!حکومت کا ایک سال، ابھی چار باقی ہیں


بہترین و مثالی جذبات اوربے چینی کی ملی جلی کیفیت، پسینے سے چمکتا چہرہ، الجھا لباس اوربال۔ یہ وہ حالات تھے جن میں عمران خان نے گزشتہ سال 25 جولائی کو انتخابات جیتنے کے بعد قوم سے خطاب کیا تھا۔

 

ان کی اس افتتاحی تقریر میں غریبوں اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کا ذکر تھا، ٹیکس اصلاحات اور بچت کے منصوبے تھے، قومی یکجہتی اور امن کے دعوے تھے، اپوزیشن سے انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات میں تعاون اور پڑوسی ملکوں بشمول انڈیا کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے ایک کے مقابلے میں دو قدم بڑھانے کے وعدے اور دوست ممالک جیسے کہ سعودی عرب اور ایران کے اندرونی و علاقائی مسائل کے حل میں مدد کے لیے فراغ دلانہ پیشکشوں کے ساتھ ساتھ وزیراعظم اور گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیاں بنانے کے ارادے تھے۔

یعنی عوام بہت خوش نظرآئے کہ چلو کم از کم ایک رہنما تو ایسا ملا جسے عام لوگوں کی فکر ہے، ملک میں تبدیلی آنے کی امید پیدا ہوئی، کرپشن اور کرپٹ لوگوں سے نجات ملے گی۔حامی توایک طرف، مخالفین نے بھی کہا کہ اگر عمران خان اپنی کہی ہوئی تمام باتوں پر عمل کرجاتے ہیں تو پاکستان کے لیے اس سے اچھی کوئی بات نہیں ہو سکتی۔

 

 

عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تو اندازہ ہو کہ یہ پھولوں کی سیج نہیں ہے ۔کیوں کہ انھیں بے پناہ معاشی و اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، خالی خزانے، بیرونی قرضوں کی بھاری اقساط کا بوجھ سمیت بہت سے مسائل منہ پھاڑے کھڑے تھے۔ لیکن پورے سال کی محنت کے بعد دیر سے ہی سہی، ملک میں کچھ معاشی ٹھہراؤ آیا ہے ، لیکن معیشت کو مکمل طور پر کھڑا کرنے کے لیے پاکستانی عوام کو اگلے دو سال مزید مالی مشکلات سے گزرنا پڑے گا، جس کے بارے میں عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد تنبہیہ کر دی تھی۔

اس ایک سال میں خارجہ میدان میں بھی حکومتی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا، روس، ملائیشیا اورقطر جیسے ممالک سے تعلقات کی از سرنو تشکیل کو کامیابی قرار دی جا رہی ہے،اس کے علاوہ عمران خان حکومت کی سب سے بڑی کامیابی فوج کے ساتھ کامیاب شراکت داری ہے اور ایک پیج پر ہونا ہے۔ اور اب آرمی چیف کی ایکسٹینشن بھی اس بات کا ثبوت ہے ۔ البتہ کشمیر کے معاملے پر ہمیں فرنٹ فٹ پر کھیلنے کی ضرورت ہے کیوں کہ حال ہی میں انڈیا کی طرف سے کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کر کے اس کو انڈین یونین کا علاقہ بنانے سے بھی عمران خان حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے اور اس سے نہ صرف یہ کہ انھیں ایک نئی سفارتی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے بلکہ کنٹرول لائن پر بھی ایک مکمل روایتی فوجی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

موجودہ حکومت کے پہلے سال کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ عمران خان نے اپنے اہداف کے حصول کے لیے متعدد ٹاسک فورسزبنائیں جن میں سول سروسز ریفارمز، ری اسٹرکچرنگ، بچت، احتساب، صحت، سیاحت، ماحولیات، گھروں کی تعمیر اور کھیلوں کے شعبوں کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورسز نمایاں ہیں۔ لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود ان میں سے کسی بھی کمیٹی نے کوئی قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا، لہٰذااگلے چار سالوں میں انھیں بھی ہلانے جلانے کی ضرورت رہے گی۔تاہم عمران خان کے شروع کیے گیے چند بڑے منصوبے جن میں ’’پاکستان سیٹیزن پورٹل‘‘، ’’ہیلتھ کارڈ‘‘،’ ’احساس پروگرام‘‘ اور’’نیا پاکستان ہاوسنگ اسکیم‘‘ شامل ہیں، میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ایپلی کیشن کے ذریعے کی جانیوالی بیشترشکایات کا حل کم سے کم وقت میں مہیا کر دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک سال میں تحریکِ انصاف کی حکومت نے  بڑی کامیابیاں بھی سمیٹیں ہیں جن میں قبائلی علاقوں کو خیبر پختون خوا کا حصہ بنایا گیا، سابق فاٹا میں پہلی بار الیکشن کرائے گے، کرتارپور راہداری کھولنے پر عمران خان کے وژن کو دنیا بھر میں سراہا گیا، ساتھ ہی بے گھر افراد کے لیے نیا گھر ہاؤسنگ اسکیم اور شیلٹر ہومز کی بنیاد رکھی گئی۔ ٹیکس چوری روکنے کے لیے ٹھوس پالیسیاں بنائی گئیں۔ 175 ممالک کے لیے آسان ویزا پالیسی متعارف کرائی گئی، اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے وزارت داخلہ نے مربوط اقدامات کیے اور وزارت اطلاعات میں سوشل میڈیا کا ونگ قائم کیا گیا۔ آلودگی کو کم کرنے کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے کروڑوں نئے درخت لگانے کی پالیسی اور شاپنگ بیگز پر پابندی کا فیصلہ بھی مثبت اقدامات ہیں۔

اپوزیشن کا الزام ہے کہ ’’پی ٹی آئی کے پہلے سال میں مہنگائی، بے روزگاری اور قرضوں میں اضافہ ہوا۔ کوئی گھر بنا نہ کسی کو نوکری ملی‘‘۔ پہلے تین عذابوں کے لیے تو یہ خود ذمے دار ہیں ۔بہرکیف یہ بات واضح ہے کہ حکومت کی کارکردگی جاننے کے لیے ایک سال کا عرصہ کافی نہیں ہے۔ اگر ہمیں عمران خان کے ویژن پر عملدرآمد کا جائزہ لینا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کی حکومت کے پانچ سال پورے ہونے کا انتظار کریں اور اس کے بعد دیکھیں کہ ان کے ’’نئے پاکستان‘‘ کے فلسفے نے ہمیں کیا دیا ہے، اور ہم سے کیا چھینا ہے۔لہٰذااگلے چار سالوں میں اگر حکومت درج ذیل کام کردے تو یقینا دوبارہ کرپٹ لوگ اقتدار میں نہیں آسکیں گے مثلاََ میٹرک تک مفت تعلیم کر دی جائے، سرکاری ونجی تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب اورسرکاری اسکولوں کی حالت زار بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹرین کے نظام کو بہتر کرنا زیادہ اہم ہے، غریب کو آٹا چاول، دالیں، دودھ، سبزی کی مناسب داموں میں فراہمی بہت ضروری ہے، تھانہ کلچر اور انصاف کی فراہمی کے معاملات پر توجہ دینا ضروری ہے، صفائی کا بہترانتظام،اور ان سب سے زیادہ اہم اور عوامی جذبات سے ہم آہنگ ’’سویلین شہداء‘‘ کے لیے فنڈ قائم کرکے کوئی ایک دن بھی مختص کرنا اہم ہے، یہ وہ امور ہیں جن پر حکومت کی رقم زیادہ خرچ نہیں ہونی  لیکن اس کے نتائج بہترین نکلیں گے۔پٹرول، ڈیزل، بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافہ، ٹیکسوں کا نفاذ وقت کی ضرورت کے تحت تسلیم کیا جاسکتا ہے لیکن شاید حکومت یہ بھول گئی کہ فقط سختیاں نہیں، سہولیات کی فراہمی بھی ضروری ہوتی ہے۔ جن پر تاحال کوئی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔

 

بہرحال محترم وزیراعظم! سادگی کا اصول بھی اگلے چار سال تک جاری رکھیں۔ خدارااگلے آنے والے سالوں میں مہنگائی کے اِس طوفان کو روکیں کیونکہ یہ سونامی سب کو بہا لے جائے گا۔ اب تو دواؤں کی قیمتیں اتنی اُوپر چلی گئی ہیں کہ اگلے چار سالوں میں یہ نیچے آتی نظر نہیں آرہی ، اگر میرا یہ خدشہ درست ہے تو بقول شاعر

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

 

منصف ہو تو اب حشر اٹھاکیوں نہیں دیتے