!سویلین شہداء : موجودہ حکومت ناکام


کہتے ہیں انتظار کا ایک لمحہ قیامت ہوتا ہے،اُس لمحے کی شدت وہی جان سکتا ہے جو اس کرب سے گزر رہا ہو۔یہ کرب جدائی کا کرب ہے، اُن لوگوں کا کرب ہے جو پلک جھپکتے ہم سے جدا ہوگئے۔ لیکن یہ دنیا اسٹیج ہے جہاں ہر فرد نے پرفارم کر کے چلے جانا ہے۔ یقینا کسی کی پرفارمنس اچھی ہوگی اور کسی کی بری ۔مگر انسان کا امتحان یہی ہے کہ وہ اچھے برے حالات میں کیسے Reactکرتا ہے۔ آپ دہشت گردی کا شکار ہونے والے افراد کے خاندان کی مثال لے لیں، یہ خاندان پاکستان کے کونے کونے میں بستے ہیں۔

 

ان لاکھوں خاندانوں میں سے محض پانچ فیصد ہی سنبھل سکے مگر95فیصد خاندان حالات کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہے۔ حیرت ہے کوئی اُن خاندانوں کا درد محسوس نہیں کر رہا جن کے پیارے دہشت گرد ی کی بھینٹ چڑھ گئے، جن کے پیارے حکومتوں کی غفلت کی نذر ہوگئے، جن کے پیارے حکمرانوں کے غلط فیصلوں کا شکار ہوگئے، جن کے پیارے بیچ چوراہے پر مار دیے گئے اور کوئی ذمے داری بھی لینے کو تیار نہیں، جن کے پیارے صبح سویرے بچوں کا ماتھا چوم کر نکلے مگر کئی سال گزرنے کے باوجود واپس نہ آسکے اور جن کے پیاروں کے چلے جانے کے بعد اُن کا خاندان ’’بھیک منگتا ‘‘خاندان کہلایا۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ ’’سویلین شہداء‘‘ہیں ۔

جن کے لیے حق مانگتے مانگتے کم از کم مجھے ایک دہائی گزر گئی ہے۔یعنی ان دس سالوں میں کم و بیش دو درجن سے زائد تحریریں لکھ چکا ہوں، کئی فورمز پر بات کر چکا ہوں کہ کم از کم انھیں ’’اسپیرئیر سیٹیزن‘‘ کا ہی خطاب دے دیا جائے مگر کوئی بھی حکومت یا تنظیم ان کی ذمے داری لینے کو تیار نہیں ہے! لیکن کیا کیا جائے حکومت خواب دیکھنے پر پابندی تو نہیں لگا سکتی !اس لیے یہی خواب آنکھوں میں سجائے میں ہر حکومت کو دیکھتا ہوں کہ شاید کوئی ان کا پرسان حال ہو۔

 

پس میں نے بھی ’’سویلین شہداء‘‘کی بحالی کے لیے ایک خواب دیکھا ہے جس کی آج نہیں تو کل تعبیر ضرور ہوگی مگر مجھے خاص شکوہ موجودہ حکومت سے بھی ہے کہ جس انداز میں ان سویلین شہداء کو سابقہ پیپلزپارٹی کی حکومت اور ن لیگ کی حکومت نے نظرانداز کیا، اُس سے بھی زیادہ بھیانک انداز میں موجودہ حکومت نے نظرانداز کردیا۔ اب تحریک انصاف کی حکومت بنے ایک سال کا عرصہ ہو چکا ہے اس دوران میں نے ہر فورم پر آواز اُٹھائی،میں نے عثمان بزدار صاحب اور وزیر اعظم عمران خان کے سامنے بھی التجاء کی کہ کم از کم ان شہداء کے لیے ایک وزارت ہی قائم کر دی جائے تاکہ کم از کم ان کے حوالے سے ڈیٹا ہی مرتب کیا جاسکے مگر افسوس از حد افسوس کوئی پیش رفت نہ ہوسکی حالانکہ دونوں اعلیٰ شخصیات نے اس حوالے سے یقین دہانی بھی کرائی تھی، قریب بیٹھے اپنے سیکریٹریز کو بھی لکھوایا تھا مگر شاید وہ ’’نوٹ‘‘ کہیں ردی کی ٹوکری کی نذر ہوگیا ہے۔

اس کے بعد بھی گزشتہ سال سے اب تک ایک سال میں مزید 3سے 4ہزار مزید شہید ہو چکے ہیں، لیکن کوئی اس طرف دھیان نہیں دینا چاہتا۔اس لیے شاید مجھے نااُمیدی کا بھی اندیشہ ہے کہ میرے ملک کے باسی یوں ہی شہید ہوتے رہیں گے مگر انھیں کسی سطح پر کوئی یاد کرنے والا بھی نہیں ہوگا، سمجھ سے بالا تر ہے کہ نہ جانے اس حوالے سے یہ کیوں ہچکچا اور شرما رہے ہیں، یہاں تک کہ حکومتی سطح پر ان شہداء کو کوئی اپنانے کے لیے بھی تیار نہیں ہے! حالانکہ قارئین کو یاد ہوگا کہ عمران خان نے امریکا پہنچ کر دبنگ تقریر کی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے ایک لاکھ شہید ہوئے جن میں 90فیصد عام شہری ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ عمران خان یہ بھی بتا دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ موجودہ حکومت سمیت گزشتہ تمام حکومتوں نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا۔

اب گزشتہ ہفتے ہونے والے سانحہ راولپنڈی کو دیکھ لیں جہاں عسکری تربیتی جہاز گھروں کے اوپر آگرا، جس میں لیفٹیننٹ کرنل پائلٹ ثاقب اور لیفٹیننٹ کرنل پائلٹ وسیم ،نائب صوبیدارافضل، حوالدارامین اور حوالدار رحمت شہید ہوئے۔ جب کہ طیارہ گرنے کے نتیجے میں 2 گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے اور اس میں موجود 14 افراد شہید اور12 زخمی بھی ہوئے۔ان افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ان میں 7 خواتین اور 7مرد ہیں جب کہ شہدا میں سے 10افراد کی عمر 18 برس سے کم ہے۔ اب اس واقعہ میں پورا خاندان شہید ہوگیا، چلیں ! امداد نہ سہی آپ اس خاندان کو کسی سطح پر تو Ownکر لیں! میں یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہوں کہ ہمارے معاشرے میں طبقاتی شہید کیوں ہیں؟ ’’عام عوام‘‘سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہورہے ہیں۔

ان کا دن کون منائے گا؟ کیا کسی حکومتی عہدیداران نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان سویلین شہدا کے بچے کہاں ہیں؟ کس حال میں ہیں؟ نہیں ناں! ابھی دو روز قبل ٹی وی پر پیکیج چل رہا تھا کہ جس میں پولیس کے اعلیٰ افسران ایک شہید پولیس اہلکار کے گھر جاتے ہیں جہاں اُن کے خاندان کے افراد چاول کی بوائی کے لیے زمینوں پر گئے ہوتے ہیں، پولیس افسران ’زمینوں‘ پر چلے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ چاول کی کاشت میں ہاتھ بٹاتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

یہ اچھی بات ہے، ایسا ہونا چاہیے مگر کیا کبھی کسی نے سویلین شہداء کے گھر کا بھی کوئی دورہ کیا۔ اب عید کی آمد آمد ہے جس گھر کا سربراہ کسی دہشت گرد واقعہ میں شہید ہوگیا ہوگا تو کیا اُن کے گھر والوں کی عید ہوسکتی ہے؟ مانگے تانگے کے کپڑے پہن کر کون سی عید اور کون سی عید کی خوشیاں! یہاں تو سروں پر اپنوں کے سائے سلامت بھی ہوں تو سلامتی کی کوئی گارنٹی نہیں تو جن کے سروں سے سائے ہی اٹھ جائیں ان کا حال کون دیکھے اور لکھے گا؟ہزاروں سرکاری محافظوں کے حصار میں محفوظ، مذمت تک محدود، زبانی کلامی حد تک عوام کے دکھوں میں شریک حکمران طبقات اس بات کو پرکاہ جتنی وقعت دینے پر بھی تیار نہیں۔دنیا بھر میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں دس بارہ افراد ہلاک ہوجائیں تو وہ ان کی یاد میں صدیوں دن مناتے اور انھیں یاد رکھتے ہیں مگر یہاں ایک ایسا مکینزم بن گیا ہے جس کے ہم سب عادی ہو گئے ہیں، قاتل بھی، مقتول بھی، لاشوں پر رونے والے بھی اور حکومتی عہدے دار بھی۔ شام تک سب بھول چکے ہوتے ہیں۔ بقول شاعر

یہ تمہاری تلخ نمائیاں کوئی اور سہہ کے دکھا تو دے

یہ جو ہم میں تم میں نبھا ہے میرے حوصلے کی بات ہے

 

بہرکیف آج ملک میں وفاق کی سطح پر 3درجن سے زائد وزارتوں کا اعلان کیا جا چکا ہے، اس سے تین گنا زیادہ مشیر رکھے گئے ہیں، ان میں بعض وزراتوں کا تو عوام سے تعلق بھی نہیں ہے، لہٰذا میرے خیال میں سویلین شہدا کی بھی ایک وزارت قائم ہونی چاہیے جو سویلینز شہداء کا ریکارڈ مرتب کرے، ان کے بچوں کی حفاظت کرے، ان کی کفالت کا بندوبست کرے، انھیں معاشرے میں در بدر ٹھوکریں کھانے سے بچائے رکھے