قیام پاکستان کے مخالف حلقے


پاکستان کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں کے باسیوں کو ہمیشہ ملکی مفاد سے زیادہ ذاتی مفاد عزیز رہا ہے، یہ ہمیشہ دور کی نہیں سوچتے بلکہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے یہ لوگ پاکستان کو بھی بیچنے کو تیار رہتے ہیں اس لیے تو جب ایمل کانسی کو خصوصی انتظامات کے تحت پاکستان سے امریکہ لایا گیا تو ریاست ورجینیا کے ایک سرکاری وکیل نے ایمل کانسی کی گرفتاری کی تفصیلات اور تناظر کے حوالے سے یہ ہتک آمیز جملہ کہا کہ پاکستانی پیسے کیلئے اپنی ماں کو بھی بیچ دیتے ہیں ۔ لہٰذاآج بھی وہی لوگ موجودہ حکومت کو بلیک میل کر رہے ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ کبھی یہ لوگ چوک بند کردیتے ہیں، کبھی مارکیٹیں اور کبھی پورا پاکستان بند کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ کشمیر کاز پر گزشتہ کئی سالوں کے لیے مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنائے رکھا جن کی سیاسی جماعت نے ہمیشہ قیام پاکستان کی مخالفت کی اور آج بھی اُن کا طرز سیاست وہی ہے۔ اور المیہ یہ بھی ہے کہ ہمیں صحیح انداز میں تاریخ سے بھی آشنا نہیں کروایا جاتا۔ آج سروے کروالیں 99فیصد پاکستانیوں کو علم ہی نہیں ہوگا کہ پاکستان بننے کی مخالفت کن لوگوں نے کی تھی اور کن لوگوں نے پاکستان کو دل سے تسلیم کیا تھا۔ اور چونکہ ہمارے ہاں ”تاریخ پاکستان“ کے حوالے سے کوئی مستند کتاب نہیں ہے اس لیے ہمیں مختلف فرقوں، جماعتوں یا سیاسی تنظیموں کے قائدین کی کتابوں سے استفادہ کرنا پڑتا ہے جس میں تعصب اور طرفداری (Biasness)نمایاں نظر آتی ہے۔ اس لیے اہم بات تو یہ ہے کہ حکومتی سطح پر ”مطالعہ پاکستان“ کے علاوہ ایسی ”تاریخ قیام پاکستان“ مرتب کرنی چاہیے جس میں خالص حقیقت بیان کی گئی ہو، جس میں قیام پاکستان کے وقت متحرک تمام سیاسی جماعتوں کے کردار پر روشنی ڈالی جانی چاہیے، تاکہ ہمیں اندازہ ہو سکے کہ پاکستان بننے کے مخالفین محض انگریز اور ہندو ہی نہیں تھے بلکہ” مسلمان سیاسی جماعتوں “ کی اکثریت بھی اس کے مخالف تھی۔ 

اس کالم میں بھی میں نے انہی مذہبی و سیاسی جماعتوں کو موضوع بنایا ہے جنہیں شاید یقین تھا کہ پاکستان نہیں بن سکے گا اس لیے وہ ”قیام پاکستان“ کی کھل کر مخالفت کیا کرتی تھیں۔ میرے اس کالم کا مقصد اُن جماعتوں کو آشکار کرنا نہیں ہے بلکہ تاریخ کو زندہ رکھنے کی حقیر سی کوشش کرنا ہے۔ کیوں کہ تاریخ بہت بے رحم ہوتی ہے یہ ان قوموں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو اس سے تمسخر کی مرتکب ہوتی ہیں۔ جو قومیں تاریخ کو مسخ کرتی ہیں تاریخ انہیں مسخ کر دیتی ہے۔ حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ تاریخ چھپانے، جھٹلانے اور مسخ کرنے پر قادر ہیں مگر یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے۔ تاریخ کو نہ چھپایا جا سکتا ہے نہ جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی مسخ کیا جا سکتا ہے۔ جن قوموں یا حکمرانوں نے ایسا کرنے کی جرا¿ت کی وہ آج تاریخ کے صفحات میں خود عبرت کے نشان کی صورت محفوظ ہیں۔لہٰذاہماری آنے والی نسلوں خصوصاََ نوجوانوں سے جو پاکستان کی تیسری نسل سے تعلق رکھتے ہیں،سے چھپانا ”گناہ کبیرہ“ و اجتماعی گناہ تصور کیا جانا چاہیے۔ 

اس لیے قیام پاکستان پر اُن سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کردار پر روشنی ڈالتا چلوں جو اس پاک خطہ کی مخالفت میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کرتی رہیں۔ کانگرس تقسیم ہند کی سب سے بڑی جماعت تھی۔ کانگرس میں شامل مسلمان جن کی قیادت مولانا ابوالکلام آزاد کررہے تھے۔ مسلم لیگ کے سیاسی نظریے کے خلاف تھے اور متحدہ ہندوستانی نیشلزم کے حامی تھے۔ جمعیت العلمائے ہند کا بڑا حصہ جو مذہبی سکالروں پر مشتمل تھا قیام پاکستان کیخلاف تھا انکی سوچ یہ تھی کہ ہندوستان میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کا دفاع کیا جائے۔ قیام پاکستان کے کٹر مخالف علماءمیں مفتی کفایت اللہ اور مولانا حسین احمد مدنی شامل تھے۔ جمعیت العلمائے ہند کے دو جریدوں مدینہ (بجنور) اور الجمعیت (دہلی) نے کانگرس کا مقدمہ لڑا۔ ایک مستند رپورٹ کے مطابق مولانا کفایت اللہ اور مولانا حسین احمد مدنی نے قائداعظم سے پاکستان کا مقدمہ لڑنے کیلئے چندہ طلب کیا اور قائداعظم کے انکار پر وہ کانگرس کے اتحادی بن گئے۔ مجلس احرار اسلامی نے عطاءاللہ شاہ بخاری اور چوہدری افضل حق کی قیادت میں مسلم لیگ کی مخالفت کی۔ مجلس احرار ہندوستان کی آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے جدوجہد کررہی تھی اس نے کانگرس کا ساتھ دیا۔

ان کے علاوہ” خدائی خدمت گار“ (ریڈشرٹ) جو خان عبدالغفار خان خیبر پختونخواہ میں بااثر تھے اور مہاتما گاندھی سے متاثر تھے۔ قیام پاکستان کے سخت مخالف تھے۔ خان عبدالغفار خان کو ”سرحدی گاندھی“ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ خدائی خدمت گار تنظیم کا بنیادی سیاسی فلسفہ انسانیت کی خدمت اور عدم تشدد تھا۔ علامہ عنایت اللہ مشرقی کی سربراہی میں قائم کی گئی ”خاکسار تحریک“ بھی مسلم لیگ کی نظریاتی مخالف تھی۔ خاکسار اسلامی روایات کے احیاءکیلئے جدوجہد کرتے تھے۔ خاکسار تحریک کے ترجمان جریدے الاصلاح (لاہور) نے پنجاب میں مسلم لیگ کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ ”جماعت اسلامی“ جس کے بانی مولانا ابوالاعلیٰ مودودی تھے دو قومی نظریے کے حامی تھے مگر مسلم لیگ کے مخالف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلم لیگ کی قیادت اسلامی ریاست قائم نہیں کرسکے گی۔ پنجاب میں یونی نیسٹ پارٹی جس پر ہندو اور مسلمان جاگیرداروں کی بالادستی تھی مسلم لیگ کی مخالف تھی۔ 

الغرض یہ بہت بڑا اور شدید محاذ تھا، یہ محاذ پوری شدت کے ساتھ پاکستان کے مطالبے کے خلاف اس قدر شدت اختیار کر چکا تھا کہ بسا اوقات قائداعظم ؒ بھی پریشان ہو جاتے کہ وہ ہندوﺅں اور انگریزوں کا مقابلہ تو کر سکتے ہیں مگر ان کا مقابلہ واقعی بحران کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ اور چونکہ ہماری قوم کے سامنے ”مذہب“ کے نام پر جو چیز پیش کی جاتی ہے اُس کا بڑا اثر ہوتا ہے، اور مذہب کے علمبردار اور نمائندگان یہی افراد(علماءکرام) سمجھے جاتے ہیں( اُس وقت بھی یہی حالات تھے لہٰذاآج بھی یہی حالات ہیں )اس لیے مذہب کے بارے میں بات کرنا، لوگوں کو اُکسانہ، اُن کے جذبات کے ساتھ کھیلنا، املاک کو نقصان پہنچانا یا کسی تحریک کو کامیاب کرنے کے لیے مذہب کا استعمال کرنا اور اس کے پسندیدہ نتائج حاصل کرنا سب سے آسان کام ہے اور رہا بھی ہے۔ لہٰذاآپ غور کیجیے کہ اس وقت جب عوام میں اتنا شعور نہیں تھا اور مذہب اور فرقے کی بنیاد پر تمام علماءکرام پاکستان کی مخالفت میں اکٹھے ہوں، اور اُن کے پراپیگنڈہ اور مشینری کی یہ کیفیت ہو کہ پورے ملک میں ہر شہر میں، ہر گاﺅں میں ہر محلے و گلی میں ایک ہی نہیں دو دو چار چار مساجد ہوں اور وہ مسجدیں ان کے پراپیگنڈے کا مرکز ہوں تو کیسے ممکن ہے کہ آپ بچ سکیں !

اُس وقت جو بات ایک مسجد میں کہی جاتی تھی، اگلے جمعہ تک تمام مساجد کے خطبات کو موضوع بن جاتی تھی۔ میں یہ بات دعوے سے کہتا ہوں کہ اس قدر سستا اور تیز پراپیگنڈہ دنیا کی کسی سلطنت میں استعمال نہیں ہوا گا۔ مثلاََ جن دنوں قائداعظم کے خلاف مذہبی جنونیت عروج پر تھی اُنہی دنوں قائد اعظم کی شادی ایک پارسی خاتون سے ہونا تھی، پورے ملک میں اس کے چرچے ہوگئے، قائداعظم کی آخری شرط یہ تھی کہ وہ خاتون مسلمان ہو جائے گی تو شادی کروں گا ، اس پر بھی بہت ہنگامہ آرائی ہوئی لیکن آخر کار اُس خاتون کو وہ شرط ماننا پڑی ۔ وہ خاتون اسلام لائی، مسجد میں نکاح ہوا، اور شرع محمدی کے مطابق ہوا، اس کا نکاح نامہ آج بھی موجود ہے ۔ یہ خبر اخباروں میں بھی شائع ہوئی،کہ قائد اعظم کی بیگم نے اسلام قبول کر لیا ہے وغیرہ وغیرہ مگر ایک خاص حلقے کی جانب سے قائد اعظم کی مخالفت جاری رہی اور اُن کے خلاف اس شادی کو لے کر بھی خوب پراپیگنڈہ کیا گیا۔ مثلاََ اس وقت یہ شعر ہر بچے کی زبان پر تھا کہ 

اک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا گیا

یہ قائد اعظم ہے یا ہے کافر اعظم 

بہرکیف جس شخص کے بارے میں پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہو تو اس حوالے سے وہی شخص بات کر سکتا ہے جس پر گزر رہی ہو۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی قائد اعظم پر یہ الزامات لگا کرتے تھے کہ ان کی داڑھی نہیں ہے، یہ سوٹڈبوٹڈ ہے، مغرب زدہ ہے، انگلینڈ پلٹ ہے تو اسے اسلام کا کیا علم ہوگا۔ لہٰذایہ جو حکومت قائم کریں گے وہ مسلمانوں کی ”کافرانہ حکومت“ ہوگی ۔مگر سلام مسلم لیگ کے رہنماﺅں پر جنہوں نے قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ علامہ اقبال مسلم لیگ کی فکری رہنمائی کرتے رہے۔ تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ کے جن رہنماﺅں نے قائداعظم کا ساتھ دیااُن کا ذکر بھی اس موقع پر ضرور کیا جانا چاہیے ان میں نواب زادہ لیاقت علی خان، نواب اسماعیل خان (یوپی)، افتخار حسین ممدوٹ، ممتاز دولتانہ، راجہ غضنفر علی خان (پنجاب)، حاجی عبداللہ ہارون، غلام حسین ہدایت اللہ، ایوب کھوڑو (سندھ)، قاضی محمد عیسیٰ، جعفر جمالی(بلوچستان)، سردار عبدالرب نشتر، خان عبدالقیوم خان، پیر آف مانکی شریف (خیبرپختونخواہ)، خواجہ ناظم الدین ، حسین شہید سہروردی، اکرم خان، مولوی تمیزالدین (مشرقی پاکستان) شامل تھے۔ آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن، پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن آل انڈیا مسلم ویمن آرگنائزیشن نے مسلم لیگ کا پیغام بھارت کے کونے کونے میں پہنچایا۔

 

قصہ مختصر یہ کہ پاکستان بن گیا بہت سی مذہبی جماعتوں نے پاکستان کو دل سے تسلیم کر لیا، جماعت اسلامی نے بھی پاکستان بننے کے بعد نہ صرف صدق دل سے اسے قبول کیا بلکہ اُنہوں نے بے شمار قربانیاں بھی دیں۔ جس کی مثال بنگلہ دیش میں پاکستان بننے کی پاداش میں اور پاکستان کے مزید ٹکڑے ہونے سے بچانے کی غرض سے آج بھی جماعت اسلامی(بنگلہ دیش) کے رہنماﺅں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں۔ جبکہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ بعض جماعتیں جو قیام پاکستان کی سخت مخالف تھیں آج بھی ویسا ہی رویہ رکھتی ہیں ، نہ جانے یہ بات اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں کو نظر کیوں نہیں آتی، نہ جانے کیوں یہ لوگ آج بھی پاکستان کے لیے ویسے ہی مسائل کھڑے کر رہے ہیں جیسے قائد اعظم اور ”قیام پاکستان“ کے لیے کھڑے کیا کرتے تھے۔ لہٰذاعوام کو آنکھیں کھول لینی چاہیے اور پہچاننا چاہیے کہ ہمارا دشمن کون ہے؟ کس کی وجہ سے آج تک پاکستان پھل پھول نہیں سکا۔ اور کس کی وجہ سے پاکستان ہمیشہ بیک فٹ پر چلا جاتا ہے لہٰذااگر آج ہم نے غور نہ کیا تو یقینا تاریخ ہمیں بھی کبھی معاف نہیں کرے گی!