!ملک کے ایک درجن صوبے بنا دیں، پھر دیکھیں


یہ سوال مسلسل میرے اعصاب پر سوار ہے کہ جب ملک میں زبردست انتظامی مسائل کا سامنا ہے تو نئے ”انتظامی یونٹ“ یا صوبے کیوںنہیںبنائے جارہے؟ کیا وجہ ہے کہ ہرحکمران صوبے بنانے کے عمل میں ہچکچاہٹ محسوس کر تا آ رہا ہے؟ آخر کوئی تو فائدہ ہے جس کی بنا پر سرکاری اداروں سے سیاسی اثرو رسوخ ختم ہوتا دکھائی ہی نہیں دے رہا۔ آج ملک میں سیلابی کیفیت تو ہے ہی ساتھ شہروں کے اندرونی انتظامی حالات بھی کچھ اچھے نہیں ہیں، برسات کی بارشوں نے ہر سال کی طرح اس سال بھی ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر کے انتظامی معاملات کا پول کھول دیا ہے۔ صوبہ سندھ کو دیکھ لیں ایک بارش سے ہر شہر پانی کا جوہڑ بنا ہوا ہے، بالخصوص کراچی و حیدر آباد جیسے شہروں سے کئی دن بعد بھی پانی کی نکاسی عمل میں نہیں لائی جا سکی، عوام چیخ چیخ کر حکومت کو پکار رہے ہیں مگر ادارے ہیں کہ اُن کا رونا دھونا ہی ختم نہیں ہو رہا۔ کہیں فنڈز نہ ہونے کا رونا تو کہیں لیبر کی قلت۔ کہیں مشینری کا فقدان تو کہیں نیتوں میں کھوٹ۔ ظاہر ہے جب اختیارات شہریوں اور علاقوں کی پہنچ سے بہت دور ہوں گے تو ایسے ہی مسائل جنم لیتے ہیں۔ 

حالانکہ یہ وہی شہر قائد ہے جو قیام پاکستان کے وقت برصغیر کا سب سے صاف ستھرا اور پرفضاءشہر تھا۔لیکن آج وہاں ایک طرف ڈوب مرنے کے لئے پانی کی فراوانی ہے جبکہ دوسری طرف لوگ پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں۔ پھر کراچی کی سڑکوں کے نام ہی نہیں شہر کاCharm چرا کر اسے چراگاہ اور چائنا کٹنگ کا شہکار بنا دیا گیا۔ آج یہ ایک بہت بڑا ”ڈسٹ بن“ بن چکا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب جوانی کے دنوں میں میں کراچی جایا کرتا اور آوارگی کیلئے نکلتا تو کراچی طلسماتی سا لگتا، ایک عجیب سا بھیگا بھیگا رومانس اس کی فضاﺅں میں تھا، پھر انہی فضاﺅں میں دہشت اور خون کی بورچتی چلی گئی ۔ایک وقت تھا جب کراچی کے تمام ادارے بہت زیادہ فعال تھے، کراچی کی مثالیں دی جاتی تھیں، سیوریج کا نظام بہت بہتر تھا۔ الغرض پورے ملک میں سب سے زیادہ فعال اور ایماندار ادارے کراچی ہی کے تھے تبھی ایک عرصہ تک یہ شہر پاکستان کا دارلحکومت رہا۔ 

 لیکن یکایک کراچی کے حالات کو نظر لگ گئی ، کراچی کی روشنیاں ماند پڑنے لگیں، یہ وہ دور تھا جب ضیاءالحق نے غیر جماعتی الیکشن کی بنیاد رکھی ۔ اُس وقت کراچی میں 79، اور 83کابلدیاتی الیکشن جماعت اسلامی جیت گئی جس سے کراچی میں اُن کا میئر منتخب ہوا۔ جماعت اسلامی نے جنرل ضیاءالحق کا چونکہ ”بائیکاٹ“ کر رکھا تھا اس لیے اُس کا زور توڑنے کے لیے جنرل ضیاءالحق نے ”ایم کیو ایم“ بنائی ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہرشہر نہ رہا بلکہ مقتل گاہ بن گیا۔ یہاں بہت سے علاقے ”سٹیٹ ان دی سٹیٹ“ بن گئے، بہت سے نو گو ایریاز بن گئے ، پھر بعد میں ایم کیو ایم کے مبینہ ظلم و زیادتی سے بچنے کے لیے بہت سے لسانی گروپ تشکیل دیے گئے، جن میں پختوانخواہ محاذ، بلوچ موومنٹ، پاک مسلم گروپس وغیرہ بھی شامل ہیں، لیاری وغیرہ ان گروپس کے گڑھ سمجھے جانے لگے ۔ اس دوران بہت سے سانحات نے جنم لیا، ہزاروں لوگ مارے گئے، ٹارگٹ کلنگ عروج پر تھی، سانحہ بلدیہ ٹاﺅن جیسے واقعات بھی سب کے سامنے ہیں ۔پھر کراچی جیسے شہر میں ”را“ کی انٹری ہوئی اور ایک منظم سازش کے تحت اس شہر کے تمام ادارے تباہ کر دیے گئے۔ یعنی یہ وہ وقت تھا جب کراچی سے لوگ دوسرے شہروں میں شفٹ ہونا شروع ہوگئے تھے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، جسے کراچی میں زیادہ سیٹیں نہیں ملتیں ، اور گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سندھ کے وزراءکا کراچی سے شاید ہی تعلق ہوتا ہے جس کی وجہ سے کراچی اُن کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتا۔اور اداروں کی تباہی کی ایک وجہ وہاں سیاسی کھینچا تانی بھی ہے یعنی کراچی پر اس وقت پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور کنٹونمنٹ کا ادارہ بیک وقت حکومت کر رہے ہیں۔

خیر بات ہو رہی تھی ملک کو بارہ سے زائد حصوں میں تقسیم کرنے کی تو ایسا کرنے سے یقینا صوبائی اُجارہ داری ضرور ختم ہوگی، مقابلے کا رجحان بڑھے گا، کرپشن میں کمی آئے گی، زیادہ سے زیادہ لیڈر شپ اُبھر کر سامنے آئے گی، انتظامی معاملات میں بہتری آئے گی، لوگوں کو انصاف ملے گا، روز گار کے مواقع زیادہ میسر آئیں گے، اُجارہ داری کا خاتمہ ہوگا، لسانیت بھی ختم ہوگی اورملک قوم پرستی سے بھی آزادی حاصل کر سکے گا۔ ویسے میرے خیال میں یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا مگر گزشتہ 72اور بالخصوص گزشتہ 30، 35سال میں خود ہم نے کیا کیا؟ ہماری اجتماعی کارکردگی کیسی رہی اور اگر کوئی غیرجانبدار، دیانتدار ممتحن ہماری پرفارمنس کی مارکنگ کرے تو ہمیں کتنے مارکس دے گا؟ یقینا صفر مارکس ہی دے گا! خیر چھوڑیں ان باتوں کو بقول شاعر 

حادثہ تھا گزر گیا ہو گا

کس کے جانے کی بات کرتے ہو

چند سادہ بے ضرر سی باتوں پر غور کرتے ہیں۔انگریز اس خطے میں آیا، وہ ہرعلاقے کے الگ انتظام پر یقین رکھتا تھا ، مان لیا کہ وہ غاصب اور ولن تھا، لیکن سوچنے کی بات ہے کہ اُس نے ہندوستان کو 40سے 50حصوں میں تقسیم کیوں کیا ہوا تھا؟ صرف اس لیے کہ بہترین اور کنٹرولڈ انتظامات ہی سے اچھی حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ وہ چھوٹے یونٹ بنا کر زیادہ آسانی سے حکومت کرتا تھا۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ برصغیر میں گورا کبھی ایک لاکھ سے زیادہ نہیں رہا۔1850ءمیں انگلینڈ کی آبادی صرف 1کروڑ 66لاکھ تھی جبکہ چشم بددور 1850ءمیں ہی متحدہ ہندوستان کی آبادی 20کروڑ سے زیادہ تھی۔انگلینڈ کا اپنا ذاتی سائز صرف 50ہزار 385 مربع میل تھا جبکہ یہاں وہ تقریباََ10لاکھ مربع میل پر قابض رہا، خطہ کو بہت کچھ دیا اور بہت عمدگی سے چلایا بھی۔انگریز جاتے جاتے جیسی ریلوے دے گیا تھا، آج بھی ویسی ہی ہے ۔ اقتصادی حوالوں سے گورا ہم پر کتنا ”قرضہ“ چھوڑ گیا تھا؟ انگریز نے جو بیورو کریسی چھوڑی وہ ہماری ”ایجاد کردہ“ موجودہ بیورو کریسی سے کم قابل، ذمہ دار، محنتی اور دیانت دار تھی ۔جبکہ ہمارے لوگ ملک لوٹ کر مال باہر لے جاتے رہے۔ سیانوں سے سنا کہ انگریزکی گورننس میں کوئی درخت کی شاخ تک کاٹنے کی جرا¿ت نہ کرتا لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے جنگل کے جنگل ہی بیچ کھائے ہوں۔نہری نظام تب کیسا تھا؟ اب کیسا ہے؟ اس میں پھیلاﺅ آیا یا سکڑاﺅ؟ خود مجھے یاد ہے بچپن میں نہروں کے کنارے دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے اور آج؟آج کراچی ہی کو دیکھ لیں سو فٹ چوڑے نالے کے آس پاس آبادیاں اور فلیٹ بنا کر اُسے محض 20فٹ کا رہنے دیا۔ جن کی کھڑکیوں سے شہر قائد کے باسی (معذرت کے ساتھ) اپنی قوت بازو سے کوڑے سے بھرے شاپر نالے میں پھینک کر چیک کرتے ہیں کہ اُن کا شاپر کتنی دور تک گیا ہے!کیا یہ سب کچھ انتظامی غفلت کا نتیجہ نہیں! اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کراچی جیسا شہر پاکستان کو سب سے بڑا شہر ہونے کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا مرکز ہے تو جب کراچی کے ڈوبنے کا منظر یا کچرے کا منظر پوری دنیا دیکھتی ہوگی تو کیا آپ جانتے ہیں کہ اس سے پورے ملک پر کیا اثر پڑتا ہے۔ 

 

عرض کرنے کا مطلب یہ کہ اگر ہم نے حق آزادی ادا کرتے ہوئے اعلیٰ طریقہ سے پرفارم کیا ہوتا،آغاز ہی میں ملک کے چھوٹے چھوٹے یونٹس بنائے ہوتے، ملکی وسائل پر ہاتھ صاف نہ کئے ہوتے تو ملک کی حالت مختلف ہوتی ۔ اورچھوٹے یونٹس کے فارمولے کے تحت اگر 50ہزار 385مربع میل کا انگلینڈ لاکھوں مربع میل پر صرف 1لاکھ گورے کے ساتھ قابض ہو سکتا ہے (باقی دنیا علیحدہ) تو ہم بھی چھوٹے چھوٹے یونٹ بنا کر وطن عزیز کی نسلوں کو سنوارنے کے لیے کام کر سکتے ہیں۔ آپ ان سب کو چھوڑیں ہمارے پیارے نبی نے فرمایا کہ چھوٹی چھوٹی بستیاں بساﺅ۔اب واضح طور پر سمجھ آتا ہے کہ چھوٹی بستیوں میں تمام امور بہت احسن طریقے سے چلائے جا سکتے ہیں اور کسی قسم کی شرانگیزی ، بدعنوانی اور اخلاقیات کی خلاف ورزی پر بھی فوری کاروائی ممکن ہوسکتی ہے ، اور انصاف کرنا انتہائی آسان ثابت ہوسکتا ہے۔لہٰذاپاکستان کے چاروں صوبوں کو انتظامی لحاظ سے مزید تقسیم کیا جانا چاہئے اور بلدیاتی نظام کو بھرپور فعل بناکر ان شہروں میں موجود بلدیاتی اداروں کو چلانے کیلئے انہیں فنڈز ملنے چاہئیں۔ ایسا کرنے سے یقینا نہ تو علی زیدی جیسے فکر مند سیاستدانوں کو صفائی کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی دوسری تنظیموں کو اپنی مشینری استعمال کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اگر ادارے فعال ہوں گے، اداروں سے سیاست ختم ہوگی تو یہ تواتر سے کام کریں گے اور میری رائے میں اگر ہم نے ملک کو مختلف یونٹس میں تقسیم کرنے کے عمل کو آج پھر نظرانداز کر دیا تو یقیناہم کبھی مسائل کی دلدل سے نہیں نکل سکیں گے!!