!دینی مدارس : پاکستان کا روشن مستقبل


پانچ صدیاں قبل مسلمانوں کا کیا سنہرا دور ہو کرتا تھا جب دنیا ہمارے سائنسدانوں کی تقلید کیا کرتی، ان کی ایجادات سے مستفید ہوتی ،اسے کاپی کرتی،پھر انہیں اپنے تعلیمی اداروں میں ان کے موجدین کے نام کے ساتھ پڑھاتی جس سے مسلمانوں کے سینے چوڑے ہو جایا کرتے۔ اور جس طرح آج ہم انگریز کا بنایا ہوا نصاب پڑھتے ہیں، اسی پر عمل پیرا ہو کر بچوں کو سائنس، ریاضی اور انگریزی جیسی تعلیم دیتے ہیں بالکل اسی طرح دنیا کی تمام قومیں مسلمانوں کا تیار کردہ نصاب پڑھاتیں، اُن پر عمل کرتیں اور انہیں رشک کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ حتیٰ کہ غیر مسلم ممالک اخلاقیات کے مضامین میں بھی ہمارے صحابہ کرامؓ اور آخری پیغمبر حضرت محمد کی نسبت سے واقعات تحریر کرتے اور ان کی ترویج بھی کرتے۔یہ اُس دور کے وہ سائنسدان تھے جنہوں نے انسانی ترقی کی راہیں دریافت کر کے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ ان میں عمر خیام(ریاضی)، الکندی(فزکس)، البیرونی(جغرافیہ)، ابن قرائ(ریاضی)، ابن الہیشم(فزکس)، الخوارزمی(طب)، ابن سینا(طب)، جابر بن حیان(کیمیائ)، الخوارزمی(ریاضی)، محمد ابن زکریا(طب)وغیرہ شامل ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تمام سائنسدان دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلباءتھے۔ اور بعض نے تو اپنے مضامین میں مناسب تعلیم بھی حاصل نہیں کی تھی مگر محض سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت نے انہیں بام عروج پر پہنچا دیا۔ ان میں سے تو بیشتر کی ایجادات آج بھی دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہیں مثلاََ الخوارزمی کو آج بھی یورپ میں ”فادر آف سرجری“ کا خطاب دیا جاتا ہے۔ البیرونی کو آج بھی حیرت سے دنیا دیکھتی ہے کہ اُس نے ہزار سال پہلے دنیا کا قطر(Radius ) معلوم کر لیا تھا۔ ابن قراءکے ایجاد کردہ نمبرز آج ہر پڑھے لکھے اور ان پڑھ کی زبان پر ہیں اور ابن الہیثم کی ایجاد ”پن ہول کیمرہ“ نے تو دنیا کی ہر چیز کو محفوظ کر لیا ہے۔ 

 پھر پانچ صدیاں پہلے ہوا کچھ یوں کہ آہستہ آہستہ ہماری ترجیحات، انرجی، فکر، قوت الغرض سب کچھ فرقہ پرستی اور دیگر غیرضروری امور پر خرچ ہونے لگا اور ہم دنیا سے کٹتے چلے گئے، رہتی سہتی کسر عثمانی دورخلافت میں پریس پر پابندی لگا کر نکال دی گئی جب یورپ کو آگے نکلنے کا موقع مل گیا۔ افسوس کہ آج حالات یہ پیدا ہوگئے یا کر دیے گئے کہ دنیاہمارے اسلامی ملکوں کے مدارس کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے، اور ہم محض صفائیاں پیش کرتے رہتے ہیں کہ یہ مدارس ماضی میں دنیا کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ یہی حال ہمارے پاکستانی مدارس کا بھی ہے جنہیں دنیا سمجھتی ہے کہ اس میں تعلیم حاصل کرنے والے ”طلباءمستقبل کے ”دہشت گرد“ ہیں۔ان کا یہ الزام ہے کہ ”طالبان“ بھی انہیں مدارس کی پیداوار ہیں جو دنیا کو جہنم بنانے کا اردہ رکھتے ہیں ۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ یہ دنیا کو جدیدیت کی طرف لے جانے کے بجائے اسے دوبارہ پتھرکے زمانے میں دھکیل رہے ہیں۔ 

جبکہ دوسری طرف ان مدارس کی نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں، کیوں؟ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ حکومت کے زیر سایہ نہیں ہےں؟ ان کا نصاب جدید تقاضوں کو پورا نہیں کر رہا۔ اُن مدارس کا مثبت چہرہ دکھانے والا کوئی نہیں ہے۔ الغرض وہ کیا پڑھاتے ہیں؟ بچے کیا سیکھتے ہیں؟ اساتذہ کیا ڈلیور کرتے ہیں؟ کسی کو علم نہیں ہے۔ ہاں! ماضی میں ہر حکومت نے اس حوالے سے بہت سے اعلانات بھی کیے کہ وہ مدرسہ سسٹم میں فلاں بہتری لا رہے ہیں، نصاب سازی کر رہے ہیں یا ان مدارس میں زیر تعلیم طلباءکو رجسٹرڈ کر رہے ہیںمگر ہر حکومت انہیں سیاست میں ملوث کرتی رہی جس سے یہ لوگ ”ملا یا مولوی“ کہلائے۔ اور نصاب سازی کا عمل کھٹائی میں پڑتا رہا۔جبکہ موجودہ سول و عسکری قیادت بھی اعلان کر چکی ہے کہ وہ مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے لیے عملی اقدامات کر ے گی اسی سلسلہ میں 20 اگست 2019 کو جی ایچ کیو میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مدارس میں دلچسپی دکھاتے ہوئے ان کے ان طلبا و طالبات سے میٹنگ کی جنہوں نے میٹرک کے امتحانات میں مختلف امتحانی بورڈز سے پوزیشن حاصل کی تھی۔ میٹنگ میں وفاق المدارس پاکستان کے بارہ جبکہ رابط المدارس کے ایک طالب علم کو اعزازی شیلڈز اور انعامات سے نوازا گیا۔

میرے خیال میں آرمی چیف کا یہ اچھا اقدام ہے، انہیں اندازہ ہے کہ پاکستان کا یہ وہ حصہ ہے جسے ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، انہوں نے ان مدارس کو قومی دھارے میں لانے کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا اور نیک و پرجوش عزائم کا بھی اعادہ کیا ہے۔ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہے کہ ان مدارس کے حوالے سے کسی کو فکر ہوئی ہو۔ جنرل ضیاءالحق نے بھی دینی مدارس کی سند کو گریجویشن اور ماسٹرز کے مساوی قرار دیا تھا۔جنرل پرویز مشرف نے بھی یہی کیا تھا۔ لیکن افسوس دینی مدارس کو اب تک قومی دھارے میں شامل نہیں کیا جا سکا۔

افسوس اس بات کا نہیں کہ مدارس قومی دھارے میں کیوں نہیں آسکے بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ ان ڈیڑھ کروڑ بچوں کے مستقبل کے بارے میں کوئی فکر مند نہیں جو کم و بیش 50ہزار رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔ یہ مدارس گلی محلے، شہر، گاﺅں، دیہات ہر جگہ آپ کو کھلے نظر آئیں گے۔ ان مدارس میں سے بیشتر زکوٰة سے چلائے جاتے ہیں۔ اگر رجسٹرڈ مدارس کی بات کریں تو ان کی تعداد لگ بھگ 30ہزار کے قریب ہے۔ وفاق المدارس سے 18600 مدارس کا الحاق ہے، جن میں20لاکھ کے قریب طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں۔بریلوی مدارس کی تنظیم کو ”تنظیم المدارس“ کہا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ 10ہزار مدارس کا الحاق ہے جہاں کم و بیش 14 لاکھ کے قریب طلبہ زیر تعلیم ہیں، جماعت اسلامی کے تحت چلنے والے مدارس کے وفاق کا نام”رابطہ المدارس الاسلامیہ پاکستان“ ہے۔ اس تنظیم کے تحت 1110 مدارس چل رہے ہیں،ان مدارس میں سے450 ادارے طالبات کے لیے ہیں۔ اہل حدیث مکتبہ فکر کے تحت 1400 مدارس چلائے جا رہے ہیں۔ ان کی وفاقی تنظیم کو وفاق المدارس السلافیہ کہا جاتا ہے۔ ان میں 50ہزار کے قریب طلبہ پڑھتے ہیں۔ اہل تشیع مکتبہ فکر کے پاکستان میں کل 500 مدارس ہیں۔ ان مدارس میں 20ہزار تک طلبا زیر تعلیم ہیں۔جبکہ دیگر تنظیموں کے مدارس کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ان میں منہاج القرآن، جماعت الدعوة، دارلعلوم کراچی، جامعہ حفصہ (لال مسجد) شامل ہیں۔ 

اب مسئلہ یہ ہے کہ ان مدارس کو جب بھی قومی دھارے میں لانے کی کوشش ہوتی ہے تو حکومتیں کسی ایک فرقہ کے مدرسہ کو اعتماد میں لیتی جبکہ باقیوں کو بھول جاتی ہے، جس سے احتجاج شروع ہو جاتے ہیں اورمعاملات کھٹائی میں پڑ جاتے ہیں ۔ حالانکہ میری ذاتی رائے میں ان مدارس کے طلباءعام طلباءسے زیادہ ذہین و فطین ہوتے ہیں آپ اندازہ کر لیں کہ ترکی کے صدر اردگان مدرسے کے پڑھے ہوئے ہیں، وہ اپنے ملک کو کہاں سے کہاں لے گئے ہیں۔ کرغستان کے صدر سورونبائی جینبیکوف بھی دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہیں۔ اُنہوں نے اپنے ملک میں بہت سی فائدہ مند اصلاحات کی ہیں۔ لیکن یہاں ان طلباءکوہر ادارے میں نظر انداز کیا جا تا رہا ہے ، حالانکہ اگر ان کا نصاب دین اور دنیاوی لحاظ سے متوازن ہو تو یہ طلباءقانون، اکنامکس، سیاسیات، نفسیات ، سائنس، بیوروکریسی، الغرض ہر کام میں آگے آسکتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ یہ ایک ڈیڑھ کروڑ طلبہ بھی سائنسی مضامین میں آگے آئیں، اپنی کھوئی ہوئی میراث حاصل کریں ۔ آج اس کمرے میں کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں جو کسی مسلمان نے ایجاد کی ہو۔ ہم نے گزشتہ پانچ سو سال میں انسانیت کی خدمت کیلئے کوئی ایجاد نہیں کی، انجکشن نہیں بنایا، ٹیبلٹ نہیں تیار کی حالانکہ گیارہ صدیوں تک ہمارا عروج رہا ، آپ دیکھ لیں دنیا کے اربوں ڈالر کے پراجیکٹس میں سے آج کوئی بھی مسلمان خالق نہیں ہے، گوگل، یوٹیوب، فیس بک، مائیکروسوفٹ، ایمیزون، وٹس ایپ، ٹک ٹاک، الغرض کوئی بھی اربوں ڈالر کے بڑے پراجیکٹ کا خالق مسلمان نہیں ہے۔ دنیا میں جتنی میڈیسن بن رہی ہےں اُن کا خالق مسلمان نہیں ہے۔ جتنی بائیو میڈیکل ترقی ہو رہی ہے اُس کا خالق کوئی مسلمان نہیں ہے۔ جتنے ہتھیار بن رہے ہیں اُن کا خالق مسلمان نہیں ، آج اگر اسلامی دنیا ”مودی“ سرکار کی طرف راغب ہو رہی ہے تو ہمیں تنقید کی بجائے سوچنا چاہیے کہ ہم کہاں غلط ہیں؟ اس پر خیر پورا کالم لکھنے کی ضرورت ہے مگر یہاں صرف یہی کہنا چاہوں گا کہ ہمارے نصاب میں کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے،ہمارے ہاں ٹیلنٹ میں کوئی کمی نہیں ہے۔

آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم” مسلمان ملک“ تو بڑے زور شور سے کہلاتے ہیں اور یہ بھی کہتے نہیں تھکتے کہ ہم ایک واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہیں مگر دنیا کی بہترین اسلامی یونیورسٹیوں میں ہماری ایک بھی یونیورسٹی نہیں آتی۔ کیوں نہیں آتی؟ صرف اس لیے کہ ہم جدید نصاف کو فالو نہیں کر رہے ، دنیا کی بہترین اسلامی یونیورسٹی جامع الاظہر (مصر)کیوں بہترین ہے صرف اس لیے کہ وہاں دینی کے ساتھ دنیاوی تعلیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ وہاں کا فتویٰ پوری دنیا میں اسی لیے تسلیم کیا جاتا ہے کیوں کہ وہ جدید عصری تقاضوں کے عین مطابق ہوتا ہے۔ آپ دیگر بہترین اسلامی یونیورسٹیاں کنگ عبدالعزیزیونیورسٹی، الیگزینڈر یونیورسٹی مصر، کائرو یونیورسٹی مصر، کنگ فہد یونیورسٹی، یونیورسٹی آف جورڈن وغیرہ ایسی یونیورسٹیاں ہیں جن کا نصاب وہاں کی ریاست اور دنیا کی جدید یونیورسٹیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ہمارے مدرسے بھی تعلیم کے فروغ میں بہترین اقدام اُٹھاتے ہوئے اس حوالے سے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کو فالو کر سکتے ہیں، یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام یونیورسٹیاں بے حیائی ہی سکھاتی ہیں، بلکہ اُن اداروں سے غیر اخلاقی چیزیں آپ Pickنہ کریں مگر اُن کی تحقیق کا طریقہ کار تو فالو کر سکتے ہیں۔ 

 

میرے خیال میں اگر دینی مدارس کسی ڈسپلن میں آجائیں ، اگر ان کا نصاب لکھا ہوا آجائے تو یہ ملک میں کا رآمد بن سکتے ہیں۔ کتنا اچھا ہوتا کہ یہاں سے سائنسدان نکلتے، کیوں کہ حقیقت ہے کہ اگر آپ سائنس میں مقابلہ نہیں کریں گے تو دنیا میں بہت پیچھے رہ جائیں گے اور نہ ہی دنیا میں سر اونچا کرکے پھرنے کا خواب پورا ہوسکتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ دینی مدارس دنیا کی اہم زبانیں سیکھیں، کسی زبان کا سیکھنا کفر نہیں ہے، انگلش سیکھیں جیسے مولانا محمد علی جوہر، مولانا مودودی ، سرسید احمد خان وغیرہ نے سیکھی تاکہ آپ اپنا پیغام دنیا تک پہنچا سکیں۔ اپنی فٹنس، صحت کا خیال رکھیں، کھیل کود میں حصہ لیں، ہر مسلمان کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔ کرکٹ، فٹ بال کھیلیں۔ ہمارے اور مدارس کے درمیان جو غیر فطری دوری پیدا ہو گئی ہے، اسے ختم ہونا چاہیے ۔ اس کے ساتھ ساتھ سارے ملک کے اداروں میں عام تعلیم کا یکساں نظام اور نصاب رائج کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے بغیر ملک میں صحت مند معاشرے کا قیام ممکن نہیں۔ ملک میں انگریزی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ عام پرائیویٹ اور سرکاری اداروں کا نظام تعلیم ہی نہ صرف یکساں ہونا چاہئے‘ بلکہ ان سب کا نصاب تعلیم بھی متوازن اور اعتدال پر مبنی ہونا چاہئے تاکہ ایک جمہوری اور اسلامی معاشرے کے قیام کیلئے ضروری سہولتیں پیدا کی جاسکیں۔ ہمارے ہاں عدم برداشت‘ انتہا پسندی‘ دہشت گردی اور معاشرتی عدم مساوات اور عدم تفاوت دور کرنے کیلئے یکساں نظام تعلیم نہایت مفید اور معاون ثابت ہوگا۔جب ہماری آئندہ نسلیں یکساں نظام تعلیم کے تحت تعلیم حاصل کریں گی تو پھر معتدل اور متوازن معاشرہ کا قیام ممکن ہوگااور پاکستان کا مستقبل روشن ہو سکے گا۔