیں یہ مان بھی لیا جائے کہ سینیٹرز کا سیاست سے دور کا کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن جن کاموں کے لیے انھیں سینیٹرز بنایا جاتا ہے اس حوالے سے ان کی کارکردگی کیا ہوتی ہے؟

سینیٹ کے 50فیصد سے زائد اراکین محض رشتے داریوں کی بنیاد پر سینیٹرز بنائے جاتے ہیں اور جو باقی سیٹیں بچتی ہیں اُن پر بولی لگتی ہے جو سب سے زیادہ پیسہ دیتا ہے وہی سینیٹر بن کر اہم ترین کمیٹیوں کا حصہ بن جاتا ہے لہٰذااب اگر کوئی شخص پیسہ دے کر سینیٹر بنا ہے تو پھر ’’ضمیر‘‘ نام کی چیز کہاں رہ جاتی ہے؟ چند سینیٹرز ایسے ہیں جنھوں نیکسی کمیٹی میں کوئی اہم کام سرانجام نہیں دیا ۔

ان سینیٹرز کے حوالے سے مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا کہ ایک بندہ صحرا سے گزرا تو کسی کے کندھوں پر دو گدھ دیکھے جو گوشت نوچ رہے تھے۔ وہ بھاگ کر گیا اور گِدھوں کو اڑا دیا۔ وہ بندہ چیخ پڑا، ظالم یہ کیا کیا۔ یہ گدھ تو صبح سے گوشت نوچ رہے تھے۔ اب ان کا پیٹ بھر گیا تھا، یہ اب کندھوں پر بیٹھے قیلولہ کررہے تھے، تم نے انھیں اُڑا دیا۔ اب ان کی جگہ نئے آئیں گے جو خالی پیٹ ہوں گے! لہٰذاان سینیٹرز کی جگہ بھی وہی ایک لڑی آئے گی جو خالی پیٹ ہوگی، اپنا پیٹ بھرے گی اور چلتی بنے گی! بقول شاعر

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟

بہرکیف ’’ایوان بالا‘‘ ایک مقدس ایوان ہے ، اس میں پیسے کا استعمال یقینا ملک سے غداری کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے حکومت اور ہنگامہ برپاکرنے والی اپوزیشن کو یہ سوچنا ہوگا کہ ایسا لائحہ عمل بنایا جائے جس سے کم از کم ملک کی خدمت کرنے والے لوگ آگے آسکیں، پیسے کا استعمال ترک کردیں، اگر خفیہ رائے شماری کو ختم کرنا ہے تو بلاشک و شبہ ایوان کی حد تک باہمی مشاورت سے ختم کردیں، عوام کو یقینا کوئی اعتراض نہیں ہوگا مگر جوبھی کریں وہ ملکی مفاد اور پاکستان کے مستقبل کے لیے کریں۔

 

اس ملک کے نوجوانوں کو سامنے رکھ کرمفید فیصلے کریں کیوں کہ جب ہمارے بچے ہم سے پوچھتے ہیں کہ کیا پاکستان کے سب سے بڑے ایوان میں بھی رشوت چلتی ہے اور نااہل لوگ بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہوجاتے ہیں؟ تو یقینا ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں اور ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا!